دبئی: کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا ٹاکرا، پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ 2025 کا میچ، نہ صرف کھلاڑیوں اور شائقین کے لیے ایک سنسنی خیز مقابلہ ہے بلکہ اشتہاری دنیا کے لیے بھی ایک سنہری موقع ثابت ہو رہا ہے۔ ایشیا کپ 2025، جو 9 ستمبر سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہو رہا ہے، کے دوران پاک-بھارت میچ نے اشتہارات کی قیمتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس میچ کے دوران صرف 10 سیکنڈ کے ٹی وی اشتہار کی قیمت پاکستانی 51 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ مکمل اشتہاری پیکجز کی قیمتیں کروڑوں روپے تک جا پہنچی ہیں۔ رائٹس ہولڈرز اس ٹورنامنٹ سے ریکارڈ ساز ناظرین کی تعداد کی توقع کر رہے ہیں، جو اسے کرکٹ کی تاریخ کے سب سے زیادہ منافع بخش ایونٹس میں سے ایک بنا رہا ہے۔
اشتہارات کی ریکارڈ توڑ قیمتیں
ایشیا کپ 2025 کے میڈیا رائٹس ہولڈر سونی پکچرز نیٹ ورکس انڈیا (SPNI) نے اس ٹورنامنٹ کے لیے اشتہاری قیمتوں کو ناقابل یقین حد تک بڑھا دیا ہے، خاص طور پر پاک-بھارت میچ کے لیے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہونے والے اس میچ کے دوران ایک 10 سیکنڈ کے ٹی وی اشتہار کی قیمت بھارتی 16 لاکھ روپے (پاکستانی تقریباً 51 لاکھ روپے) تک جا پہنچی ہے۔ اس کے علاوہ، مکمل اشتہاری پیکج، جو بھارت کے میچوں اور دیگر میچوں کو شامل کرتا ہے، کی قیمت پاکستانی 14 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
سونی پکچرز نیٹ ورکس نے اشتہاری پیکجز کو تین بڑی کیٹیگریز میں تقسیم کیا ہے:
کو-پریزینٹنگ پارٹنرشپ: اس کی قیمت پاکستانی 58 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جو ٹورنامنٹ کے دوران نمایاں برانڈنگ فراہم کرتی ہے۔
ایسوسی ایٹ پارٹنرشپ: اس کی قیمت پاکستانی 41 کروڑ روپے سے زائد ہے، جو برانڈز کو میچوں کے دوران نمایاں مقام دیتا ہے۔
ڈیجیٹل اشتہارات: سونی لیو (SonyLIV) پر کو-پریزینٹنگ اور ہائی لائٹس پارٹنرشپ کی قیمت پاکستانی 96 کروڑ روپے سے زائد ہے، جبکہ "کو-پاورڈ بائی” پیکج کی قیمت 58 کروڑ روپے ہے۔ ڈیجیٹل اشتہارات میں پری-رول اشتہارات (بھارت-پاکستان میچ کے لیے 750 روپے فی 10 سیکنڈ)، مڈ-رول اشتہارات (600 روپے فی 10 سیکنڈ)، اور کنیکٹڈ ٹی وی اشتہارات (1200 روپے فی میچ) شامل ہیں۔
سونی اسپورٹس نیٹ ورک اور سونی لیو پر نشر ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے لیے اشتہاری جگہ کا 30 فیصد صرف بھارت کے میچوں کے لیے مختص کیا گیا ہے، جس سے پاک-بھارت ٹاکرے کی کمرشل اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ایشیا کپ 2025 کا ڈھانچہ اور پاک-بھارت میچ
ایشیا کپ 2025 ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلا جائے گا، جو 9 سے 28 ستمبر تک دبئی اور ابوظہبی میں منعقد ہوگا۔ اس ٹورنامنٹ میں 8 ٹیمیں 19 میچوں میں حصہ لیں گی، جن میں سے پاک-بھارت کے تین ممکنہ مقابلوں نے سب کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ گروپ اے میں پاکستان، بھارت، متحدہ عرب امارات، اور عمان شامل ہیں، جبکہ گروپ بی میں سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، اور ہانگ کانگ ہیں۔
پاکستان اور بھارت کا پہلا ٹاکرا 14 ستمبر کو دبئی میں ہوگا، جو گروپ اسٹیج کا سب سے بڑا میچ ہے۔ اگر دونوں ٹیمیں سپر فور مرحلے تک پہنچیں، تو وہ دوبارہ مدمقابل آ سکتی ہیں، اور فائنل میں بھی ان کا آمنا سامنا ممکن ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے میچ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم اور ابوظہبی کے میدانوں میں کھیلے جائیں گے، جہاں فائنل 28 ستمبر کو دبئی میں ہوگا۔
ایشین کرکٹ کونسل (ACC) نے بڑے اسپانسرز کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جن میں ڈی پی ورلڈ (ٹائٹل اسپانسر)، ونڈر سیمنٹ، اسپنی، اور گرو شامل ہیں۔ آفیشل پارٹنرز میں رائل سٹیگ پیکجڈ ڈرنکنگ واٹر، ہائر، ڈائیکن، اور اوزون شامل ہیں۔ ان اسپانسرشپس کی قیمت 10 سے 20 کروڑ روپے کے درمیان ہے، جو ٹورنامنٹ کی کمرشل اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
پاک-بھارت میچ کی کمرشل اپیل
پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز ہمیشہ سے بے پناہ توجہ حاصل کرتے ہیں، اور یہ مقابلہ کرکٹ کی دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ سمجھا جاتا ہے۔ اس میچ کی مقبولیت کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی دشمنی، شائقین کا جوش و خروش، اور کھیل کا اعلیٰ معیار ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاک-بھارت میچ نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا میں کروڑوں ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، جو اسے اشتہاری دنیا کے لیے ایک سنہری موقع بناتا ہے۔
سونی پکچرز نیٹ ورکس نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی اشتہاری جگہ کو اسٹریٹجک طور پر تقسیم کیا ہے۔ بھارت کے میچوں کے لیے الگ سے زیادہ قیمت رکھی گئی ہے، جبکہ پاک-بھارت میچ کی اشتہاری جگہ کو سب سے زیادہ قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ ایک میڈیا ماہر نے کہا کہ "یہ میچ صرف ایک کھیل نہیں، بلکہ ایک عالمی ایونٹ ہے جو برانڈز کو اپنی رسائی بڑھانے کا نادر موقع فراہم کرتا ہے۔”
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایشیا کپ 2025 کے اشتہاری ریٹس کی خبریں سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہیں۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، "پاک-بھارت میچ کے 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت 51 لاکھ روپے؟ یہ تو ایک عام پاکستانی کے سال بھر کے اخراجات سے زیادہ ہے!” ایک اور صارف نے طنزیہ انداز میں کہا، "اگر اتنی قیمت پر اشتہار دینا ہے، تو برانڈز کو چاہیے کہ وہ اپنی پوری کہانی 10 سیکنڈ میں سنا دیں!” پاکستانی شائقین نے اس میچ کے لیے اپنے جوش و خروش کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے اسے کرکٹ کی کمرشلائزیشن پر تنقید بھی کی۔
پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) اسپورٹس نے بھی اعلان کیا کہ اس نے 2025 سے 2027 تک ایشین کرکٹ کونسل کے ٹی وی رائٹس حاصل کر لیے ہیں، اور پاک-بھارت میچ سمیت تمام میچز پاکستان کے نمبر ون اسپورٹس چینل پر نشر کیے جائیں گے۔ اس اعلان نے پاکستانی شائقین میں جوش و خروش کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ایشیا کپ کی تیاریاں اور تنازعات
ایشیا کپ 2025 کے لیے تیاریاں زوروں پر ہیں، لیکن پاک-بھارت میچ کے حوالے سے کچھ تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ بھارت کے سابق کرکٹر کیدر جادھو نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ میچ نہیں کھیلنا چاہیے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سرحدی تناؤ نے حالات کو کشیدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے "آپریشن سندور” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اس میچ کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ تاہم، ایشین کرکٹ کونسل نے دونوں ٹیموں کو ایک ہی گروپ میں رکھ کر اس مقابلے کو یقینی بنایا ہے، جو شائقین کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔
پاکستان نے اپنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے، جس کی قیادت سلمان علی آغا کریں گے، جبکہ بابر اعظم اور محمد رضوان کو اسکواڈ سے باہر کر دیا گیا ہے، جو ایک حیران کن فیصلہ ہے۔ دوسری طرف، بھارت کی ٹیم کے لیے کپتان سوریا کمار یادیو کی فٹنس کی تصدیق ہو چکی ہے، لیکن شبمن گل کی شمولیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایشیا کپ 2025 کا پاک-بھارت میچ نہ صرف کرکٹ کے میدان میں ایک عظیم الشان مقابلہ ہے بلکہ کمرشل دنیا کے لیے بھی ایک زبردست موقع ہے۔ 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت پاکستانی 51 لاکھ روپے اور مکمل پیکجز کی قیمتیں کروڑوں روپے تک پہنچنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ میچ کس قدر مقبول اور منافع بخش ہے۔ پاک-بھارت میچ کی تاریخی دشمنی، شائقین کا جذباتی لگاؤ، اور اس کی عالمی رسائی اسے برانڈز کے لیے ایک پرکشش پلیٹ فارم بناتی ہے۔
تاہم، اس کمرشلائزیشن نے کرکٹ کے اصل جوہر پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ جہاں ایک طرف یہ میچ شائقین کے لیے ایک سنسنی خیز تجربہ ہے، وہیں اس کی بڑھتی ہوئی مالیاتی اہمیت کھیل کو ایک کاروباری سرگرمی میں تبدیل کر رہی ہے۔ پاکستانی شائقین کے لیے یہ ایک خوشخبری ہے کہ PTV اسپورٹس پر یہ میچ دیکھا جا سکے گا، لیکن اس کے ساتھ ہی حکام کو چاہیے کہ وہ اس مقابلے کو سیاسی تنازعات سے پاک رکھیں تاکہ کھیل کا اصل لطف برقرار رہے۔
اس کے علاوہ، ایشین کرکٹ کونسل اور سونی پکچرز نیٹ ورکس کی اسٹریٹجی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس میچ کی کمرشل ویلیو سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ اسپانسرز اور برانڈز پاکستانی اور بھارتی شائقین کے جذبات کا خیال رکھیں اور ایسی مہمات بنائیں جو دونوں ممالک کے ناظرین کو جوڑ سکیں۔ اگر یہ میچ اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کھیلا گیا اور اس کی کمرشل ویلیو کو ذمہ داری سے استعمال کیا گیا، تو یہ نہ صرف کرکٹ کی تاریخ میں ایک یادگار لمحہ ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان کھیل کے ذریعے تعلقات کو بہتر بنانے کا ایک موقع بھی فراہم کر سکتا ہے۔





















