واشنگٹن (ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مذاکرات کے حوالے سے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران کے ساتھ امن مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا آبنائے ہرمز میں “پروجیکٹ فریڈم پلس” کے نام سے نیا آپریشن شروع کرسکتا ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “اگر بات چیت کامیاب نہیں ہوتی تو ہم دوبارہ پراجیکٹ فریڈم کی طرف جا سکتے ہیں، لیکن اس بار یہ ’پروجیکٹ فریڈم پلس‘ ہوگا۔”
ٹرمپ نے اگرچہ اس نئے آپریشن کی مکمل تفصیلات بیان نہیں کیں، تاہم ان کے بیان کے بعد عالمی سطح پر نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آخر “پروجیکٹ فریڈم پلس” میں کون سے اضافی اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے انکشاف کیا کہ پاکستان نے امریکا سے درخواست کی تھی کہ “پروجیکٹ فریڈم” شروع نہ کیا جائے۔ ٹرمپ کے مطابق اسی سفارتی رابطے اور مشاورت کے بعد آپریشن کو وقتی طور پر موقوف کیا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق Saudi Arabia نے بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے واشنگٹن پر سفارتی دباؤ ڈالا تاکہ کسی بڑے فوجی آپریشن سے گریز کیا جا سکے۔
این بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سعودی قیادت کو خدشہ تھا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بڑی فوجی کارروائی سے نہ صرف خلیجی خطہ بلکہ عالمی تیل مارکیٹ بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ٹرمپ کا “پروجیکٹ فریڈم پلس” کا بیان دراصل ایران پر دباؤ بڑھانے کی نئی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا ایک طرف مذاکرات کی بات کر رہا ہے جبکہ دوسری جانب ممکنہ فوجی آپریشن کا اشارہ دے کر تہران کو دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس وقت خطے میں کسی نئی جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے، اسی لیے سفارتی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں تاکہ مذاکرات کا عمل جاری رہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز میں کوئی بڑا آپریشن شروع ہوا تو اس کے اثرات عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور خطے کی سلامتی پر فوری طور پر مرتب ہوں گے۔
عوامی ردعمل
ٹرمپ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ بعض صارفین نے کہا کہ امریکا ایک بار پھر طاقت کی سیاست کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ کئی افراد نے مذاکرات جاری رکھنے کو ہی واحد حل قرار دیا۔
کچھ صارفین نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے جنگ روکنے کیلئے اہم سفارتی کوششیں کیں، جبکہ بعض افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطہ ایک نئی کشیدگی کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق “پروجیکٹ فریڈم پلس” کا ذکر دراصل ایران کیلئے ایک سخت پیغام ہے کہ امریکا فوجی آپشن کو مکمل طور پر ختم نہیں کر رہا۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس وقت دوہری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جہاں ایک طرف سفارتی راستہ کھلا رکھا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب فوجی دباؤ برقرار رکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز میں کشیدگی عالمی تجارت، تیل سپلائی اور مشرق وسطیٰ کے استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔





















