پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی کریڈٹ ریٹنگ کو CAA2 سے بڑھا کر CAA1 کر دیا گیا ہے
موڈیز کے جاری کردہ بیان کے مطابق پاکستان کی مقامی اور غیر ملکی کرنسی کی کریڈٹ ریٹنگ کو CAA2 سے بڑھا کر CAA1 کر دیا گیا ہے۔
موڈیز نے اپنے اعلامیے میں مزید کہا کہ پاکستان کے کریڈٹ آؤٹ لک کو مثبت سے تبدیل کر کے مستحکم قرار دیا گیا ہے۔
موڈیز کے مطابق، پاکستان کی معاشی پوزیشن، خاص طور پر بیرونی مالیاتی استحکام میں بہتری، اس ریٹنگ اپ گریڈ کی بنیادی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت جاری اصلاحات نے بھی اس فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔
موڈیز نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا، تاہم اسے اپنے سرکاری شراکت داروں کی مسلسل حمایت کی ضرورت ہوگی۔
اس سے قبل، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور جلد ہی کوئی عالمی ایجنسی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کرنے کا اعلان کرے گی۔
پس منظر
پاکستان کی معیشت گزشتہ چند سالوں سے متعدد چیلنجز سے دوچار رہی ہے، جن میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بڑھتا ہوا مالیاتی خسارہ، اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہیں۔ 2022 میں، موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو CAA3 سے CAA2 تک بہتر کیا تھا، جو اس وقت کی معاشی مشکلات کے باوجود ایک مثبت پیش رفت تھی۔ اس وقت پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ ایک توسیعی فنڈ سہولت (Extended Fund Facility) کے تحت مالی امداد حاصل ہوئی، جس نے معاشی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
2023 میں، پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے پروگرام کے تحت معاہدہ کیا، جس کے تحت معاشی اصلاحات کو تیز کیا گیا، خاص طور پر ٹیکس وصولی، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، اور زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی کوششیں شامل ہیں۔ ان اصلاحات نے عالمی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد کی۔ موڈیز کی جانب سے حالیہ اپ گریڈ سے قبل، پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر جون 2025 تک تقریباً 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اس کے علاوہ، پاکستان نے چین، سعودی عرب، اور متحدہ عرب امارات جیسے اتحادی ممالک سے مالیاتی حمایت حاصل کی، جس نے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کیا۔ موڈیز کی حالیہ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ مالیاتی تعاون اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی بدولت پاکستان کی معاشی پوزیشن مستحکم ہو رہی ہے۔
تجزیہ
موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور آؤٹ لک کو مستحکم قرار دینا ایک انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔ یہ اقدام نہ صرف عالمی مالیاتی اداروں کے پاکستان پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہے۔ CAA1 ریٹنگ، اگرچہ اب بھی غیر سرمایہ کاری درجے (non-investment grade) میں ہے، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان معاشی بحالی کے درست راستے پر ہے۔
آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت جاری اصلاحات، جیسے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، توانائی کے شعبے میں سبسڈی کی اصلاح، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، پاکستان کی معاشی بنیادیں مضبوط کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، اتحادی ممالک کی جانب سے مالیاتی حمایت نے پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد دی ہے۔
تاہم، موڈیز نے یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے سرکاری شراکت داروں کی حمایت کی ضرورت رہے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیوں کو مستقل اور شفاف رکھنا ہوگا تاکہ عالمی اعتماد کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔
مجموعی طور پر، یہ اپ گریڈ پاکستان کی معیشت کے لیے ایک سنگ میل ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا رہتا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھتا ہے، تو مستقبل میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یہ نہ صرف ملکی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی راغب کرے گا، جو طویل مدتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔





















