عظیم المرتبت صوفی بزرگ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒ کے 982ویں سالانہ عرس کی پرنور و بابرکت تین روزہ تقریبات کا آغاز آج سے ہو گیا ہےجس کے لیے جامع سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔
اصل نام اور تعارف
لاہور، جو حضرت داتا گنج بخشؒ کی نسبت سے “داتا کی نگری” کہلاتا ہے، ان کا نام علی بن عثمان ہجویری ہے۔ تقریباً ایک ہزار سال قبل وہ افغانستان سے لاہور تشریف لائے اور بھاٹی دروازے کے قریب قیام کیا۔ انہوں نے اپنے اعلیٰ اخلاق اور حسن کردار سے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب کیا۔ ان کی شہرہ آفاق تصنیف “کشف المحجوب” تصوف کے میدان میں ایک معتبر سند تصور کی جاتی ہے۔
زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری
حضرت داتا گنج بخشؒ کے 982 ویں عرس کی تین روزہ تقریبات کا باضابطہ آغاز لاہور میں ہو گیا ہے۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے عرس کی تقریبات کا افتتاح کیا، دربار پر چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان اور صوبائی وزیر بلال یاسین بھی موجود تھے۔حضرت داتا گنج بخشؒ کے عرس کے موقع پر پنجاب سمیت ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ تقریبات 13 سے 15 اگست تک منعقد ہوں گی، جن میں قرآن خوانی، نعت خوانی، اور سماع کی محفلیں اپنے عروج پر ہوں گی۔
لنگر کے انتظامات مکمل
زائرین کی سہولت کے لیے لنگر کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ دودھ کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں، جبکہ مٹھائیوں اور دیگر اشیاء کی دکانیں بھی سجا دی گئی ہیں۔اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے دربار کے اطراف کا معائنہ کیا اور زائرین کے داخلے اور نکلنے کے راستوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
عام تعطیل
داتا دربار جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیا ہے۔ ٹاؤن ہال، بلال گنج، اور کربلا گامے شاہ کے اطراف کے راستوں پر کنٹینرز اور خاردار تاریں لگائی گئی ہیں، تاہم پیدل چلنے والوں اور موٹر سائیکل سواروں کے لیے گزرگاہیں کھلی ہیں۔پنجاب حکومت نے عرس کے موقع پر 15 اگست کو لاہور میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور (ایم سی ایل)، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، ٹیپا، واسا، پی ایچ اے، والڈ سٹی، روڈا، اور ایل ڈبلیو ایم سی زونز میں چھٹی ہوگی، جبکہ سول سیکرٹریٹ اور اس کے ماتحت ادارے کھلے رہیں گے۔ اس سلسلے میں جمعہ کے روز تعطیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
پس منظر
حضرت داتا گنج بخشؒ، جن کا اصل نام علی بن عثمان ہجویری تھا، گیارہویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ تھے۔ وہ 400 ہجری (990 عیسوی) کے لگ بھگ غزنی، افغانستان میں پیدا ہوئے اور بعد میں لاہور تشریف لائے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی تبلیغِ اسلام اور تصوف کی تعلیمات پھیلانے میں گزاری۔ ان کی آمد سے لاہور ایک روحانی مرکز بن گیا، اور آج بھی ان کا مزار لاکھوں زائرین کے لیے زیارت گاہ ہے۔ ان کی تصنیف “کشف المحجوب” نہ صرف برصغیر کی پہلی صوفیانہ کتاب ہے بلکہ تصوف پر ایک جامع دستاویز بھی ہے، جو آج بھی عالم اسلام میں بے پناہ عزت کی حامل ہے۔
حضرت داتا گنج بخشؒ کا عرس ہر سال اسلامی تقویم کے مطابق صفر کے مہینے میں منایا جاتا ہے، جو عیسوی تقویم کے مطابق اگست یا ستمبر میں ہوتا ہے۔ گزشتہ برسوں میں، 2020 میں داتا دربار پر عرس کی تقریبات کوویڈ-19 کی وجہ سے محدود پیمانے پر منائی گئی تھیں، لیکن 2023 اور 2024 میں زائرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو ان کے روحانی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتا ہے۔
داتا دربار کو 2010 میں ایک دہشت گرد حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس کے بعد سے عرس کی تقریبات کے دوران سکیورٹی انتظامات کو غیر معمولی طور پر سخت کیا گیا ہے۔ پنجاب حکومت ہر سال زائرین کی سہولت کے لیے لنگر، سبیلوں، اور دیگر سہولیات کا بندوبست کرتی ہے، جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سکیورٹی کو یقینی بناتے ہیں۔
حضرت داتا گنج بخشؒ کے 982 ویں عرس کی تقریبات کا آغاز لاہور کے روحانی اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تقریبات نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی اور ثقافتی طور پر بھی اہم ہیں، کیونکہ یہ لاکھوں زائرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہیں، جو مختلف علاقوں سے آتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ روحانی رابطہ استوار کرتے ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے افتتاح اور دیگر اعلیٰ حکام کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت اس روحانی اجتماع کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔
سکیورٹی کے سخت انتظامات، جیسے کہ کنٹینرز اور خاردار تاروں کا استعمال، ماضی کے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات زائرین کی حفاظت کو یقینی بناتے ہیں اور اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ تقریبات پرامن طریقے سے منعقد ہوں۔ ڈی آئی جی آپریشنز کی جانب سے ذاتی معائنہ اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھا رہے ہیں۔
لنگر اور سبیلوں کے انتظامات حضرت داتا گنج بخشؒ کی سخاوت اور انسانیت کی خدمت کے پیغام کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہ روایت صدیوں سے جاری ہے اور آج بھی زائرین کے لیے ایک عظیم سہولت ہے۔ پنجاب حکومت کا 15 اگست کو عام تعطیل کا اعلان زائرین کی آمد کو آسان بنانے اور اس روحانی موقع کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا ایک مثبت اقدام ہے۔
یہ عرس نہ صرف حضرت داتا گنج بخشؒ کی تعلیمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے بلکہ پاکستان کے ثقافتی اور روحانی تنوع کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کرتا ہے۔ اگر یہ تقریبات اسی طرح منظم اور پرامن طریقے سے جاری رہتی ہیں، تو یہ لاہور کو نہ صرف ایک روحانی بلکہ سیاحتی مرکز کے طور پر بھی مزید نمایاں کریں گی۔ یہ تقریبات پاکستان کے امن، رواداری، اور اتحاد کے پیغام کو بھی تقویت دیتی ہیں، جو موجودہ دور میں انتہائی اہم ہے۔





















