کراچی: سندھ کی آبادی ہر سال تقریباً 14 لاکھ کے اضافے کے ساتھ ایک نئے ضلع کے برابر بڑھ رہی ہے، جو صوبے کے وسائل، صحت، تعلیم، اور روزگار پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت نے ایک جامع اور جدید پروگرام شروع کیا ہے، جس میں مردوں کی نس بندی (ویزکٹومی) اور خواتین کے لیے خود سے لگائے جانے والے مانع حمل انجیکشنز جیسے سایانا پریس کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف آبادی کی شرح کو کم کرنے کا ہدف رکھتا ہے بلکہ صحت مند معاشرے کی تشکیل اور خواتین کی صحت کی حفاظت کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے۔
آبادی کے بڑھاؤ کا بحران
سندھ کی موجودہ آبادی 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے، جو ہر سال تقریباً 14 لاکھ کے اضافے سے بڑھ رہی ہے۔ یہ تیزی سے بڑھتی آبادی صوبے کے وسائل پر بوجھ ڈال رہی ہے، جس سے صحت، تعلیم، رہائش، اور روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ سندھ کے محکمہ بہبود آبادی نے اس صورتحال کو ایک "آبادی کا بم” قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صوبائی حکومت کا ہدف ہے کہ مانع حمل کی شرح (Contraceptive Prevalence Rate) کو 2017-18 کے 31 فیصد سے بڑھا کر 2025 تک 47 فیصد اور 2030 تک 57 فیصد تک لے جایا جائے۔
مردوں کی نس بندی
سندھ حکومت نے آبادی کنٹرول کے لیے مردوں کی نس بندی (ویزکٹومی) کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک مستقل مانع حمل طریقہ ہے۔ یہ ایک سادہ سرجیکل عمل ہے، جس میں مردوں کے تولیدی نظام میں نالیوں (vas deferens) کو کاٹا یا بند کیا جاتا ہے تاکہ منی میں سپرم کی موجودگی روکی جا سکے۔ یہ عمل نہ تو جنسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور نہ ہی دیگر جسمانی افعال کو، اور مرد عام طور پر ایک سے دو ہفتوں میں اپنی معمول کی زندگی بحال کر سکتے ہیں۔
محکمہ بہبود آبادی کے سکریٹری حفیظ اللہ عباسی نے بتایا کہ اب تک صوبے میں 3,000 مردوں نے ویزکٹومی کروائی ہے، جن میں سے کئی نے یہ فیصلہ وراثتی بیماریوں جیسے تھیلیسیمیا یا ایچ آئی وی/ایڈز کی موجودگی کی وجہ سے کیا۔ عباسی نے کہا کہ چونکہ پاکستانی معاشرے میں مرد گھریلو فیصلوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے انہیں آبادی کنٹرول کے پروگرامز میں شامل کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے، صوبے کی 1,600 یونین کونسلز میں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے تعاون سے گھر گھر سروے کیے جائیں گے۔
خواتین کے لیے جدید مانع حمل حل
خواتین کے لیے، سندھ حکومت سایانا پریس نامی خود سے لگایا جانے والا انجیکشن متعارف کروا رہی ہے، جو تین ماہ تک حمل سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ انجیکشن خاص طور پر ساحلی علاقوں اور جزیروں کی خواتین کے لیے آسان ثابت ہو رہا ہے، جہاں طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ 2018 سے اب تک 13 لاکھ سایانا پریس انجیکشنز استعمال ہو چکے ہیں، جو اس کی مقبولیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اس کے علاوہ، صوبے کے 9 بڑے ہسپتالوں میں 20 گائناکالوجی وارڈز میں فیملی پلاننگ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں، جہاں خواتین کو آئی یو سی ڈی (رحم میں لگایا جانے والا آلہ جو 10 سال تک حمل روکتا ہے) اور امپلانٹس (بازو میں لگائی جانے والی اسٹک جو 3 سے 5 سال تک موثر ہے) فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ڈائریکٹر ایڈمن فیصل مہر نے بتایا کہ مانع حمل کے آلات، انجیکشنز، اور گولیاں باقاعدگی سے ہسپتالوں، محکمہ صحت، اور این جی اوز کو فراہم کی جاتی ہیں تاکہ آبادی کنٹرول کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
فیکٹریوں سے اسکولوں تک
سندھ حکومت نے آبادی کنٹرول کے لیے ایک وسیع البنیاد آگاہی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت صوبے کے تقریباً 50 لاکھ فیکٹری ورکرز کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے، جن کے لیے کام کی جگہوں پر آگاہی سیشنز منعقد کیے جائیں گے۔ اسی طرح، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کو آبادی کے بے قابو اضافے کے معاشی، سماجی، اور ماحولیاتی اثرات سے آگاہ کیا جائے گا۔
این جی او ہینڈز (HANDS) کے تعاون سے 1,000 سے زائد مرد موبلائزرز کو تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ ویزکٹومی کے فوائد کے بارے میں لوگوں کو قائل کر سکیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ کراچی میں ویزکٹومی کے کیسز 2018 میں صرف 23 سے بڑھ کر 2022 میں 2,500 تک پہنچ گئے ہیں، جو اس پروگرام کی کامیابی کی عکاسی کرتا ہے۔
عالمی تعاون اور مستقبل کے اہداف
یہ پروگرام جان ہاپکنز یونیورسٹی، زیبسٹ یونیورسٹی، اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے چلایا جا رہا ہے۔ یہ شراکت داری سندھ کو فیملی پلاننگ 2030 کے عالمی اہداف حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ سندھ کی کامیابی کی ایک مثال اس کا Costed Implementation Plan (CIP) ہے، جو تنزانیہ اور گھانا کے ساتھ عالمی سطح پر بہترین پریکٹس کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
محکمہ بہبود آبادی کا کہنا ہے کہ دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادیوں کی وجہ سے خواتین 30 سال کی عمر تک 6 سے 8 بچوں کو جنم دے دیتی ہیں، جو ماں اور بچے دونوں کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ اس پروگرام کا مقصد نہ صرف آبادی کی شرح کو کم کرنا ہے بلکہ زچگی کی شرح اموات کو کم کرنا اور خواتین کی صحت کو بہتر بنانا بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس خبر کے سوشل میڈیا پر پھیلتے ہی صارفین نے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا، لیکن کچھ خدشات بھی سامنے آئے۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا، "سندھ حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔ آبادی کنٹرول کے بغیر ہمارے وسائل ختم ہو جائیں گے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "ویزکٹومی کو فروغ دینا اچھا ہے، لیکن کیا دیہی علاقوں میں لوگ اسے قبول کریں گے؟ ثقافتی رکاوٹیں بڑی ہیں۔” کچھ صارفین نے مذہبی اور سماجی اقدار کا حوالہ دیتے ہوئے اس پروگرام پر تحفظات کا اظہار کیا۔
سندھ حکومت کا یہ اقدام آبادی کنٹرول کے حوالے سے ایک اہم اور جرات مندانہ قدم ہے، جو پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔ پاکستان کی آبادی 2023 کے ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق 241 ملین تک پہنچ چکی ہے، اور سندھ کی آبادی 2050 تک 95.7 ملین تک جا سکتی ہے اگر اسے کنٹرول نہ کیا گیا۔ یہ پروگرام نہ صرف وسائل پر دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے گا بلکہ زچگی کی اموات کو 33 فیصد تک کم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
ویزکٹومی کو فروغ دینا ایک انقلابی اقدام ہے، کیونکہ پاکستانی معاشرے میں مانع حمل ذمہ داری عموماً خواتین پر ڈالی جاتی ہے۔ مردوں کو شامل کرنا نہ صرف صنفی توازن کو بہتر بناتا ہے بلکہ خواتین کی صحت پر بوجھ کو بھی کم کرتا ہے۔ تاہم، دیہی علاقوں میں ثقافتی اور مذہبی تحفظات اس پروگرام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں، جیسا کہ 2019 میں سندھ اسمبلی میں مذہبی جماعتوں نے اسی طرح کے اقدامات کی مخالفت کی تھی۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ پروگرام ایک اہم ضرورت کو پورا کرتا ہے، کیونکہ کم عمری کی شادیوں اور مانع حمل کی کم شرح کی وجہ سے خواتین کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ سندھ کا یہ اقدام دیگر صوبوں کے لیے ایک رہنما اصول بن سکتا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار آگاہی مہمات کی کامیابی، ثقافتی حساسیتوں کو مدنظر رکھنے، اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ تعاون پر ہے۔
یہ پروگرام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آبادی کنٹرول ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، جس میں مردوں اور خواتین دونوں کو شامل ہونا چاہیے۔ سندھ حکومت کو اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل آگاہی، تعلیم، اور طبی سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینی ہوگی تاکہ صوبہ ایک صحت مند اور پائیدار مستقبل کی طرف بڑھ سکے





















