صحت مند زندگی کے لیے خوراک کا انتخاب ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ایک تازہ رپورٹ نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ہماری غذائی عادات پھیپھڑوں کے کینسر جیسے جان لیوا مرض کے خطرات کو بڑھانے یا کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ غذائی اجزاء جسم میں سوزش، آکسیڈیٹو تناؤ، اور مدافعتی نظام کی کارکردگی پر گہرا اثر ڈالتے ہیں، جو کینسر کے امکانات کو متاثر کر سکتے ہیں۔
غذائیں جو پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ کم کرتی ہیں
ماہرین کے مطابق، ایسی غذائیں جو اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوں، پھیپھڑوں کے کینسر سے تحفظ فراہم کر سکتی ہیں۔ رنگ برنگے پھل اور سبزیاں، جیسے گاجر، ٹماٹر، بروکلی، پالک، اور شملہ مرچ، وٹامن سی، وٹامن ای، اور بیٹا کیروٹین سے مالا مال ہوتے ہیں۔ یہ اجزاء جسم کے خلیوں کو ڈی این اے کے نقصان سے بچاتے ہیں، جو کینسر کی ابتدائی وجوہات میں سے ایک ہے۔
اسی طرح، اومیگا-3 فیٹی ایسڈز، جو مچھلی (جیسے سالمن اور میکریل)، اخروٹ، اور فلیکس سیڈز میں پائے جاتے ہیں، سوزش کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سوزش کا کم ہونا کینسر کے خلیات کی افزائش کو روک سکتا ہے۔ فائبر سے بھرپور غذائیں، جیسے دالیں، سارا اناج (ہول گرین)، اور اوٹس، آنتوں کے مائکرو بایوم کو بہتر بناتی ہیں، جو مدافعتی نظام کو مضبوط کر کے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہیں۔
خاص طور پر، گرین ٹی نے اپنے کینسر مخالف اثرات کی وجہ سے سائنسدانوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ گرین ٹی میں موجود کیٹیچنز (Catechins)، جیسے ایپی گیلوکیٹیچن گیلیٹ (EGCG)، طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس ہیں جو خلیوں کو نقصان سے بچاتے ہیں اور کینسر کے خلیات کی نشوونما کو روکنے میں مدد دیتے ہیں۔ جاپان اور چین میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، روزانہ گرین ٹی پینے والوں میں پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ 18 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔
غذائیں جو کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں
دوسری جانب، کچھ غذائیں پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔ پروسیسڈ گوشت، جیسے ساسیجز، بیکن، اور برگر، اور سرخ گوشت (گائے یا بکرے کا گوشت) میں موجود نائٹریٹس اور ہائی ٹمپریچر پر پکانے سے بننے والے کیمیکلز، جیسے ہیٹروسائیکلک امائنز (HCAs)، پھیپھڑوں کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) نے پروسیسڈ گوشت کو "کارسنجن” قرار دیا ہے، جو کینسر کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
اسی طرح، زیادہ شکر اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، جیسے سافٹ ڈرنکس، سفید ڈبل روٹی، کیک، اور دیگر میٹھے اسنیکس، انسولین کی سطح میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ اضافہ کینسر کے خلیات کے پھیلاؤ کو تیز کر سکتا ہے، کیونکہ کینسر کے خلیات شکر پر تیزی سے بڑھتے ہیں۔ زیادہ نمک والی غذائیں، جیسے منجمد کھانے یا ڈبہ بند اشیا، اور کیمیائی پرزرویٹوز سے بھرپور کھانے سوزش کو بڑھاتے ہیں، جو پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔
ٹرانس فیٹس، جو فاسٹ فوڈ، فرائیڈ اسنیکس، اور مارجرین میں پائے جاتے ہیں، نہ صرف سوزش کو بڑھاتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو کمزور بھی کرتے ہیں۔ امریکن کینسر سوسائٹی کے مطابق، ٹرانس فیٹس کا زیادہ استعمال کینسر سمیت دیگر دائمی بیماریوں کے خطرات کو بڑھاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر ایکس، پر لوگوں نے اپنی غذائی عادات پر غور کرنا شروع کر دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "گرین ٹی کے فوائد جان کر حیرت ہوئی! اب روزانہ ایک کپ پینا شروع کروں گا۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "فاسٹ فوڈ اور پروسیسڈ گوشت سے پرہیز کرنا ہوگا، یہ ہماری صحت کا دشمن ہے۔” کچھ صارفین نے پاکستانی کھانوں میں آلو اور گوشت کے زیادہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور صحت مند متبادلات پر زور دیا۔
یہ رپورٹ پھیپھڑوں کے کینسر جیسے سنگین مرض سے بچاؤ کے لیے غذائی عادات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ہر سال 18 لاکھ سے زائد افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں، جہاں تمباکو نوشی اور ماحولیاتی آلودگی پھیپھڑوں کے کینسر کی بڑی وجوہات ہیں، غذائی انتخاب اس خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گرین ٹی کے کینسر مخالف اثرات، خاص طور پر اس میں موجود کیٹیچنز، ایک امید افزا دریافت ہیں۔ یہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک عملی مشورہ ہے، کیونکہ گرین ٹی ایک سستی اور آسانی سے دستیاب مشروب ہے۔ اس کے علاوہ، پھل اور سبزیوں سے بھرپور غذا اپنانا، خاص طور پر مقامی طور پر دستیاب اشیا جیسے گاجر، پالک، اور شملہ مرچ، کینسر سے بچاؤ کے لیے ایک سادہ لیکن موثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔
تاہم، چیلنجز بھی موجود ہیں۔ پاکستان میں فاسٹ فوڈ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، خاص طور پر نوجوان نسل میں، پروسیسڈ گوشت اور شکر سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بڑھا رہی ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی کھانوں میں تلی ہوئی اشیا اور گوشت کا زیادہ استعمال بھی تشویش کا باعث ہے۔ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے مہمات اور تعلیمی پروگرامز کی ضرورت ہے جو لوگوں کو صحت مند کھانوں کی طرف راغب کریں۔
یہ رپورٹ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ صحت ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں، جیسے گرین ٹی کا استعمال، فاسٹ فوڈ سے پرہیز، اور پھل و سبزیوں کو غذا کا حصہ بنانا، نہ صرف پھیپھڑوں کے کینسر بلکہ دیگر دائمی بیماریوں سے بھی بچا سکتی ہیں۔ پاکستانی معاشرے کو اس تحقیق سے فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی غذائی عادات پر نظرثانی اور صحت مند طرز زندگی کو اپنانے کی ضرورت ہے۔





















