لاہور (محمد کاشف جان) جامع شیخ الاسلام، ماڈل ٹاؤن لاہور میں جمعۃ المبارک کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تحریک منہاج القرآن کے نائب ناظمِ اعلیٰ علامہ رانا محمد ادریس نے علم کی اہمیت اور جہالت کے نقصانات پر پراثر اور مدلل انداز میں روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ علم انسان کو روشنی کی طرف لے جاتا ہے، جبکہ جہالت اندھیرے میں گم کر دیتی ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے اسلامی تاریخ، صوفیاء کی تعلیمات اور موجودہ حالات کے تناظر میں علم کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
علم روشنی کا ذریعہ
علامہ رانا محمد ادریس نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ علم ایک ایسی روشنی ہے جو انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتی ہے، جبکہ جہالت ایسا اندھیرا ہے جس میں انسان حقیقت کو پہچان نہیں پاتا۔ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو "معلم” کے منصب پر فائز کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم دینا اور سیکھنا انسان کی اعلیٰ ترین ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق، علم صرف دنیاوی ترقی نہیں بلکہ روحانی بلندی کا ذریعہ بھی ہے۔
منہاج القرآن کا مشن ہر گھر کو مرکزِ علم بنانا
خطاب کے دوران علامہ رانا محمد ادریس نے واضح کیا کہ تحریک منہاج القرآن کا سب سے بڑا مقصد معاشرے کے ہر گھر کو علم کا مرکز بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مصروف زندگی نے لوگوں کو دینی علم سے دور کر دیا ہے، حتیٰ کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور غسل جیسے بنیادی مسائل کا علم بھی کمزور ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منہاج القرآن نے "ہر گھر مرکزِ علم” کے وژن کے تحت نصاب اور منصوبے ترتیب دیے ہیں تاکہ علم کی روشنی گھروں تک پہنچے۔
علم کے بغیر عبادت بوجھ ڈھونے والے جانور کی مانند
انہوں نے حضرت داتا گنج بخشؒ کی مشہور تصنیف کشف المحجوب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر دین کا علم نہ ہو تو عبادت کا مقصد پورا نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ علم کے بغیر عبادت ایسا عمل ہے جیسے بوجھ ڈھونے والا جانور، جو چلتا رہتا ہے مگر منزل تک نہیں پہنچتا۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے” اور قرآن کا پہلا حکم "اقرأ” یعنی "پڑھو” ہے، جو اس کی بنیادی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری، علم کی پہچان
علامہ رانا محمد ادریس نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی سب سے بڑی پہچان علم ہے۔ وہ دنیا بھر میں علم کے فروغ کے لیے ایک نمونہ ہیں اور آج بھی ایک طالب علم کی طرح سیکھنے اور سکھانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنے مشن کے تحت "ہر گھر مرکزِ علم” کے قیام کے لیے خصوصی نصاب تیار کیا ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد معیاری تعلیم اور دینی رہنمائی سے مستفید ہو سکے۔
تعلیم کی ابتدا، ماں کی گود سے قومی اداروں تک
انہوں نے کہا کہ بچے کی پہلی تربیت ماں کی گود میں ہوتی ہے، پھر گھر، اسکول، کالج اور یونیورسٹی اس تربیت کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج یہ ادارے اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے ادا نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزِ علم کا قیام مؤثر انداز میں کیا جائے تو آئندہ نسلیں بہتر تربیت اور معیاری علم سے آراستہ ہوں گی، اور یہ قوم ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکے گی۔
جہالت کا المیہ اور اس کے سماجی نقصانات
علامہ رانا محمد ادریس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے میں بہت سے لوگ عبادات کرتے ہیں مگر ان کے پس منظر اور احکامات سے ناواقف ہیں۔ اس لاعلمی کی وجہ سے عبادات کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم کا امتزاج ضروری ہے، کیونکہ ایک مضبوط معاشرہ تبھی قائم ہو سکتا ہے جب اس کے افراد شعور اور آگاہی سے بہرہ مند ہوں۔
تحریک منہاج القرآن کا تعلیمی ماڈل
انہوں نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن نے صرف مذہبی تعلیم تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ عصری علوم میں بھی معیار قائم کیا ہے۔ ان کے تعلیمی ادارے دنیا بھر میں طلباء کو وہ تربیت فراہم کر رہے ہیں جس میں اخلاقی اقدار اور جدید علم دونوں شامل ہیں۔ یہی ماڈل مستقبل کی نسلوں کو کامیاب بنانے کا ضامن ہے۔
یہ خطاب دراصل موجودہ دور میں علم کی کمی اور اس کے معاشرتی اثرات پر ایک گہری نظر ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا میں علم کی کمی محض فرد کی ذاتی محرومی نہیں بلکہ قومی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ علامہ رانا محمد ادریس کا یہ پیغام صرف مذہبی دائرے تک محدود نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اصلاحی ایجنڈا پیش کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو کردار سازی، اخلاقی تربیت اور اجتماعی ترقی کا ضامن ہے۔
تحریک منہاج القرآن کا "ہر گھر مرکزِ علم” کا وژن ایک ایسا منصوبہ ہے جو معاشرے میں مثبت انقلاب لا سکتا ہے۔ اگر یہ منصوبہ مؤثر طریقے سے نافذ ہو جائے تو آئندہ نسلیں ایک ایسی روشنی میں پروان چڑھیں گی جو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو روشن کرے گی۔





















