لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)وفاقی دارالحکومت کی عدالتوں میں حالیہ دنوں میں ایک غیر معمولی سماجی رجحان نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں خاندانی تنازعات اور رشتوں کے ٹوٹنے کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عدالتی نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ اس صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر رہا ہے۔
اسلام آبادمیں فیملی کورٹس کے اعداد و شمار کے مطابق خلع اور نان نفقہ کے مقدمات میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا ہے۔ رواں سال کے دوران اب تک 45 ہزار سے زیادہ ایسے کیسز عدالتوں میں دائر کیے جا چکے ہیں، جس سے عدالتی نظام پر بوجھ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ ہر ماہ اوسطاً 9 ہزار سے زائد نئے مقدمات رجسٹر ہو رہے ہیں، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 300 فیملی تنازعات عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں یہ رجحان مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ سال 2023 میں مجموعی کیسز کی تعداد تقریباً 85 ہزار رہی، 2024 میں یہ بڑھ کر 91 ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ 2025 میں اب تک یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جو صورتحال کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق دارالحکومت میں روزانہ اوسطاً 30 سے زیادہ جوڑے ایسے بھی ہیں جو عدالتوں کے ذریعے نکاح کے بندھن میں بندھتے ہیں۔ تاہم حیران کن طور پر گزشتہ چار برسوں میں 38 ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جن میں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ کے اندر ہی خلع کی نوبت آ گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر خلع اور نان نفقہ کے مقدمات ان افراد کی جانب سے دائر کیے جا رہے ہیں جنہوں نے پسند کی شادی کی تھی، جس سے یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ سماجی، معاشی اور گھریلو عوامل اس بڑھتے ہوئے رجحان میں کس حد تک کردار ادا کر رہے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ شہرِ اقتدار میں خلع کے بڑھتے ہوئے کیسز محض ایک عدالتی یا قانونی مسئلہ نہیں رہے بلکہ یہ ایک گہرے سماجی رجحان کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ فیملی کورٹس میں کیسز کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ازدواجی رشتوں کے استحکام میں نمایاں کمزوریاں پیدا ہو رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف خواتین کی قانونی آگاہی اور اپنے حقوق سے متعلق شعور میں اضافہ ہوا ہے، وہیں دوسری طرف گھریلو تنازعات، معاشی دباؤ اور باہمی عدم برداشت جیسے عوامل بھی اس رجحان کو تیز کر رہے ہیں۔
اگر اس صورتحال کا متوازن تجزیہ کیا جائے تو سب سے پہلے معاشی حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی نے متوسط اور نچلے طبقے کے گھروں میں دباؤ بڑھا دیا ہے۔ جب گھریلو ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائے تو چھوٹے چھوٹے مسائل بڑے تنازعات میں بدلنے لگتے ہیں۔ یہی تنازعات اکثر ازدواجی تعلقات میں دراڑ ڈال کر علیحدگی تک لے جاتے ہیں۔ خصوصاً شہروں میں جہاں اخراجات نسبتاً زیادہ ہیں، وہاں یہ دباؤ زیادہ شدت اختیار کرتا ہے۔
دوسری اہم وجہ سماجی رویوں میں تبدیلی ہے۔ جدید دور میں انفرادی آزادی، خودمختاری اور ذاتی خواہشات کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ جہاں یہ رجحان بعض حوالوں سے مثبت سمجھا جاتا ہے، وہیں بعض صورتوں میں یہ ازدواجی برداشت اور قربانی کے روایتی تصور کو کمزور بھی کر رہا ہے۔ معمولی اختلافات کو برداشت کرنے کے بجائے فوری طور پر علیحدگی کا راستہ اختیار کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔
تعلیمی اور قانونی شعور میں اضافہ بھی اس رجحان کا ایک پہلو ہے۔ آج کی خواتین پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ اور باخبر ہیں، اور وہ اپنے حقوق سے زیادہ آگاہ ہیں۔ اس آگاہی نے انہیں غیر مساوی یا مشکل رشتوں سے نکلنے کا حوصلہ دیا ہے۔ ماضی میں جہاں بہت سی خواتین خاموشی اختیار کر لیتی تھیں، اب وہ قانونی راستہ اختیار کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں خلع کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔
تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے، اور وہ ہے خاندانی نظام میں کمزور ہوتی ثالثی۔ پہلے بزرگ، خاندان اور برادری کے افراد جھگڑوں کو حل کرنے میں کردار ادا کرتے تھے، لیکن اب یہ ثالثی کا نظام کمزور پڑ چکا ہے۔ چھوٹے خاندانوں، شہری زندگی اور مصروف معمولات نے اس کردار کو محدود کر دیا ہے، جس کے باعث معمولی اختلافات بھی براہ راست عدالتوں تک پہنچ رہے ہیں۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف پلیٹ فارمز پر رشتوں کے حوالے سے مختلف تصورات، مثالی زندگیوں کی نمائش اور غیر حقیقی توقعات بھی ازدواجی زندگی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ بعض اوقات لوگ اپنے حقیقی حالات کا موازنہ ان مثالی تصویروں سے کرنے لگتے ہیں، جس سے عدم اطمینان بڑھتا ہے۔
اس کے باوجود یہ کہنا بھی درست نہیں کہ خلع کے تمام کیسز صرف منفی رجحان کی علامت ہیں۔ بعض صورتوں میں یہ ایک ضروری اور قانونی راستہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب رشتہ شدید ذہنی دباؤ، بدسلوکی یا ناقابل برداشت حالات میں پہنچ جائے۔ ایسے میں خلع خواتین کے لیے ایک قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ ایک بہتر اور محفوظ زندگی کی طرف بڑھ سکیں۔
اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معمولی اختلافات، برداشت کی کمی اور فوری فیصلوں کی روش رشتوں کو توڑنے کا سبب بن جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاشرے، خاندان اور اداروں کو مل کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ شادی سے پہلے مشاورت، ازدواجی تربیت اور تعلقات کو بہتر بنانے کے پروگرام اس صورتحال میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
عدالتی نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ فیملی کورٹس میں کیسز کے انبار نہ صرف نظام کی رفتار کو متاثر کرتے ہیں بلکہ فیصلوں میں تاخیر بھی فریقین کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متبادل حل جیسے ثالثی اور مصالحتی نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جائے تاکہ ہر معاملہ عدالت تک نہ پہنچے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خلع کے بڑھتے ہوئے کیسز ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی مسئلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس کا حل کسی ایک سطح پر ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے معاشرتی رویوں میں بہتری، معاشی استحکام، خاندانی نظام کی بحالی اور قانونی معاونت کے بہتر نظام کی ضرورت ہے۔ اگر ان تمام پہلوؤں پر توجہ دی جائے تو نہ صرف عدالتی بوجھ کم ہو سکتا ہے بلکہ ازدواجی رشتوں میں بھی استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔





















