واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے ملک میں پوسٹل بیلٹ سسٹم کو ختم کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔
میڈیا گفتگو میں دھاندلی کا الزام
ٹرمپ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ پوسٹل بیلٹ کا نظام دھاندلی کا ایک بڑا ذریعہ ہے، اس لیے وہ اسے ختم کرنے کے لیے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا کے بہترین وکلا اس ایگزیکٹو آرڈر کی تیاری میں مصروف ہیں۔
ڈیموکریٹس پر سنگین الزام
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ پوسٹل بیلٹ ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے ڈیموکریٹس اقتدار حاصل کرتے ہیں۔
2020 انتخابات کا حوالہ اور عالمی مثال
انہوں نے کہا کہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں انہیں اسی نظام کے ذریعے شکست دی گئی تھی، جب کہ کئی دیگر ممالک پہلے ہی پوسٹل بیلٹ کا طریقہ ترک کر چکے ہیں۔
انتخابی ماحول میں نئی ہلچل
امریکا میں وسط مدتی انتخابات اگلے سال 3 نومبر کو منعقد ہوں گے، اور ٹرمپ کا یہ بیان انتخابی فضا میں نئی ہلچل پیدا کر رہا ہے۔
پس منظر
پوسٹل بیلٹ یا میل ان ووٹنگ کا نظام امریکا میں ایک طویل تاریخ رکھتا ہے، جو خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے، فوجی اہلکاروں، بوڑھے افراد اور معذور شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام 19ویں صدی سے چلا آ رہا ہے، لیکن 2020 کے صدارتی انتخابات کے دوران اسے شدید تنازعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈونلڈ ٹرمپ، جو اس وقت صدر تھے، نے انتخابات سے پہلے اور بعد میں بار بار میل ان بیلٹس پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے، دعویٰ کیا کہ یہ نظام ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچاتا ہے اور ووٹوں میں ہیرا پھیری کی جا سکتی ہے۔ ان الزامات کے باوجود، متعدد عدالتوں، انتخابی کمیشنوں اور آزاد تحقیقات نے یہ ثابت کیا کہ 2020 کے انتخابات میں کوئی بڑے پیمانے پر دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔ ٹرمپ کی 2024 کی انتخابی مہم میں بھی یہ مسئلہ مرکزی حیثیت رکھتا رہا، اور اب 2025 میں، جب وہ دوبارہ صدر بن چکے ہیں، یہ اعلان 2026 کے وسط مدتی انتخابات کی تیاری کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، ٹرمپ کا یہ قدم روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں پوٹن نے مبینہ طور پر میل ان ووٹنگ کو امریکی انتخابات کی کمزوری قرار دیا تھا۔ امریکا میں میل ان ووٹنگ ریاستوں کی سطح پر منظم کیا جاتا ہے، اور وفاقی حکومت کا اس پر مکمل کنٹرول نہیں ہے۔
تجزیہ
ٹرمپ کا یہ اعلان سیاسی، قانونی اور انتخابی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، لیکن اس کی عملی حیثیت پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو یکطرفہ طور پر ووٹنگ قوانین تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ انتخابات ریاستوں کی ذمہ داری ہیں اور کانگریس کی منظوری کے بغیر کوئی ایگزیکٹو آرڈر اسے ختم نہیں کر سکتا۔ ٹرمپ کا دعویٰ کہ میل ان بیلٹس ڈیموکریٹس کے لیے اقتدار کا واحد راستہ ہیں، ان کی پرانی انتخابی حکمت عملی کا تسلسل ہے، جو 2020 کی شکست کو دھاندلی سے جوڑتی ہے۔ تاہم، یہ الزامات متعدد قانونی چیلنجز میں مسترد ہو چکے ہیں، اور مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ میل ان ووٹنگ میں دھاندلی کا خطرہ بہت کم ہے۔
سیاسی طور پر، یہ بیان ریپبلکن پارٹی کی بنیاد کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، جو ووٹر ٹرن آؤٹ کو کم کرنے پر زور دیتی ہے، خاص طور پر شہری اور اقلیتی گروپس میں جو میل ان ووٹنگ پر انحصار کرتے ہیں۔ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں، جہاں کانگریس کی نشستوں کا کنٹرول داؤ پر ہے، یہ اقدام ڈیموکریٹس کو متحرک کر سکتا ہے اور قانونی مقدمات کا باعث بن سکتا ہے۔ X پر صارفین کی آراء تقسیم شدہ ہیں: کچھ ٹرمپ کی حمایت میں یہ قدم "انتخابی صفائی” قرار دے رہے ہیں، جب کہ دوسرے اسے آمریت کی طرف قدم سمجھتے ہیں، خاص طور پر یو ایس پی ایس پر کنٹرول کی کوششوں کے تناظر میں۔
عالمی سطح پر، کئی ممالک جیسے کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ میل ان ووٹنگ استعمال کرتے ہیں، لیکن ٹرمپ کا حوالہ ان ممالک کی طرف ہے جو اسے محدود کر چکے ہیں، جیسے بعض یورپی ملک۔ یہ اعلان انتخابی ماحول کو مزید پولرائز کر سکتا ہے، اور اگر یہ آرڈر جاری ہوا تو سپریم کورٹ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ مجموعی طور پر، یہ قدم ٹرمپ کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے، لیکن اس کی کامیابی قانونی رکاوٹوں پر منحصر ہے۔





















