لیڈی ڈاکٹر کی مبینہ غفلت سے اسکول ٹیچر جاں بحق؛ لواحقین کی اعلیٰ سطحی کارروائی کی اپیل

شوہر کے بقول معاملہ عدالت کے سامنے لایا گیا جس نے پولیس کو مکمل انکوائری کی ہدایت دی

پشاور(محمد کاشف جان) بازی خیل، درہ آدم خیل (ایف آر کوہاٹ) سے تعلق رکھنے والے شمس الرحمن نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی اہلیہ، 33 سالہ اسکول ٹیچر نجمہ پروین، کے ڈلیوری آپریشن میں اختیار کی گئی مبینہ غفلت کے باعث طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں، تاہم متعلقہ اداروں کی سطح پر انہیں انصاف میسر نہیں آیا۔

واقعے کی روداد

شمس الرحمن کے مطابق 26 جنوری 2023 کو ان کی اہلیہ کو پشاور کے خیبر میڈیکل سینٹر، ڈبگری گارڈن لے جایا گیا، جہاں گائناکالوجسٹ ڈاکٹر صمدانہ وہاب نے ڈلیوری آپریشن کیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ آپریشن سے قبل تحریری اجازت نامہ اور دستخط حاصل نہیں کیے گئے اور اسی روز بعد از آپریشن کی بنیادی نگہداشت کو نظر انداز کیا گیا۔

صحت بگڑنے کا سلسلہ

اہلِ خانہ کا موقف ہے کہ آپریشن کے بعد صفائی و دیکھ بھال کے تقاضے پورے نہ ہونے سے مریضہ کو شدید مثانے کی بندش اور پیشاب میں رکاوٹ کا مسئلہ درپیش ہوا۔ بعد ازاں انہیں مرسی ہسپتال ریفر کیا گیا، جہاں حالت سنبھلنے کے بجائے گردوں کی خرابی کی علامات بڑھتی گئیں۔ شمس الرحمن کے بقول آئندہ قرابتاً دو برس تک ڈائلیسز جاری رہا—جس میں مرسی ہسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس اور دیگر مراکز میں علاج شامل تھا—لیکن بالآخر نجمہ پروین جانبر نہ ہو سکیں۔

تدریسی خدمات اور خاندانی پس منظر

شمس الرحمن نے بتایا کہ مرحومہ ڈبل ایم اے تھیں اور گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول، بازی خیل میں تدریسی فرائض انجام دے رہی تھیں۔ ان کے انتقال کے بعد کمسن بچے ماں کی شفقت سے محروم ہو چکے ہیں، جسے وہ خاندانی سانحہ قرار دیتے ہیں۔

قانونی چارہ جوئی اور درپیش مشکلات

شوہر کے بقول معاملہ عدالت کے سامنے لایا گیا جس نے پولیس کو مکمل انکوائری کی ہدایت دی۔ شمس الرحمن نے الزام لگایا کہ انکوائری آگے بڑھنے پر انہیں سائبر کرائم کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا، کالعدم تنظیموں سے روابط کے الزامات عائد کیے گئے اور دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ڈاکٹر کے خلاف اپنے الزامات واپس لے لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ساری کشمکش کے دوران ان کے خلاف بھتہ خوری جیسی نسبتیں بھی لگائی گئیں، جبکہ دوسری طرف ان کی اہلیہ کے کیس کی انکوائری کی رپورٹ منظرِ عام پر نہیں لائی جا رہی۔

مطالبات

شمس الرحمن نے وزیراعظم پاکستان، گورنر خیبرپختونخوا، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا، ڈی جی ہیلتھ، سیکرٹری ہیلتھ اور ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی سے اپیل کی کہ ڈاکٹر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے، طبّی لائسنس معطل یا منسوخ کیا جائے اور زیرِ استعمال کلینک سیل کیا جائے تاکہ—ان کے الفاظ میں—مزید جانوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس معاملے میں عملی پیش رفت سے گریزاں ہے اور انہیں متعلقہ فورمز پر بارہا دادرسی کے لیے جانا پڑ رہا ہے۔

لواحقین کی فریاد

پریس کانفرنس کے دوران شمس الرحمن نے کہا کہ انصاف کے حصول کی کوشش پر انہیں کبھی حراست اور کبھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ ان کے بچے ماں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کے مطابق جب تک ذمہ داری کا تعین اور قانون کے مطابق کارروائی نہیں ہوتی، وہ آواز بلند کرتے رہیں گے۔

پس منظر

پاکستان میں صحت کے شعبے سے متعلق شکایات عام طور پر دو راستوں سے نمٹائی جاتی ہیں:

ریگولیٹری/انتظامی عمل—جس میں متعلقہ صوبائی ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹیز یا کمیشنز کے تحت انکوائری کمیٹیاں تشکیل پاتی ہیں، ریکارڈ، آپریشن نوٹس، نرسنگ شیٹس، انفیکشن کنٹرول لاگز اور ڈسچارج سمریز کا جائزہ لیا جاتا ہے، اور ضرورت پڑنے پر آزاد میڈیکل بورڈ سے رائے لی جاتی ہے۔

فوجداری/دیوانی کارروائی—جہاں ایف آئی آر، فرانزک ثبوت، میڈیکو لیگل آراء اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر عدالتیں فیصلے کرتی ہیں، جب کہ ہرجانے کے دعوے دیوانی دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

اس تناظر میں ’مطلع رضامندی‘ (Informed Consent)، بعد از آپریشن انفیکشن کنٹرول، ڈسچارج کاؤنسلنگ اور بروقت ریفرل بنیادی معیارات سمجھے جاتے ہیں۔ کسی بھی شکایت میں ان امور کی دستاویزی جانچ اس لیے لازم ہوتی ہے کہ ذمہ داری کی نوعیت—غلطی، غفلت یا مذموم ارادہ—کا قانونی تعین کیا جا سکے۔

یہ کیس تین بڑے سوالات اٹھاتا ہے:

1) رضامندی اور ریکارڈ کی سالمیت

شکایت کا محور یہی ہے کہ آپریشن سے قبل تحریری اجازت اور دستخط موجود نہیں تھے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ تشویشناک کمی شمار ہوگی۔ لیکن اس کا حتمی جواب صرف اصل فائل، کنسینٹ فارم، اور آپریٹو نوٹس کے محفوظ ریکارڈ سے مل سکتا ہے۔ یہاں ادارہ جاتی ریکارڈ مینجمنٹ اور آڈٹ کی حیثیت فیصلہ کن ہے۔

2) بعد از آپریشن نگہداشت اور سببِ وفات کا ربط

لواحقین صفائی اور دیکھ بھال کے فقدان کو گردوں کی خرابی سے جوڑتے ہیں۔ طبی نقطۂ نظر سے پیشاب کی بندش، انفیکشن اور سیپٹک پیچیدگیاں گردوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں، مگر اس نسبت کو قانونی طور پر ثابت کرنے کے لیے کارن آف ڈیتھ، ٹائم لائن آف سمپٹمز، لیب رپورٹس، کلچر/سینسٹیویٹی، اور نیفرولوجی نوٹس کی باہمی مطابقت درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے آزاد میڈیکل بورڈ کی رائے اکثر فیصلہ کن ٹھہرتی ہے۔

3) انصاف تک رسائی اور دباؤ کے الزامات

شمس الرحمن کا کہنا ہے کہ ان پر مفاد پرست مقدمات بنا کر دباؤ ڈالا گیا۔ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ نہ صرف انصاف کے عمل پر سوال ہے بلکہ شکایت کنندہ کے شہادتی اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔ اس مقام پر دو نکات لازمی ہیں:

انکوائری—چاہے پولیس کرے یا ریگولیٹری باڈی—کو غیر جانبدار اور شفاف ہونا چاہیے، اور نتائج تحریری صورت میں فریقین کو مہیا ہوں۔

اگر واقعی ہراسانی یا بے جا مقدمہ بازی ہوئی ہے تو اس کے لیے علیحدہ انکوائری ٹریک اختیار کیا جانا چاہیے تاکہ اصل طبی معاملہ غیر متعلقہ تنازعات کے نیچے نہ دب جائے۔

وسیع تر پہلو

یہ سانحہ ہمارے صحت کے نظام میں پیشنٹ سیفٹی، انفیکشن کنٹرول، دستاویزی نظم اور اکاؤنٹیبلٹی کے دائروں میں موجود کمزوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ:

فوری طور پر ریکارڈ محفوظ کیا جائے (آپریشن تھیٹر لاگ بک، نرسنگ شیٹس، ادویات کا ریکارڈ، ریفرل نوٹس)؛

آزاد ماہرین پر مشتمل میڈیکل بورڈ سے کازل لنک کے بارے میں واضح، سائن شدہ رائے لی جائے؛

پولیس/استغاثہ، ریگولیٹری اتھارٹی اور ہسپتال انتظامیہ ایک مشترکہ ٹائم لائن تیار کریں؛

تمام فریقین—بالخصوص بچوں کے مفاد—کو سامنے رکھتے ہوئے قانونی عمل کو غیر ضروری تاخیر اور دباؤ سے پاک رکھا جائے۔

اس کیس میں لواحقین کی طرف سے عائد الزامات سنگین ہیں اور انہیں محض انتظامی خط و کتابت سے نمٹانا مناسب نہیں ہوگا۔ فیصلہ اسی وقت معتبر ہوگا جب دستاویزات، فرانزک شواہد اور ماہرین کی غیر جانبدار رائے ایک ہی سمت اشارہ کریں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، خبر کے دائرے میں اسے ’مبینہ غفلت‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے—لیکن ریاستی اداروں پر لازم ہے کہ وہ شفاف، تیز کاروائی سے حقیقت تک پہنچیں، تاکہ ایک خاندان کو انصاف اور سماج کو اعتماد واپس مل سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین