بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے خلاف بلاول بھٹو کا اقوام متحدہ میں جانے کا اعلان

یہ تنظیمیں نہ صرف معصوم شہریوں کو ہدف بناتی ہیں بلکہ دشمن ملکوں کی سازشوں میں بھی شریک ہوتی ہیں

حیدر آباد:چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وہ کوشش کریں گے کہ بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے بھی رجوع کیا جائے۔

انہوں نے دہشت گرد عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کی سطح پر کالعدم قرار دلوانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔ خان بہادر حسن علی آفندی پارک کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ یہ تنظیمیں نہ صرف معصوم شہریوں کو ہدف بناتی ہیں بلکہ دشمن ملکوں کی سازشوں میں بھی شریک ہوتی ہیں، لہٰذا عالمی ادارے سے ان پر پابندی لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بلاول نے امریکہ کی جانب سے ان گروہوں کو دہشت گرد تسلیم کرنے کو پاکستان کی سفارتی فتح قرار دیا، کیونکہ یہ عناصر مزدوروں اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے حالیہ تنازعات میں کھلے عام مودی حکومت کی حمایت کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے بھارتی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی دریائے سندھ کا پانی روکنے کی دھمکیوں سے باز نہیں آ رہا، تاہم سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق بھارت کو پاکستان کا جائز حصہ فراہم کرنا ہوگا۔ دریائے سندھ کو پاکستانی قوم کی شریان حیات قرار دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے پر تمام شہریوں کو متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے۔ عالمی پانی کی قلت کے بحران کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول نے جدید زرعی طریقوں جیسے ڈریپ ایریگیشن کو اپنانے کی تجویز پیش کی، جو پانی کی بچت اور وسائل کی حفاظت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

صوبائی حقوق پر بات کرتے ہوئے پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ صوبوں کو ان کا آئینی شیئر ملنا لازمی ہے، اور نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو ہر پانچ سال بعد جاری کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی ٹیکس محکمے کی ناکامی کی سزا صوبوں پر نہ ڈالنے کی اپیل کی۔ 27 ویں آئینی ترمیم کے بارے میں انہوں نے واضح کیا کہ حکومت یا کسی سیاسی جماعت نے پیپلز پارٹی سے کوئی مشاورت نہیں کی، اور یہ سب افواہوں پر مبنی خبریں ہیں۔

سندھ پیپلز ہاؤسنگ سکیم کو کرپشن فری اور شفاف قرار دیتے ہوئے بلاول نے بتایا کہ یہ پروگرام لاکھوں خاندانوں کو گھر فراہم کر رہا ہے، اور ہر کوئی اس کی معلومات آن لائن حاصل کر سکتا ہے۔ یہ منصوبہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خواب "روٹی، کپڑا اور مکان” کی زندہ مثال ہے۔ انہوں نے فخر سے کہا کہ پی پی پی نے سندھ میں سب سے زیادہ سکول، ہسپتال اور یونیورسٹیوں کا جال بچھایا ہے، اور موجودہ معاشی دباؤ کے باوجود ہر ضلع میں اعلیٰ تعلیم کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ نوجوان اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکیں۔ حیدرآباد میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر وفاق نے اسے نظر انداز کیا تو سندھ حکومت سیالکوٹ کی طرح خود یہ پروجیکٹ شروع کرنے پر غور کرے گی۔

رنگ روڈ پروجیکٹ کو عوامی فلاح کا بڑا سنگ میل قرار دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ حیدرآباد میں ترقی کی لہر پہلی بار تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ ماضی کی حکومتوں نے بلدیاتی اور صوبائی سطح پر رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ اب عوام کی طرف سے دیے گئے مینڈیٹ کی بدولت پی پی پی پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو بہترین سہولیات دیں۔ میئر حیدرآباد اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے دو سالوں میں مزید پروجیکٹس مکمل ہوں گے، اور صاف پانی کی فراہمی میں واضح بہتری آئے گی۔

یہ بیان بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی حکمت عملی کا ایک جامع عکس ہے، جو دہشت گردی کے خلاف قومی اتحاد، علاقائی حقوق، اور ترقیاتی ایجنڈے کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔ پس منظر میں دیکھیں تو بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) ایک بلوچ علیحدگی پسند تنظیم ہے جو 2000 کی دہائی سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہے، خاص طور پر بلوچستان اور سندھ میں۔ مجید بریگیڈ اس کا ایک ذیلی گروپ ہے جو خودکش حملوں کے لیے بدنام ہے۔ 2019 میں امریکہ نے بی ایل اے کو عالمی دہشت گرد فہرست میں شامل کیا، جو پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تھی، کیونکہ اسلام آباد طویل عرصے سے الزام لگاتا رہا ہے کہ بھارت ان گروہوں کو خفیہ طور پر سپورٹ کرتا ہے۔ بھارت پاکستان تنازعہ کے تناظر میں، خاص طور پر 2019 کی پلومہ حملے کے بعد، بی ایل اے نے مودی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جو بلاول کے بیان کو مزید وزن دیتا ہے۔ اقوام متحدہ سے پابندی کی کوشش پاکستان کی اس کوشش کا تسلسل ہے کہ وہ ان تنظیموں کو عالمی سطح پر تنہا کرے، جیسا کہ پہلے تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروہوں کے ساتھ کیا گیا۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین