اندرون لاہور 6انڈرگرائونڈ پارکنگ پلازوں کی منظوری

ان منصوبوں پر مجموعی طور پر 31 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی

پنجاب کابینہ نے لاہور کے اندرون شہر میں ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے 6 انڈرگراؤنڈ پارکنگ پلازوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان منصوبوں پر مجموعی طور پر 31 ارب 50 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ یہ پلازے شہر کے مرکزی علاقوں میں تعمیر کیے جائیں گے تاکہ پارکنگ کی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پارکنگ پلازوں کی تفصیلات اور لاگت کا تخمینہ

تفصیلات کے مطابق، موچی گیٹ انڈرگراؤنڈ پارکنگ پلازہ 5 ارب 20 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جائے گا۔ شیرانوالہ گیٹ پارکنگ پلازہ پر 8 ارب روپے خرچ ہوں گے، جبکہ ٹیکسالی گیٹ پارکنگ پلازہ کی لاگت بھی 5 ارب 20 کروڑ روپے ہے۔ دہلی گیٹ انڈرگراؤنڈ پارکنگ پلازہ پر 6 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بھاٹی گیٹ انڈرگراؤنڈ پارکنگ پلازہ 2 ارب روپے میں مکمل ہوگا، اور شاہ عالم گیٹ انڈرگراؤنڈ پارکنگ پلازہ کی تعمیر پر 5 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ان پلازوں کی تعمیر کا ذمہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کو سونپا گیا ہے۔

منصوبوں کا مقصد اور تعمیراتی ذمہ دار

ان منصوبوں کا بنیادی مقصد لاہور کے اندرون شہر میں ٹریفک کی بھیڑ اور پارکنگ کے مسائل کو کم کرنا ہے۔ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو ان پلازوں کی تعمیر کرے گا، جو شہری ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ پلازے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گے تاکہ شہریوں کو محفوظ اور آسان پارکنگ کی سہولت میسر آ سکے۔

خبر کا پس منظر

لاہور، پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہونے کے ناطے، طویل عرصے سے ٹریفک اور پارکنگ کے شدید مسائل کا شکار ہے۔ شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ اور گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے سڑکوں پر بھیڑ بڑھتی جا رہی ہے۔ اندرون شہر کے تاریخی علاقے، جیسے والڈ سٹی، میں پارکنگ کی جگہ کی کمی کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کر دیتے ہیں، جو ٹریفک جام کا باعث بنتی ہے۔ یہ منصوبے پنجاب حکومت کی جانب سے شہری مسائل کو حل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو ماضی میں بھی پارکنگ پلازوں کی تجاویز پیش کرتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر، 2011 اور 2012 میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) نے سرکلر روڈ پر پارکنگ پلازوں کی تجاویز دی تھیں، لیکن ان کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا تھا۔ اب یہ منظوری ایک اہم پیش رفت ہے جو شہری ترقی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

پروجیکٹ شروع کرنے کی ضرورت کی وجوہات

یہ پروجیکٹ شروع کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ لاہور میں ٹریفک اور پارکنگ کے مسائل دن بدن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، لیکن پارکنگ کی سہولیات ناکافی ہیں۔ غیر قانونی پارکنگ، کمزور ٹریفک قوانین کی پابندی، اور پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے سڑکیں بلاک ہو جاتی ہیں، جو معاشی اور ماحولیاتی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ لاہور میں ہوائی آلودگی اور ٹریفک جام کی بنیادی وجوہات میں پارکنگ کی کمی شامل ہے، جو شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ حکومت کی رپورٹس کے مطابق، اندرون شہر میں تاریخی مقامات کے ارد گرد پارکنگ کی کمی کی وجہ سے سیاحوں اور مقامی لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ، کاروباری مراکز اور بازاروں میں پارکنگ کی جگہ نہ ہونے سے معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ پروجیکٹ ان مسائل کو حل کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ شہر کو جدید اور منظم بنایا جا سکے۔
پنجاب حکومت نے 2025 میں نیلا گنبد انڈرگراؤنڈ پارکنگ پلازہ کی منظوری دی، جس کی لاگت 2.24 ارب روپے ہے اور یہ ٹریفک مسائل کو کم کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔
مئی 2025 میں پنجاب حکومت نے لاہور میں 13 پارکنگ پلازوں کی تعمیر کی منظوری دی، جو شہر کے پارکنگ مسائل کو حل کرنے کا حصہ ہے۔
جون 2025 میں لاہور اتھارٹی فار ہیریٹیج ریوائیول (LAHR) نے سرکلر روڈ پر 5 انڈرگراؤنڈ پارکنگ سائٹس کی منظوری دی، جو پارکنگ کیس کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے ہے۔
جولائی 2025 میں نیلا گنبد پارکنگ پلازہ کی تعمیر کی منظوری دی گئی، جو تین منزلہ انڈرگراؤنڈ سٹرکچر ہوگی اور سینکڑوں گاڑیوں کو پارکنگ کی سہولت دے گی۔
یہ خبریں پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور کے شہری مسائل کو حل کرنے کی مسلسل کوششوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

پروجیکٹ کی اہمیت اور ممکنہ اثرات

یہ پروجیکٹ لاہور کے اندرون شہر کو جدید بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف پارکنگ کے مسائل کو حل کرے گا بلکہ ٹریفک کی روانی کو بھی بہتر بنائے گا۔ مجموعی لاگت 31.5 ارب روپے ہونے کے باوجود، یہ سرمایہ کاری طویل مدتی فوائد دے گی، جیسے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ اور ماحولیاتی بہتری۔ تاہم، کامیابی کے لیے تعمیراتی کاموں کو بروقت مکمل کرنا اور دیکھ بھال کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ماضی کے پروجیکٹس کی طرح تاخیر سے بچنے کے لیے شفافیت اور نگرانی کی ضرورت ہے۔ اگر یہ کامیاب ہوا تو لاہور کو ایک پائیدار شہر بنانے میں مدد ملے گی، لیکن اگر ناکام ہوا تو یہ وسائل کا ضیاع ثابت ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ اقدام شہری ترقی کی درست سمت میں ہے، خاص طور پر جب لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کو مدنظر رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین