محکمہ موسمیات کا نیا الرٹ؛ سندھ اور بلوچستان میں 22 اگست تک طوفانی بارشوں کی پیش گوئی

کراچی سمیت سندھ کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ ہے

کراچی: پاکستان کے محکمہ موسمیات نے 22 اگست 2025 تک سندھ، بلوچستان، اور ملک کے دیگر حصوں میں شدید مون سون بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے ایک ہائی الرٹ جاری کیا ہے۔ بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والے طاقتور مون سون سسٹم ملک میں داخل ہو رہے ہیں، جو خاص طور پر جنوبی علاقوں میں تباہی مچا سکتے ہیں۔ کراچی، حیدرآباد، تھرپارکر، اور بلوچستان کے ساحلی و پہاڑی علاقوں میں موسلادھار بارشوں، تیز ہواؤں، اور گرج چمک کے ساتھ اربن فلڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی تیاریوں کی ہدایت کی ہے اور شہریوں سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ 

مون سون کا طاقتور سلسلہ

محکمہ موسمیات کے مطابق، بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے آنے والی مرطوب ہوائیں پاکستان کے موسم کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ یہ طاقتور مون سون سسٹم ملک کے جنوبی، وسطی، اور بالائی علاقوں میں 22 اگست تک فعال رہے گا، جس کے نتیجے میں گرج چمک، تیز ہوائیں، اور موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال پر موجود کم دباؤ کا نظام مون سون کی شدت کو مزید بڑھا رہا ہے، جو سندھ اور بلوچستان کے ساحلی اور نشیبی علاقوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

سندھ میں متوقع بارشیں اور اربن فلڈنگ کا خطرہ

سندھ کے متعدد اضلاع شدید بارشوں کے زیر اثر رہیں گے۔ کراچی، حیدرآباد، تھرپارکر، عمر کوٹ، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، ٹنڈو الہیار، ٹنڈو محمد خان، سانگھڑ، اور جامشورو میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی سے موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔ سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، اور جیکب آباد جیسے بالائی سندھ کے اضلاع میں وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا شدید خطرہ ہے۔ شہر قائد میں حالیہ برسوں میں بارشوں کے دوران نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے سڑکوں پر پانی جمع ہونے اور ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کے واقعات عام ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر گلشن اقبال، کلفٹن، صدر، اور لیاری جیسے علاقوں میں پانی جمع ہونے کا امکان ہے، جو شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

بلوچستان میں ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ

بلوچستان کے اضلاع بارکھان، موسیٰ خیل، لورالائی، سبی، ژوب، قلعہ سیف اللہ، خضدار، لسبیلہ، آواران، کیچ، گوادر، اور پنجگور میں 22 اگست تک تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ محکمہ موسمیات نے شمالی اور جنوب مشرقی بلوچستان کے برساتی نالوں میں طغیانی کی وارننگ جاری کی ہے، خاص طور پر خضدار، لسبیلہ، اور گوادر جیسے علاقوں میں، جہاں حالیہ بارشوں کے بعد زمین پہلے سے تر ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ، اور تونسہ بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جبکہ گڈو بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے، جو شاہراہوں اور دیہاتوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

پنجاب، خیبر پختونخوا، اور دیگر علاقوں میں بارشوں کا امکان

سندھ اور بلوچستان کے علاوہ، ملک کے دیگر حصوں میں بھی مون سون کی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ بالائی پنجاب کے شہروں راولپنڈی، اٹک، مری، چکوال، جہلم، گجرات، گجرانوالہ، سیالکوٹ، لاہور، ڈیرہ غازی خان، ملتان، اور راجن پور میں ہلکی سے درمیانی شدت کی بارشیں متوقع ہیں۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) پنجاب نے دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کی ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے اضلاع دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، ملاکنڈ، باجوڑ، مہمند، پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، اور صوابی میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارشیں ہوں گی۔ محکمہ موسمیات نے بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسلام آباد، آزاد کشمیر، اور گلگت بلتستان میں بھی ہلکی سے درمیانی بارشوں کی توقع ہے۔

ممکنہ نقصانات اور احتیاطی تدابیر

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز بارشیں، آندھیاں، اور بجلی گرنے کے واقعات کچی عمارتوں، بجلی کے کھمبوں، سائن بورڈز، گاڑیوں، اور سولر پینلز جیسے کمزور ڈھانچوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور برساتی نالوں کے قریب احتیاط برتیں۔ سیاحوں کو خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں سفر سے قبل موسمی حالات کی تازہ اطلاعات حاصل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ایکس کے صارفین نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "کراچی میں پھر سے اربن فلڈنگ کا خطرہ؟ نکاسی آب کا نظام کب ٹھیک ہوگا؟” ایک اور صارف نے کہا، "بلوچستان کے دیہات پہلے ہی سیلاب سے تباہ ہیں، اب مزید بارشوں کی وارننگ خوفناک ہے۔”

حالیہ مون سون کی تباہی

رواں سال مون سون سیزن نے پاکستان بھر میں شدید تباہی مچائی ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق، 26 جون سے 18 اگست تک بارشوں اور سیلاب سے متعلقہ واقعات میں 657 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 171 بچے، 94 خواتین، اور 392 مرد شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 390، پنجاب میں 164، سندھ میں 28، اور بلوچستان میں 20 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ، ہزاروں مکانات تباہ، سڑکیں بند، اور فصلیں زیر آب آ چکی ہیں، جو معاشی نقصانات کو مزید بڑھا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ یہ الرٹ پاکستان کے لیے ایک سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان کے لیے، جہاں اربن فلڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ معاشی اور انسانی نقصانات کو بڑھا سکتا ہے۔ کراچی جیسے شہری علاقوں میں نکاسی آب کے ناقص نظام کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ہنگامی منصوبہ بندی کرنی چاہیے، خاص طور پر کراچی، حیدرآباد، اور گوادر جیسے علاقوں میں، جہاں حالیہ برسوں میں بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ NDMA اور PDMA کو نہ صرف الرٹ جاری کرنے بلکہ عملی اقدامات جیسے کہ نکاسی آب کے نظام کی بہتری، امدادی کیمپوں کی تیاری، اور متاثرہ علاقوں میں فوری رسائی کو یقینی بنانا چاہیے۔

اس کے علاوہ، مون سون سیزن کی شدت میں اضافہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے، جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔ رواں سال 657 اموات اور بڑے پیمانے پر نقصانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ واٹر مینجمنٹ، شجر کاری، اور مضبوط بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔

عوام کو بھی چاہیے کہ وہ محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اگر حکومتی ادارے، شہری، اور میڈیا مل کر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے تعاون کریں، تو نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ یہ الرٹ ایک یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، ورنہ یہ بارشیں ایک بار پھر تباہی کا باعث بن سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین