اترپردیش/میرٹھ — ریاست اُترپردیش کی رہائشی 35 سالہ سرویش میں حمل کی ایسی غیرمعمولی کیفیت سامنے آئی جس نے ماہرینِ طب کو حیران کر دیا: جنین کی افزائش بچہ دانی کے بجائے جگر میں ہو رہی تھی۔ اس کیفیت کو میڈیکل زبان میں انٹرا ہیپٹک ایکٹوپک پریگنینسی کہا جاتا ہے، اور دنیا بھر میں اس کی مثالیں انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔
گھر کی فضا، درد کا مسلسل سایہ
صحافی کی آمد پر سرویش اپنے کمرے میں پلنگ پر دراز تھیں، کمر کے گرد ایک مضبوط بیلٹ بندھی ہوئی تھی تاکہ حرکت کے دوران تکلیف کم رہے۔ ان کے دائیں بالائی پیٹ میں اکیس ٹانکوں کا نشان نمایاں تھا۔ ڈاکٹرز نے وزن اٹھانے پر پابندی لگائی ہے، آرام کو ترجیح دینے اور ہلکی خوراک اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ روزمرہ کے کام—کروٹ بدلنا، غسل خانے تک جانا، کپڑے تبدیل کرنا—اب شوہر پرم ویر کی مدد سے انجام پاتے ہیں۔
بیماری کی شروعات
سرویش کے مطابق ابتدا میں قے، غیر معمولی تھکن اور مسلسل درد نے معمولاتِ زندگی کو بے ترتیب کر دیا۔ معالج کے مشورے پر پہلا الٹراساؤنڈ کرایا گیا، مگر رپورٹ سے بات واضح نہ ہوئی اور انہیں پیٹ کے انفیکشن کے لیے ادویات دی گئیں۔ ایک ماہ تک علاج کے باوجود افاقہ نہ ہوا تو دوبارہ الٹراساؤنڈ تجویز ہوا—اور وہیں سے معاملہ نیا رخ اختیار کر گیا۔
“بچہ آپ کے جگر میں ہے”
الٹراساؤنڈ کرنے والی ڈاکٹر ثانیہ زہرہ نے حیرت انگیز انکشاف کیا کہ جنین بچہ دانی کے بجائے جگر میں دکھائی دے رہا ہے۔ مزید تصدیق کے لیے جوڑا قریبی شہر میرٹھ پہنچا جہاں دوسری بار الٹراساؤنڈ کے ساتھ ایم آری آئی بھی کرائی گئی۔ ایم آر آئی کے ماہر ڈاکٹر کے کے گپتا کے بقول ان کے بیس سالہ پیشہ ورانہ کیریئر میں ایسا منظر پہلی بار دیکھا گیا: بارہ ہفتوں کا فیٹس جگر کے دائیں حصے میں تھا اور دل کی دھڑکن واضح تھی۔ ان کے مطابق اس طرح کے کیسز میں بعض خواتین باقاعدہ خون رِسنے کو معمول کی ماہواری سمجھ بیٹھتی ہیں، اسی لیے حمل کا سراغ تاخیر سے ملتا ہے۔
“سرجری کے سوا کوئی راستہ نہیں
ڈاکٹرز نے خاندان کو باور کرایا کہ وقت بڑھنے کے ساتھ جگر کے پھٹنے اور جان لیوا بلیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے فوری آپریشن ضروری ہے۔ بلند شہر میں متعدد ماہرین نے پیچیدگی کے باعث کیس لینے سے معذرت کی، میرٹھ میں بھی یہی اندیشہ سامنے آیا، جب کہ دہلی ریفر کرنے کی رائے اخراجات اور رسائی کے باعث قابلِ عمل نہ رہی۔ طویل جستجو کے بعد میرٹھ کے ایک نجی اسپتال میں سرجنز کی ٹیم نے آپریشن پر آمادگی ظاہر کی۔
ڈیڑھ گھنٹے کی نہایت نازک جراحی
سرجری ٹیم کی رکن ڈاکٹر پارول داہیا نے بتایا کہ مریضہ کے پاس الٹراسونوگرافی اور ایم آر آئی کی واضح رپورٹس موجود تھیں جن سے تشخیص میں مدد ملی۔ سینیئر سرجن ڈاکٹر سنیل کنول کی سربراہی میں حساس آپریشن ڈیڑھ گھنٹے جاری رہا۔ ڈاکٹر کے کے گپتا نے اس مداخلت کی ویڈیو اور جنین کی تصاویر بھی ریکارڈ کیں، جو بعد ازاں تدریسی و تحقیقی مقاصد کے لیے محفوظ کر لی گئیں۔ فی الوقت سرویش گھر پر آرام کر رہی ہیں اور ان کی عمومی حالت قابو میں بتائی جا رہی ہے۔
انٹرا ہیپٹک ایکٹوپک پریگنینسی کیا ہے؟
عام طور پر فرٹیلائزڈ انڈا فیلوپین ٹیوب کے راستے بچہ دانی میں پہنچ کر چپکتا اور نشوونما پاتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ عمل بگڑ جاتا ہے اور انڈا بچہ دانی تک پہنچنے کے بجائے کسی اور عضو—عموماً ٹیوب، شاذونادر پیٹ کی گہا—یا انتہائی کم مواقع پر جگر کی سطح سے چپک جاتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (بی ایچ یو) کی ڈاکٹر ممتا کے مطابق جگر میں خون کی وافر رسد ابتدائی ایام میں جنین کو عارضی سہارا دے دیتی ہے، لیکن آگے چل کر یہ کیفیت ماں اور بچے دونوں کے لیے شدید خطرات لے آتی ہے اور بالآخر سرجری ناگزیر ہو جاتی ہے۔
بھارت میں کتنے واقعات سامنے آئے؟
’ایمز پٹنہ‘ سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر مونیکا آننت کے مطابق دنیا بھر میں انٹرا ہیپٹک پریگنینسی انتہائی نایاب ہے—ان کے بیان کے مطابق 70 سے 80 لاکھ حمل میں ایک کیس اس نوعیت کا ہوتا ہے، جب کہ مجموعی عالمی رپورٹنگ میں اس سے قبل 45 مثالیں درج ملتی ہیں جن میں تین بھارت سے سامنے آئیں۔ بھارت میں پہلی بار 2012 میں لیڈی ہارڈنگ میڈیکل کالج دہلی میں ایسا معاملہ رپورٹ ہوا، بعد ازاں 2023 میں ایمز پٹنہ میں تیسرا کیس سامنے آیا جس کی نگرانی خود ڈاکٹر مونیکا نے کی۔ تازہ واقعے کی تفصیلات کو بھی سائنسی انداز میں مرتب کر کے طبی جریدے کو بھیجنے کی تیاری جاری ہے۔
خاندان کی آزمائش اور کڑی راہیں
پرم ویر کے مطابق باربار کلینکس کے چکر، مسلسل درد اور غیر یقینی نے گھر والوں کو توڑ کر رکھ دیا۔ معاشی گنجائش محدود ہونے کے باعث بڑے شہروں تک رسائی مشکل تھی، مگر مقامی ٹیم نے ہمت دکھائی اور بالآخر پیچیدہ سرجری ممکن ہو سکی۔ سرویش کو اس وقت آرام، زخم کی حفاظت اور آہستہ روٹین کی تاکید ہے۔
پس منظر
ایکٹوپک پریگنینسی عمومًا فیلوپین ٹیوب میں پائی جاتی ہے، جب کہ ہیپٹک (جگر میں ٹھہرنے والی) صورت ہمارے خطے سمیت دنیا بھر میں انتہائی کمیاب مانی جاتی ہے۔ تشخیص کے لیے الٹراساؤنڈ بنیادی آلہ ہے، تاہم جب تصویر واضح نہ ہو تو ایم آر آئی/سی ٹی جیسے جدید اسکینز کلیدی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ خون کے بہنے، پیٹ/کندھے کے درد، متلی اور کمزوری جیسے اشاروں کو بعض اوقات معمول سمجھ لیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مریض دیر سے اسپتال پہنچتے ہیں۔ پیچیدہ کیسز میں کثیر شعبہ جاتی ٹیم—گائنی، ہیپٹوبیلیری سرجری، اینستھیزیا، کریٹیکل کیئر—کی مشترکہ حکمتِ عملی سے خطرات گھٹائے جاتے ہیں۔ آپریشن کے بعد انفیکشن کنٹرول، ہیماٹولوجیکل مانیٹرنگ اور تغذیہ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاکہ زخم بھرنے اور جسم کی بحالی میں رکاوٹ نہ آئے۔
یہ واقعہ ہمارے طبی نظام کے چار اہم موڑ روشن کرتا ہے:
1) ابتدائی تشخیص کی نزاکت
پہلا الٹراساؤنڈ فیصلہ کن ثابت نہ ہوا، جس نے علاج کو عارضی سمت دی۔ ایسے معاملات میں جہاں علامات پرسِسٹنٹ ہوں اور درد کی نوعیت غیر روایتی ہو، ریپیٹڈ امیجنگ اور ہائی انڈیکس آف سسپیشن جانیں بچا سکتا ہے۔ بسااوقات نارمل ماہواری جیسا خون مریض اور معالج دونوں کو غلط اطمینان دیتا ہے—اس لیے کلینیکل تاریخ اور امیجنگ کو ایک ساتھ پرکھنا لازم ہے۔
2) ریفرل سسٹم اور اخراجات کی رکاوٹیں
بلند خطرے کے باوجود بڑے مراکز تک رسائی میں مالی و جغرافیائی رکاوٹیں آڑے آئیں۔ یہ کہانی یاد دلاتی ہے کہ خطِ اوّل کے ہسپتالوں میں ریفرل کے واضح پروٹوکول، ٹیلی میڈیسن پر مبنی کونسِلٹیٹو نیٹ ورکس اور پیچیدہ کیس فنڈز جیسے اقدامات کتنے ضروری ہیں۔ جب نظام سہارا دیتا ہے تو دہلی پہنچے بغیر بھی جان بچانے والی جراحی ممکن ہو سکتی ہے۔
3) میڈیکل ڈاکیومنٹیشن اور علم میں اضافہ
ڈاکٹرز نے ویڈیو، تصاویر اور کلینیکل ڈیٹا محفوظ کیا—یہ نہ صرف تعلیم و تربیت بلکہ پالیسی سازی کے لیے بھی قیمتی اثاثہ ہے۔ نایاب کیسز کی peer-reviewed اشاعت سے آئندہ ایسی صورتحال میں پراکٹس گائیڈ لائنز بہتر بنتی ہیں، اور غیر یقینی کم ہوتی ہے۔
4) مریض مرکزیت اور مواصلات
خاندان کی ذہنی و جسمانی تھکن اس بات کی متقاضی ہے کہ معالجین خطرات، متبادل راستوں اور اخراجات پر شفاف گفتگو کریں۔ باخبر رضامندی، نفسیاتی سہارا اور بعداز جراحی ہوم کیئر پلان مریض کے اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں اور نتائج بہتر بناتے ہیں۔
حاصلِ کلام
سرویش کا کیس ایک طرف جدید امیجنگ اور ملٹی ڈسپلنری سرجری کی کامیابی کا ثبوت ہے، دوسری طرف یہ ہمارے صحت نظام کے لیے ابتدائی تشخیص، بروقت ریفرل، مالی رسائی اور مضبوط ڈاکیومنٹیشن کی مشترکہ ضرورت پر زور دیتا ہے۔ نایاب ہونے کے باوجود اس طرح کی کیفیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ پیشنٹ سیفٹی محض ایک اصول نہیں، بلکہ ہر قدم پر زندہ حقیقت ہے—اور جب نظام یکجا ہو کر کام کرے تو ناممکن دکھائی دینے والی رکاوٹیں بھی عبور ہو جاتی ہیں۔





















