ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات، یوکرین جنگ بندی ڈیل کے بغیر اختتام پذیر

یہ ملاقات پیوٹن کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے

انکوریج، الاسکا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان الاسکا کے جوائنٹ بیس ایلمنڈورف-رچرڈسن میں ہونے والی ایک اہم سربراہی ملاقات یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس معاہدہ طے کیے بغیر ختم ہوئی۔ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مختصر مشترکہ پریس کانفرنس میں دوستانہ لہجہ اپنایا، لیکن جنگ بندی یا امن معاہدے کے حوالے سے کوئی پیش رفت سامنے نہ آئی۔ یہ ملاقات 2019 کے بعد دونوں رہنماؤں کا پہلا آمنا سامنا تھا، جو عالمی توجہ کا مرکز بنی۔ تاہم، یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے روس کے زیر قبضہ علاقوں سے دستبرداری کے ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کرنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔

ملاقات کا ڈرامائی آغاز

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملاقات کے لیے ایک پرشکوہ ماحول ترتیب دیا۔ دونوں رہنما اپنے اپنے صدارتی طیاروں سے انکوریج کے فوجی اڈے پر اترے، جہاں ٹرمپ نے تالیوں کے ساتھ پیوٹن کا استقبال کیا۔ دونوں نے گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور تصاویر کے لیے ریڈ کارپٹ پر ایک ساتھ پوز دیا۔ امریکی فوجی طاقت کی نمائش کے طور پر ایک بی-2 اسٹیلتھ بمبار اور ایف-35 طیاروں نے فضائی اڈے کے اوپر پرواز کی۔ اس موقع پر ایک صحافی نے پیوٹن سے بلند آواز میں سوال کیا، "کیا آپ شہریوں کو مارنا بند کریں گے؟” جس پر پیوٹن نے مسکراتے ہوئے کوئی جواب نہ دیا۔

اس کے بعد، ٹرمپ نے پیوٹن کو اپنی صدارتی لیموزین "دی بیسٹ” میں ساتھ بٹھایا، جو ایک غیر معمولی اقدام تھا۔ دونوں رہنما اس کے بعد ایک بند کمرے کی ملاقات کے لیے روانہ ہوئے، جہاں اسکرین پر انگریزی میں "امن کی جستجو” کا نعرہ لکھا ہوا تھا۔ ملاقات میں ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف شریک تھے، جبکہ پیوٹن کے ساتھ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ایک مشیر موجود تھے۔

مذاکرات کا نتیجہ

تقریباً تین گھنٹے کی بات چیت کے بعد، دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی، جو صرف 12 منٹ تک جاری رہی۔ اس دوران کسی صحافی کے سوال کا جواب نہیں لیا گیا، جو میڈیا سے بات کرنے کے شوقین ٹرمپ کے لیے ایک غیر معمولی بات تھی۔ پیوٹن نے سب سے پہلے گفتگو کی اور کہا کہ دونوں رہنماؤں نے کچھ "سمجھوتوں” پر اتفاق کیا ہے، جو یوکرین میں امن کے قیام کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کو روس کا "برادر ملک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یورپی ممالک اور کیف کو خبردار کیا کہ وہ اس "ابھرتی ہوئی پیش رفت” کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔

ٹرمپ نے پیوٹن کے بیان کو "بہت گہرا” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملاقات "انتہائی نتیجہ خیز” رہی اور دونوں فریقین نے کئی نکات پر اتفاق کیا۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ "جب تک مکمل معاہدہ نہ ہو، کوئی معاہدہ نہیں ہے۔” ٹرمپ نے کہا کہ چند اہم نکات ابھی حل طلب ہیں، جن میں سے ایک "سب سے زیادہ اہم” ہے، لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ اب یوکرینی صدر زیلنسکی اور نیٹو رہنماؤں سے رابطہ کریں گے تاکہ انہیں ملاقات کے نتائج سے آگاہ کیا جا سکے۔

جب ٹرمپ نے مستقبل میں دوسری ملاقات کا ذکر کیا تو پیوٹن نے مسکراتے ہوئے انگریزی میں کہا، "اگلی بار ماسکو میں۔” ٹرمپ نے اسے "دلچسپ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کچھ تنقید ہو سکتی ہے، لیکن وہ اس امکان کو رد نہیں کرتے۔

یوکرین اور زیلنسکی کا ردعمل

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کو اس ملاقات میں شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ ٹرمپ نے پہلے ایک سہ فریقی ملاقات کا عندیہ دیا تھا۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جنگ ختم ہو، اور روس کو اس کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے روس کے زیر قبضہ علاقوں سے دستبرداری کے ٹرمپ کے دباؤ کو مسترد کر دیا اور کہا کہ یوکرینی عوام کبھی بھی قبضے کو قبول نہیں کریں گے۔

کیف کے میئر وٹالی کلیچکو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے عارضی طور پر کچھ علاقوں سے دستبرداری ممکن ہو سکتی ہے، لیکن یہ کوئی مستقل حل نہیں ہوگا۔ یوکرین کے ایک اپوزیشن رہنما اولیکسی ہونچارینکو نے ٹیلی گرام پر کہا کہ پیوٹن نے اس ملاقات سے "وقت خرید لیا” اور کوئی جنگ بندی یا ڈی ایسکلیشن طے نہیں ہوئی۔

پس منظر اور پیوٹن کی سفارتی فتح

یہ ملاقات پیوٹن کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ وہ 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد سے مغربی ممالک کی جانب سے تنہائی کا شکار تھے۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے پیوٹن کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات میں گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہوا ہے، لیکن الاسکا میں ان کا پرتپاک استقبال اور ٹرمپ کے ساتھ ملاقات نے انہیں عالمی اسٹیج پر دوبارہ پذیرائی دلوائی۔

ٹرمپ نے ملاقات سے قبل کہا تھا کہ اگر پیوٹن جنگ بندی پر راضی نہ ہوئے تو روس کو "شدید نتائج” بھگتنا پڑیں گے، بشمول اس کے تیل خریدنے والے ممالک جیسے بھارت پر پابندیاں۔ تاہم، فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اس ملاقات کے بعد انہیں ابھی پابندیوں کے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب فیصلہ زیلنسکی پر ہے کہ وہ اس عمل کو مکمل کریں۔

پیوٹن نے اپنی گفتگو میں یوکرین کی جنگ کو جو بائیڈن کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ اگر ٹرمپ صدر ہوتے تو یہ جنگ کبھی نہ ہوتی۔ ٹرمپ نے اس بیان کی تائید کی اور 2016 کے امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کے الزامات کو ایک بار پھر "فریب” قرار دیا، حالانکہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس کی تصدیق کی ہے۔

میدان جنگ کی صورتحال

ملاقات کے دوران، یوکرین کے محاذ پر روس نے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، خاص طور پر دونیتسک کے علاقے میں، جو مذاکرات میں پیوٹن کے موقف کو مضبوط کر سکتا ہے۔ تاہم، یوکرین نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے کئی دیہات دوبارہ حاصل کر لیے ہیں۔ روس فی الحال یوکرین کے تقریباً ایک پانچویں حصے پر قابض ہے، بشمول کریمیا، جو 2014 میں غیر قانونی طور پر الحاق کیا گیا تھا، اور دونباس کا بڑا حصہ۔

ٹرمپ نے ماضی میں تجویز دی تھی کہ یوکرین اور روس کے درمیان علاقوں کا "تبادلہ” جنگ بندی کا حصہ ہو سکتا ہے، لیکن زیلنسکی نے اسے مسترد کر دیا۔ ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ علاقوں کے تبادلے پر بات ہوئی، لیکن یہ فیصلہ یوکرین پر چھوڑ دیا جائے گا۔

الاسکا کا انتخاب

الاسکا کا انتخاب ملاقات کے مقام کے طور پر علامتی اہمیت رکھتا تھا۔ یہ علاقہ کبھی روس کا حصہ تھا، جسے 1867 میں امریکا نے 7.2 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔ امریکی سینیٹر ڈین سلوین نے کہا کہ یہ مقام روس کو یاد دلاتا ہے کہ امریکا ایک "طاقتور negotiator” ہے۔ اس کے علاوہ، الاسکا کی جغرافیائی قربت روس سے اسے اس ملاقات کے لیے ایک اسٹریٹجک انتخاب بناتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر صارفین نے اس ملاقات پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا۔ کچھ نے ٹرمپ کی امن کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ دیگر نے اسے پیوٹن کی سفارتی فتح قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "ٹرمپ نے پیوٹن کو عالمی اسٹیج پر واپس لانے کا موقع دیا، لیکن کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔” دوسرے نے کہا، "یہ ملاقات امن کی طرف پہلا قدم ہو سکتی ہے، لیکن زیلنسکی کے بغیر یہ ادھوری ہے۔”

ٹرمپ اور پیوٹن کی الاسکا ملاقات نے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے لیے فوری نتائج تو نہیں دیے، لیکن اس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔ ٹرمپ کی جانب سے پیوٹن کو پرتپاک استقبال اور دوستانہ لہجہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ممکنہ طور پر نوبل امن انعام کے حصول کی خواہش کے ساتھ۔ تاہم، پیوٹن کی سفارتی فتح اس ملاقات کا سب سے نمایاں نتیجہ ہے، کیونکہ انہوں نے مغربی تنہائی سے نکل کر ایک بار پھر عالمی رہنما کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کی۔

زیلنسکی کی غیر موجودگی اور ان کا روس کے زیر قبضہ علاقوں سے دستبرداری سے انکار اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ اب فیصلہ زیلنسکی پر ہے، ایک طرح سے ذمہ داری سے ہٹنے کی کوشش ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یوکرین علاقائی تبادلے کے خیال کو قبول نہیں کرے گا۔

روس کی حالیہ فوجی پیش رفت اور پیوٹن کی سخت پوزیشن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مذاکرات میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، ٹرمپ کی پابندیوں کی دھمکیوں کو نرم کرنے سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ وہ فی الحال پیوٹن کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

یہ ملاقات ایک طویل عمل کا آغاز ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج غیر یقینی ہیں۔ اگر ٹرمپ واقعی جنگ بندی چاہتے ہیں، تو انہیں زیلنسکی اور نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک متوازن حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ بصورت دیگر، یہ ملاقات صرف ایک علامتی واقعہ بن کر رہ جائے گی، جو پیوٹن کو سفارتی فائدہ اور وقت دونوں فراہم کرے گی۔ مستقبل میں سہ فریقی مذاکرات، جن میں یوکرین شامل ہو، اس تنازع کے حل کے لیے ناگزیر ہیں، لیکن اس کے لیے روس کو اپنی جارحانہ پالیسیوں میں لچک دکھانی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین