ممبئی: بھارت کے شہر ممبئی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک 71 سالہ بزرگ خاتون صرف ایک لیٹر دودھ کا آن لائن آرڈر دینے کی کوشش میں اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، یعنی 18 لاکھ بھارتی روپے، سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ یہ واقعہ سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے اور آن لائن لین دین میں احتیاط کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ واڈالا کی رہائشی اس خاتون کو ایک فون کال نے دھوکے کے جال میں پھنسایا، جس نے نہ صرف ان کے بینک اکاؤنٹس خالی کر دیے بلکہ ان کی مالی سیکیورٹی کو بھی تباہ کر دیا۔
واقعے کی تفصیلات
بھارتی نشریاتی ادارے ’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق، 4 اگست 2025 کو واڈالا، ممبئی میں رہنے والی 71 سالہ خاتون کو ایک نامعلوم شخص کی جانب سے فون کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے خود کو ایک معروف ڈیری کمپنی کا ملازم ظاہر کیا اور خاتون سے کہا کہ وہ ایک لیٹر دودھ کے آرڈر کی تصدیق کے لیے ایک لنک پر کلک کریں۔ اس لنک کے ذریعے خاتون سے ان کی ذاتی اور بینکنگ تفصیلات درج کرنے کی درخواست کی گئی۔ ملزم نے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک خاتون کے ساتھ فون پر رابطہ رکھا اور مرحلہ وار ہدایات دیں، جس سے خاتون کو یہ یقین ہو گیا کہ وہ ایک جائز لین دین کا حصہ ہیں۔
اگلے روز، اسی ملزم نے دوبارہ رابطہ کیا اور مزید معلومات طلب کیں، جس سے خاتون کی مشکوک سرگرمیوں سے بے خبری برقرار رہی۔ چند دن بعد، جب خاتون اپنے بینک گئیں تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے مرکزی بینک اکاؤنٹ سے بھاری رقم غائب ہے۔ مزید تفتیش سے پتہ چلا کہ ان کے دو دیگر بینک اکاؤنٹس بھی مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں، اور ان کی کل جمع پونجی، جو 18 لاکھ بھارتی روپے (تقریباً 60 لاکھ پاکستانی روپے) تھی، ملزم کے ہاتھ لگ چکی تھی۔
سائبر فراڈ کا طریقہ کار
ممبئی پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ملزم نے خاتون کو بھیجے گئے لنک کے ذریعے ان کے موبائل فون کا ریموٹ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ اس لنک میں ایک میلویئر (malware) موجود تھا، جس نے ملزم کو خاتون کی بینکنگ ایپلی کیشنز اور دیگر حساس معلومات تک رسائی دی۔ اس تکنیک، جسے ’ریموٹ ایکسس ٹروجن‘ کہا جاتا ہے، کا استعمال سائبر مجرموں میں تیزی سے عام ہو رہا ہے۔ اس کے ذریعے ملزم نے خاتون کے اکاؤنٹس سے متعدد غیر مجاز لین دین کیے، جن کا خاتون کو اس وقت تک علم نہ ہوا جب تک ان کے اکاؤنٹس خالی نہ ہو گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فراڈ میں ملزمان عام طور پر جعلی کمپنیوں یا سروسز کے نام پر شکار کو راغب کرتے ہیں اور ان سے حساس معلومات حاصل کرتے ہیں۔ خاتون کی عمر اور ٹیکنالوجی سے نسبتاً کم واقفیت نے انہیں اس دھوکے کا آسان ہدف بنا دیا۔
پولیس کی کارروائی اور تحقیقات
متاثرہ خاتون نے واڈالا پولیس اسٹیشن میں فوری طور پر شکایت درج کرائی، جس کے بعد پولیس نے سائبر کرائم یونٹ کی مدد سے تحقیقات شروع کیں۔ پولیس نے ملزم کے فون نمبر اور لنک سے منسلک ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ تاہم، ملزم تاحال مفرور ہے، اور اس کی شناخت کے لیے سائبر فورنزک ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ ممبئی پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ ایک منظم سائبر فراڈ گروہ کا کام ہو سکتا ہے، جو بوڑھے افراد کو نشانہ بناتا ہے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والے لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں اور اپنی بینکنگ معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ واڈالا پولیس نے متاثرہ خاتون کو انشورنس یا دیگر مالی امداد کے امکانات پر بھی رہنمائی فراہم کی ہے، لیکن ان کی جمع پونجی کی واپسی کے امکانات فی الحال کم ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ایکس پر صارفین نے اسے سائبر سیکیورٹی کی ناکامی اور بوڑھے افراد کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی ایک شرمناک مثال قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ افسوسناک ہے کہ ایک لیٹر دودھ کے آرڈر نے ایک بزرگ خاتون کی زندگی تباہ کر دی۔ سائبر مجرموں کے خلاف سخت ایکشن کی ضرورت ہے۔” ایک اور صارف نے کہا، "ہمیں اپنے بزرگ رشتہ داروں کو آن لائن لین دین کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے۔ یہ واقعہ ایک سبق ہے۔”
سائبر فراڈ کے بڑھتے واقعات
بھارت میں سائبر فراڈ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (NCRB) کے مطابق، 2024 میں بھارت میں سائبر جرائم کے 65,000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے زیادہ تر فشنگ، آن لائن بینکنگ فراڈ، اور ریموٹ ایکسس حملوں سے متعلق تھے۔ بوڑھے افراد، جو ٹیکنالوجی سے کم واقف ہوتے ہیں، ان جرائم کا آسان ہدف بن رہے ہیں۔ ممبئی پولیس کے مطابق، 2025 کے پہلے سات ماہ میں شہر میں 3,200 سے زائد سائبر فراڈ کی شکایات درج ہوئیں، جن میں سے 60 فیصد کا تعلق جعلی آن لائن سروسز سے تھا۔
ممبئی کی اس بزرگ خاتون کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے خطرے اور ڈیجیٹل دور میں احتیاط کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک لیٹر دودھ جیسے معمولی آرڈر کے لیے 18 لاکھ روپے کا نقصان نہ صرف ایک مالی دھچکا ہے بلکہ ایک جذباتی صدمہ بھی ہے، خاص طور پر ایک بزرگ خاتون کے لیے جنہوں نے اپنی زندگی کی جمع پونجی محنت سے جمع کی تھی۔ یہ واقعہ بوڑھے افراد کی کمزوری اور سائبر مجرموں کی بڑھتی ہوئی ہوشیاری کو ظاہر کرتا ہے، جو عام شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔
اس واقعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سائبر سیکیورٹی کے بارے میں عمومی شعور کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بزرگ افراد، جو اکثر ٹیکنالوجی سے کم واقف ہوتے ہیں، کو خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حکومتیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ سائبر فراڈ کے خلاف سخت قوانین نافذ کریں اور عوام کے لیے مفت تربیتی پروگرام شروع کریں، جن میں آن لائن سیکیورٹی کے بنیادی اصول سکھائے جائیں۔
اس کے علاوہ، بینکوں اور آن لائن سروسز کو اپنے صارفین کی سیکیورٹی کے لیے اضافی اقدامات اٹھانے چاہئیں، جیسے کہ دوہری توثیق اور مشکوک لین دین کی فوری اطلاع۔ واڈالا کے اس واقعے نے ظاہر کیا کہ ایک سادہ لنک کس طرح کسی کی زندگی تباہ کر سکتا ہے، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ نامعلوم ذرائع سے موصول ہونے والے پیغامات پر فوری عمل کرنے سے گریز کریں۔
یہ واقعہ ایک تلخ سبق ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سہولت کے ساتھ خطرات بھی جڑے ہیں۔ خاتون کی جمع پونجی کی واپسی کے امکانات کم ہیں، لیکن اگر پولیس ملزم کو پکڑنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ دیگر متاثرین کے لیے ایک امید کی کرن ہو سکتی ہے۔ اس واقعے سے ہر فرد کو یہ سیکھنا چاہیے کہ آن لائن لین دین میں احتیاط برتنا اور اپنی ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنا کتنا ضروری ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے سے ہی اس طرح کے واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔





















