لاہور: انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) لاہور نے 9 مئی 2023 کے جلاؤ گھیراؤ کے دو اہم مقدمات میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کے خلاف سخت فیصلہ سناتے ہوئے انہیں 10، 10 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی ان رہنماؤں کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ روز سنایا گیا، جس کے بعد عدالت نے سزاؤں پر عملدرآمد کے لیے جیل وارنٹس جاری کر دیے ہیں۔
عدالت کے مطابق، ملزمان کے خلاف مقدمات تھانہ شادمان اور تھانہ سرور روڈ میں درج کیے گئے تھے، جو 9 مئی 2023 کو لاہور میں ہونے والے پرتشدد واقعات سے متعلق ہیں۔ ان واقعات میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، گاڑیوں اور تھانہ شادمان کو آگ لگانے جیسے الزامات شامل ہیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے کوٹ لکھپت جیل میں مقدمات کی سماعت مکمل کی اور تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں یہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق صوبائی وزیر، کو 10 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اسی طرح سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سینیٹر اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید کو بھی 10 سال قید اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ سزا یافتہ افراد کی جائیدادوں کی ضبطی کے احکامات فوری طور پر نافذ کیے جائیں گے، جبکہ سزاؤں پر عملدرآمد کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کو وارنٹس بھیج دیے گئے ہیں۔
9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری کے بعد پاکستان بھر میں پی ٹی آئی کے حامیوں نے شدید احتجاج کیا تھا۔ لاہور میں یہ احتجاج پرتشدد شکل اختیار کر گیا، جہاں مظاہرین نے مسلم لیگ (ن) کے دفتر، راحت بیکری کے باہر گاڑیوں، اور تھانہ شادمان کو نذر آتش کیا۔ اس کے علاوہ، کور کمانڈر ہاؤس (جناح ہاؤس) پر حملہ اور راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کے گیٹ کو توڑنے جیسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 1900 افراد کو گرفتار کیا تھا۔
عدالت نے ان مقدمات کی سماعت کے دوران 61 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، جبکہ ملزمان کے وکلاء نے حتمی دلائل پیش کیے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ان مقدمات کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر مکمل کیا گیا تاکہ جلد فیصلہ سنایا جا سکے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے مطابق، یہ سزائیں انصاف کے تقاضوں کو پورا کیے بغیر دی گئیں اور یہ عدلیہ پر عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ یہ فیصلے متنازع ہیں اور ان سے عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے شفاف ٹرائل کے حق کی بات کی اور کہا کہ ایک ہی کیس کو مختلف عدالتوں میں تقسیم کرنا آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔
یہ فیصلہ پاکستان کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کا یہ اقدام پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف سخت کارروائی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جو 9 مئی کے واقعات کے بعد سے دباؤ میں ہے۔ تجزیے کے مطابق، ان سزاؤں اور جائیدادوں کی ضبطی کا مقصد نہ صرف ملزمان کو سزا دینا ہے بلکہ سیاسی طور پر پی ٹی آئی کو کمزور کرنا بھی ہے۔ تاہم، اس فیصلے سے سیاسی پولرائزیشن مزید بڑھ سکتی ہے، کیونکہ پی ٹی آئی کے حامی اسے سیاسی انتقام کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔





















