تاریخی مسجد لاہور میں فوٹو شوٹ کرنے پر ماڈل مشکلات کا شکار

ویڈیو میں ماڈل کو ایسے لباس میں دیکھا گیا، جسے عوام اور حکام نے مسجد کے تقدس کے منافی قرار دیا

لاہور: لاہور کی تاریخی اور مقدس مسجد وزیر خان ایک بار پھر تنازع کی زد میں آ گئی، جب ماڈل عزبیہ خان اور فوٹوگرافر زین شاہ نے بغیر اجازت اس کے صحن میں ایک ویڈیو شوٹ کی، جس نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ وائرل ہونے والی ویڈیو میں ماڈل کے نامناسب لباس نے عوام اور حکام کی توجہ حاصل کی، جس کے نتیجے میں اکبری گیٹ پولیس نے والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی (WCLA) کی شکایت پر دونوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ یہ واقعہ تاریخی مقامات کے تقدس اور ذمہ دارانہ رویے کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے۔

واقعے کی تفصیلات

 لاہور کے قلب میں واقع 17ویں صدی کی شاہکار مسجد وزیر خان میں ماڈل عزبیہ خان نے فوٹوگرافر زین شاہ کے ساتھ مل کر ایک ویڈیو فوٹو شوٹ کیا، جو چند روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ ویڈیو میں ماڈل کو ایسے لباس میں دیکھا گیا، جسے عوام اور حکام نے مسجد کے تقدس کے منافی قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق، یہ شوٹ صبح سویرے، بغیر کسی سرکاری اجازت کے کیا گیا، جو والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی کے عہدیدار محمد عوائس نے شکایت درج کرائی، جس میں کہا گیا کہ اس فعل نے نہ صرف مسجد کے تقدس کو پامال کیا بلکہ اتھارٹی کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا۔ شکایت کے مطابق، عزبیہ خان اور زین شاہ نے بغیر پیشگی اجازت کے مسجد کے صحن میں داخل ہو کر ویڈیو ریکارڈ کی، جو ایک مقدس مقام کے لیے ناقابل قبول ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا، جہاں صارفین نے اسے مذہبی اور ثقافتی اقدار کی توہین قرار دیتے ہوئے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔

قانونی کارروائی اور پولیس کا ردعمل

اکبری گیٹ پولیس نے والڈ سٹی اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ملیحہ رشید کی ہدایت پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ یہ دفعہ کسی مقدس مقام یا عبادت گاہ کی بے حرمتی سے متعلق جرائم سے تعلق رکھتی ہے، جس کے تحت ملزمان کو دو سال تک قید یا جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عزبیہ خان اور زین شاہ نے مسجد کے صحن کی سیڑھیوں پر نامناسب لباس میں ویڈیو شوٹ کی، جو عوامی جذبات کو مجروح کرنے کا باعث بنی۔

پولیس نے فوری طور پر تفتیش شروع کر دی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپوں کا سلسلہ آغاز کر دیا۔ اکبری گیٹ پولیس کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی چھان بین کر رہے ہیں تاکہ ملزمان کا پتہ لگایا جا سکے۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ تاریخی اور مذہبی مقامات کا تقدس برقرار رکھا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر عوامی غم و غصہ

ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر ایکس پر، صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ ایک صارف نے لکھا، "مسجد وزیر خان جیسے مقدس مقام پر اس طرح کا فوٹو شوٹ ناقابل معافی ہے۔ حکام کو چاہیے کہ ملزمان کو سخت سزا دیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرات نہ کرے۔” ایک اور صارف نے سوال اٹھایا، "آخر کون لوگوں کو ایسی جگہوں پر بغیر اجازت داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے؟” عوام نے والڈ سٹی اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد کے داخلی راستوں پر نگرانی کو سخت کرے اور غیر مجاز سرگرمیوں کو روکنے کے لیے موثر نظام وضع کرے۔

مسجد وزیر خان کی تاریخی اہمیت

مسجد وزیر خان، جو 1634 سے 1641 کے دوران مغل بادشاہ شاہ جہاں کے دور میں تعمیر کی گئی، لاہور کے والڈ سٹی میں واقع ایک شاہکار ہے۔ یہ مسجد اپنی نفیس کاشی کاری (کاشی کاری) اور رنگین فریسکو پینٹنگز کے لیے مشہور ہے، جو مغل اور پنجابی ثقافتی عناصر کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ایک عبادت گاہ ہے بلکہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ مسجد کے صحن میں صوفی بزرگ میراں بادشاہ کا مقبرہ بھی موجود ہے، جو اسے مذہبی اور ثقافتی اعتبار سے مزید اہم بناتا ہے۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور آغا خان ٹرسٹ فار کلچر 2009 سے اس مسجد کی بحالی پر کام کر رہے ہیں، جس میں ناروے، جرمنی، اور امریکہ کی مالی امداد شامل ہے۔ اس کی بحالی نے اسے سیاحوں اور زائرین کے لیے ایک اہم مقام بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔

ماضی کے تنازعات

یہ پہلا موقع نہیں کہ مسجد وزیر خان تنازع کا شکار ہوئی ہو۔ 2020 میں اداکارہ صبا قمر اور گلوکار بلال سعید پر بھی اسی مسجد میں ایک میوزک ویڈیو کی شوٹنگ کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس وقت بھی عوامی غم و غصے کے بعد پنجاب اوقاف اینڈ ریلیجیس افیئرز ڈیپارٹمنٹ نے سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔ تاہم، 2022 میں لاہور کی ایک سیشن کورٹ نے صبا قمر اور بلال سعید کو بری کر دیا تھا، کیونکہ عدالت کو ان کے خلاف دانستہ توہین کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔ اس سابقہ واقعے نے حکام کو زیادہ چوکس کر دیا تھا، لیکن حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نگرانی کے نظام میں ابھی بھی خامیاں موجود ہیں۔

حکام کی ذمہ داریاں

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے اس واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسجد کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ملیحہ رشید نے کہا کہ غیر مجاز سرگرمیوں کو روکنے کے لیے نئے حفاظتی اقدامات متعارف کرائے جائیں گے، جن میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور داخلی راستوں پر چیکنگ کا سخت نظام شامل ہے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ تاریخی مقامات پر مناسب لباس اور رویے کا خیال رکھیں۔

مسجد وزیر خان میں پیش آنے والا یہ واقعہ پاکستانی معاشرے میں مذہبی اور ثقافتی اقدار کی حساسیت کو اجاگر کرتا ہے۔ عزبیہ خان اور زین شاہ کی جانب سے بغیر اجازت فوٹو شوٹ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ایسی حرکت ہے جس نے لاکھوں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ مسجد وزیر خان صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ پاکستان کی تاریخی، مذہبی، اور ثقافتی شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے تقدس کو پامال کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے، اور عوامی ردعمل سے واضح ہوتا ہے کہ لوگ اسے اپنی دینی اور قومی شناخت سے جوڑتے ہیں۔

تاہم، یہ واقعہ کچھ اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ سب سے پہلے، والڈ سٹی اتھارٹی اور دیگر حکام کی جانب سے نگرانی کے نظام کی ناکامی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اگر صبح سویرے کوئی شخص بغیر اجازت مسجد کے صحن میں داخل ہو کر ویڈیو بنا سکتا ہے، تو اس سے سیکیورٹی اور انتظامی کمزوریاں عیاں ہوتی ہیں۔ دوسرا، سوشل میڈیا پر فوری اور شدید ردعمل نے اگرچہ حکام کو کارروائی پر مجبور کیا، لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عوام بعض اوقات بغیر مکمل معلومات کے فیصلے سنا دیتے ہیں۔ ملزمان کی نیت کیا تھی، یہ جانچ کا معاملہ ہے، اور عدالت کو اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ آیا یہ دانستہ توہین تھی یا محض لاپرواہی۔

اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ تاریخی اور مذہبی مقامات پر سرگرمیوں کے لیے واضح رہنما اصولوں کی ضرورت ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی کو چاہیے کہ وہ سیاحوں، فوٹوگرافرز، اور دیگر زائرین کے لیے ایک شفاف پالیسی بنائے، جس میں مناسب لباس، اجازت کے تقاضے، اور دیگر ضوابط شامل ہوں۔ اس کے علاوہ، عوام کو بھی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر تنقید کرتے وقت ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ملزمان کو منصفانہ سماعت کا موقع دیں۔

یہ واقعہ ایک طرف تو حکام کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ تاریخی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنائیں، اور دوسری طرف عوام کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ اپنی ثقافتی اور مذہبی ورثے کی قدر کریں۔ اگر اس واقعے سے سبق سیکھا جائے اور حفاظتی اقدامات کو بہتر کیا جائے، تو مستقبل میں اس طرح کے تنازعات سے بچا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین