کراچی اندھیروں میں ڈوب گیا، 36 گھنٹوں سے بجلی غائب ،نظام زندگی مفلوج

فیڈرل بی ایریا بلاک 14 میں 24 گھنٹوں سے بجلی بند ہے، جس کے باعث علاقے میں پانی کا بھی شدید بحران پیدا ہو گیا ہے

شہر قائد میں بارش کے بعد بجلی کا بحران شدید تر ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز کی بارش کے بعد شہر کے متعدد علاقے طویل بریک ڈاؤن کا شکار ہیں، اور کئی علاقوں میں 36 گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود بجلی بحال نہ ہو سکی۔

طویل تاریکی: مخصوص علاقوں میں بجلی کی مسلسل عدم موجودگی

تفصیلات کے مطابق نارتھ ناظم آباد بلاک اے اور گلستانِ جوہر بلاک 9 میں 34 گھنٹے سے بجلی غائب ہے، جبکہ صفورا گوٹھ اسکیم 33 کی سوسائٹیز بشمول سٹی ولاز میں بھی 36 گھنٹے سے زائد وقت گزر چکا ہے، مگر بجلی تاحال بحال نہیں کی گئی۔

بحران کی لپیٹ: شہر بھر کے متاثرہ علاقے

شہر کے دیگر متاثرہ علاقوں میں سعود آباد، غازی گوٹھ، خدا کی بستی، ابراہیم حیدری، شانتی نگر اور اسٹیڈیم روڈ شامل ہیں، جہاں 28 گھنٹے سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

پانی کی قلت کا اضافہ: فیڈرل بی ایریا میں دوہرا بحران

فیڈرل بی ایریا بلاک 14 میں 24 گھنٹوں سے بجلی بند ہے، جس کے باعث علاقے میں پانی کا بھی شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ پانی نہ ہونے کے باعث معمولات زندگی مفلوج ہو چکے ہیں۔

اذیت کی راتیں: مزید علاقوں میں بجلی کی عدم بحالی

علاوہ ازیں نانک واڑہ، یوسف گوٹھ، رامسوامی، کیماڑی اور اعظم بستی میں بھی گزشتہ 22 گھنٹوں سے بجلی بند ہے، اور عوام شدید اذیت کا شکار ہیں۔ علاقہ مکینوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بجلی بحال کی جائے۔

شہریوں کی آواز: بارش اور بجلی کی مسلسل جدائی

شہریوں کا کہنا ہے کہ بارش ہوتے ہی بجلی غائب ہو جاتی ہے، اور دوسری رات بھی بغیر بجلی کے گزارنا پڑ رہا ہے، مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ عوامی حلقوں نے کے الیکٹرک اور ضلعی انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

تجزیہ اور پس منظر

یہ بحران یقینی طور پر کراچی کے شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن اس میں مثبت پہلو یہ ہے کہ ایسے مواقع شہری انتظامیہ اور یوٹیلیٹی کمپنیوں کو اپنے نظام کو بہتر بنانے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ کے الیکٹرک جیسی اداروں نے ماضی میں بارشوں کے دوران بریک ڈاؤنز کو کم کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن پر کام کیا ہے، جیسے کیبلز کو واٹر پروف بنانا اور نئی ٹرانسفارمرز کی تنصیب، جو مستقبل میں ایسے بحرانوں کو کم کر سکتی ہے۔ اگرچہ موجودہ صورتحال میں تاخیر ہوئی ہے، لیکن شہریوں کی آواز اور میڈیا کی توجہ سے فوری کارروائی کی امید ہے، جو نہ صرف بحالی کو تیز کرے گی بلکہ طویل مدتی حل کی بنیاد رکھے گی۔ شہری بھی ایسے وقت میں متحد ہو کر ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں، جیسے کمیونٹی جنریٹرز کا استعمال یا پانی کی تقسیم، جو بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ایک موقع ہے کہ کراچی کی بجلی کی سپلائی کو مزید قابل اعتماد بنایا جائے، اور شہریوں کی لچک اور اداروں کی ذمہ داری مل کر اسے حل کر سکتی ہے۔

پس منظر کے حوالے سے، کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں مون سون کی بارشوں کے ساتھ بجلی کا بحران ایک پرانی اور مسلسل مسئلہ رہا ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں پرانی اور ناکافی انفراسٹرکچر، تیز شہری آبادی کی وجہ سے لوڈ کا بڑھنا، اور بارش کے پانی سے ہونے والے برقی آلات کی خرابی شامل ہیں۔ کے الیکٹرک، جو شہر کی بجلی کی فراہمی کا ذمہ دار ہے، نے گزشتہ برسوں میں سرمایہ کاری کی ہے، لیکن موسمی تبدیلیوں اور آبادی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب نے چیلنجز کو برقرار رکھا ہے۔ تاریخی طور پر، 2010 کی دہائی سے ایسے بحران بار بار سامنے آئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے حکومت اور نجی شعبے نے پلانز بنائے ہیں، جیسے اسمارٹ گرڈ سسٹم کی طرف منتقلی، جو مستقبل میں بہتری کی نوید لا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین