غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے مصر اور قطر کی ثالثی میں پیش کیے گئے ایک نئے جنگ بندی معاہدے کو قبول کرتے ہوئے غزہ میں جاری دو سالہ تباہ کن جنگ کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت کی ہے۔ اس معاہدے کے تحت 60 روزہ سیز فائر کے دوران غزہ میں قید آدھے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور اس کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں بند فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے اس پیشرفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی گروہوں نے ثالثوں کو اپنی رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب، اسرائیل نے معاہدے کی وصولی کی تصدیق کی ہے، لیکن وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسے مکمل طور پر قبول کرنے سے متعلق کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا۔
جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات
مصر کے سرکاری ذرائع کے مطابق، حماس نے 60 روزہ جنگ بندی کی پیشکش کو قبول کیا ہے، جو امریکی حمایت یافتہ مصری اور قطری ثالثوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اس معاہدے کے تحت حماس غزہ میں قید 50 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے تقریباً 20 زندہ یرغمالیوں کو رہا کرے گا، جبکہ اسرائیل اس کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی ایک متفقہ تعداد کو رہا کرے گا۔ اس پیشکش میں 60 دن کے عارضی سیز فائر کے دوران مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ معاہدہ غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد کی فراہمی میں اضافے اور اسرائیلی فوج کی جزوی واپسی کو بھی یقینی بنائے گا۔
حماس کے سینئر رہنما باسم نعیم نے فیس بک پر اپنے ایک بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کی اور کہا کہ فلسطینی دھڑوں نے مشترکہ طور پر اس تجویز پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اسے ایک جامع سیاسی حل کی طرف پہلا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ غزہ میں امن اور استحکام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
اسرائیلی ردعمل اور سیاسی دباؤ
اسرائیلی حکام نے تصدیق کی کہ انہیں حماس کی جانب سے معاہدے کی منظوری کا پیغام موصول ہوا ہے، لیکن وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسے قبول یا مسترد کرنے کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا۔ نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میڈیا رپورٹس سے یہ واضح ہے کہ حماس شدید دباؤ کا شکار ہے، اور وہ اسے سیاسی فائدے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنے مقاصد—یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی عسکری صلاحیت کا خاتمہ، اور غزہ سے خطرات کا خاتمہ—حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسرائیل کے اندر جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے لیے عوامی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اتوار کو تل ابیب میں لاکھوں افراد نے مظاہروں میں حصہ لیتے ہوئے نیتن یاہو کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کا معاہدہ کرے۔ مظاہرین نے نعرے لگائے کہ "اب وقت ہے کہ ہمارے پیاروں کو گھر لایا جائے۔” یرغمالیوں کے خاندانوں کی تنظیم نے کہا کہ نیتن یاہو کی پالیسیاں یرغمالیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہی ہیں، اور ایک جامع معاہدہ ہی واحد حل ہے۔
غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی
اس ممکنہ معاہدے کے باوجود، غزہ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی کے مشرقی علاقوں، خاص طور پر السبرا میں اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے۔ پیر کے روز کم از کم نو ٹینکوں اور بلڈوزرز نے علاقے میں داخل ہو کر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی مغرب اور جنوب کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک 60,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
اسرائیلی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے کہا کہ فوج غزہ میں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور حماس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنے کے لیے یہ کارروائیاں ناگزیر ہیں۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، خاص طور پر اس وقت جب غزہ میں انسانی بحران بد سے بدتر ہوتا جا رہا ہے۔
سفارتی کوششوں کا کردار
یہ جنگ بندی معاہدہ مصر اور قطر کی مسلسل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جنہوں نے گزشتہ کئی ماہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا، اور انہوں نے حماس کو دھمکی دی تھی کہ اگر یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا تو سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعطی نے کہا کہ یہ معاہدہ غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد کی فوری فراہمی اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ قطری وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے بھی قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں فعال شرکت کی۔
جنگ کا پس منظر
یہ جنگ 7 اکتوبر 2023 کو اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے جنگجوؤں نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر بڑے پیمانے پر فضائی اور زمینی حملے شروع کیے، جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ گزشتہ 22 ماہ کے دوران، غزہ کے 60 سے 70 فیصد ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں، اور 2.1 ملین فلسطینیوں میں سے بیشتر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
اس سے قبل، نومبر 2023 اور جنوری سے مارچ 2025 کے درمیان دو عارضی جنگ بندی معاہدوں کے تحت 145 یرغمالی رہا کیے گئے، جبکہ اسرائیل نے 2,000 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔ موجودہ معاہدہ اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقین کی جانب سے شرائط پر عمل درآمد پر ہے۔
حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی منظوری غزہ میں جاری خونریز جنگ کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم ہے، لیکن اس کی کامیابی کے امکانات ابھی غیر یقینی ہیں۔ مصر اور قطر کی ثالثی سے تیار کردہ یہ معاہدہ نہ صرف فوری طور پر تشدد کو روکنے کی کوشش ہے بلکہ ایک مستقل امن کے لیے مذاکرات کا راستہ بھی کھولتا ہے۔ تاہم، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مبہم ردعمل اور ان کا اصرار کہ حماس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، اس معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اسرائیل کے اندر عوامی دباؤ، خاص طور پر یرغمالیوں کے خاندانوں کی طرف سے، نیتن یاہو پر دباؤ بڑھا رہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو قبول کریں۔ دوسری طرف، حماس کی طرف سے معاہدے کی منظوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنی عسکری اور سیاسی پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ باسم نعیم کا بیان کہ فلسطینی دھڑوں نے مشترکہ طور پر اسے قبول کیا، حماس کی داخلی اتحاد کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔
غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیاں، خاص طور پر السبرا میں ٹینکوں کی پیش قدمی، اس معاہدے کے نفاذ کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ اگر اسرائیل نے فوجی دباؤ جاری رکھا تو حماس اپنی رضامندی واپس لے سکتا ہے، جیسا کہ اس نے فروری 2025 میں کیا تھا۔ اس کے علاوہ، غزہ میں انسانی بحران—خاص طور پر بھوک اور نقل مکانی—بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ امداد کی ترسیل کو آسان بنائے، لیکن اسرائیل کا امداد روکنے کا حالیہ فیصلہ اس عمل کو پیچیدہ کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور مصر و قطر کی ثالثی نے اس معاہدے کو ممکن بنایا ہے، لیکن اس کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقین کے اعتماد اور عمل درآمد پر ہے۔ اگر یہ معاہدہ کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف غزہ کے عوام کے لیے راحت لائے گا بلکہ خطے میں طویل مدتی امن کے امکانات کو بھی بڑھا سکتا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو کی سخت گیر پالیسیوں اور حماس کی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی خواہش اس راستے کو دشوار بنا رہی ہے۔ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس معاہدے کی نگرانی کے لیے ایک مضبوط میکانزم تیار کرے تاکہ دونوں فریقین اس کی شرائط پر عمل کریں اور غزہ کے عوام کو اس تباہ کن جنگ سے نجات مل سکے۔





















