لاہور سمیت پنجاب بھر کے سرکاری سکولوں میں فنڈز کے غلط استعمال اور جعلی انرولمنٹ کے سنگین معاملات سامنے آئے ہیں۔ محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے ان مسائل کی تحقیقات کے لیے فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں 40 کمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔
انسپکشن کمیٹیوں کی تشکیل اور ذمہ داریاں
ضلع لاہور کی انسپکشن کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر نوید اسلم، ڈویژنل ڈائریکٹر طلعت محمود، اور سیکشن آفیسر فائزہ ارشاد کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹیاں سکول کونسل کے فنڈز، نان سیلری بجٹ، میٹرک کے نتائج، اساتذہ اور طلبہ کی تعداد کی جانچ پڑتال کریں گی۔ اس کے علاوہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز (ڈی ای اوز) کے دوروں، سکولوں کی صفائی، اور خطرناک عمارتوں کی حالت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ انسپکشن کے دوران نااہلی، کرپشن، یا جعلی انرولمنٹ کے ثبوت ملنے پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
جعلی انرولمنٹ اور مالی نقصانات
رپورٹس کے مطابق، پنجاب کے سرکاری سکولوں میں 18 سے 19 لاکھ جعلی انرولمنٹس کا انکشاف ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک طالب علم گھوسٹ (غیر موجود) نکلا ہے۔ دستاویزات میں طلبہ کی تعداد 1 کروڑ 8 لاکھ ظاہر کی گئی، جبکہ حقیقت میں صرف 90 لاکھ طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔ اس جعلی انرولمنٹ کی وجہ سے نان سیلری بجٹ میں ماہانہ 4 ارب اور سالانہ 50 ارب روپے کا اضافی خرچہ ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ، 46 ہزار سے زائد اضافی اساتذہ کی موجودگی بھی سامنے آئی ہے، جو غیر ضروری تنخواہوں کی وصولی کا باعث بن رہے ہیں۔
تعلیمی نظام میں شفافیت کی ضرورت
پنجاب، پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے، تعلیمی چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایک طرف 1 کروڑ 11 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں، وہیں جعلی انرولمنٹ کی وجہ سے وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔ ماضی میں بھی 2022 اور 2024 میں اسی طرح کے انکشافات سامنے آئے تھے، جب فیصل آباد اور لاہور سمیت دیگر اضلاع میں 478 سکولوں میں جعلی انرولمنٹ رپورٹ ہوئی تھی۔ محکمہ تعلیم نے ڈیٹا انجینیئرز کی مدد سے اس مسئلے کی نشاندہی کی اور نادرا سے رجسٹریشن لنک کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مستقبل میں جعلی انرولمنٹ کو روکا جا سکے۔
پروجیکٹ شروع کرنے کی ضرورت کی وجوہات
جعلی انرولمنٹ اور فنڈز میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے پنجاب کے تعلیمی نظام کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف مالی وسائل کے ضیاع کا باعث ہیں بلکہ تعلیمی معیار اور شفافیت پر بھی سوالیہ نشان اٹھاتے ہیں۔ اساتذہ کی جانب سے تبادلوں سے بچنے کے لیے جعلی انرولمنٹ کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جو کہ انتظامی نااہلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، خطرناک عمارتوں اور ناقص صفائی کے مسائل نے سکولوں کے ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔ انسپکشن کمیٹیوں کی تشکیل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت تعلیمی نظام میں اصلاحات اور شفافیت لانے کے لیے سنجیدہ ہے۔
چیلنجز اور مستقبل کے امکانات
یہ انکشاف تعلیمی نظام میں گہری اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ جعلی انرولمنٹ اور فنڈز کی بے ضابطگیوں نے نہ صرف مالی نقصانات کو جنم دیا بلکہ تعلیمی معیار کو بھی متاثر کیا ہے۔ 40 کمیٹیوں کی تشکیل اور نادرا سے رجسٹریشن لنک کرنے جیسے اقدامات درست سمت میں ہیں، لیکن ان کا کامیاب نفاذ وقت اور شفافیت پر منحصر ہے۔ اگر انسپکشن کمیٹیاں اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے نبھاتی ہیں تو یہ نظام میں شفافیت لا سکتا ہے اور وسائل کا درست استعمال ممکن ہوگا۔ تاہم، ماضی کے تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی تحقیقات اکثر عمل درآمد کے مرحلے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا، سخت نگرانی، عوامی رپورٹنگ، اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی ضروری ہے۔ اگر یہ اقدامات کامیاب ہوتے ہیں، تو پنجاب کے تعلیمی نظام میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے، جو نہ صرف مالی بچت کا باعث بنے گی بلکہ سکول سے باہر بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں بھی مددگار ہوگی





















