ہمارے جسم پر کووڈ کے خطرناک اثرات کس طرح پڑتے ہیں؟

کووڈ-19 خون کی شریانوں پر براہ راست حملہ آور ہوتا ہے، جس سے ان کی ساخت اور کام متاثر ہوتا ہے

کووڈ-19، جو ایک عالمی وبا کے طور پر 2020 میں ابھرا، اب بھی اپنے طویل مدتی اثرات کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے لا رہا ہے۔ یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ تحقیق نے ایک سنگین حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ کووڈ-19 خون کی شریانوں کی عمر کو قبل از وقت پانچ سال تک بڑھا سکتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ یہ رپورٹ کووڈ کے قلبی نظام پر اثرات، خاص طور پر خواتین پر اس کے گہرے اثرات، اور ویکسینیشن کے فوائد پر روشنی ڈالتی ہے، جو اس وائرس سے لڑنے میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

خون کی شریانوں پر کووڈ کا حملہ

یونیورسٹی سٹی پیرس کی زیر نگرانی کی گئی اس تحقیق نے انکشاف کیا کہ کووڈ-19 انفیکشن خون کی شریانوں کی عمر کو تیزی سے بڑھاتا ہے، جس سے وہ وقت سے پہلے سخت اور کم لچکدار ہو جاتی ہیں۔ یہ عمل، جسے طبی زبان میں "آرٹیریل اسٹفنس” کہا جاتا ہے، دل کی بیماریوں کا ایک بڑا خطرہ ہے۔ تحقیق کے مطابق، کووڈ سے متاثر ہونے والے افراد کی شریانیں اوسطاً پانچ سال زیادہ عمر کی دکھائی دیتی ہیں، جو ہارٹ اٹیک اور فالج کے امکانات کو بڑھاتا ہے۔ خاص طور پر خواتین میں یہ اثر زیادہ نمایاں دیکھا گیا، جو اس وائرس کے جنسی بنیاد پر مختلف اثرات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ویکسینیشن کی اہمیت

تحقیق سے ایک امید افزا پہلو بھی سامنے آیا کہ جن افراد نے کووڈ-19 کی ویکسین لگوائی تھی، ان میں شریانوں کی سختی کا اثر غیر ویکسین شدہ افراد کے مقابلے میں کم تھا۔ مزید یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان افراد میں علامات میں بتدریج کمی دیکھی گئی۔ یہ نتیجہ ویکسینیشن کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو نہ صرف کووڈ کے شدید اثرات سے بچاتی ہے بلکہ اس کے طویل مدتی قلبی خطرات کو بھی کم کرتی ہے۔

ماہرین کی رائے

تحقیق کی سربراہ، پروفیسر روزا ماریہ برونو نے کہا کہ کووڈ-19 خون کی شریانوں پر براہ راست حملہ آور ہوتا ہے، جس سے ان کی ساخت اور کام متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وائرس شریانوں کی عمر کو ان کی حیاتیاتی عمر سے زیادہ کر دیتا ہے، جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ پروفیسر برونو نے زور دیا کہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ابتدائی مرحلے پر ان افراد کی شناخت ضروری ہے جنہیں کووڈ کے بعد قلبی پیچیدگیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت تشخیص اور علاج سے ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے سنگین نتائج سے بچا جا سکتا ہے۔

پس منظر

کووڈ-19 نے 2020 سے اب تک دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کیا ہے، اور اس کے طویل مدتی اثرات، جنہیں "لانگ کووڈ” کہا جاتا ہے، مسلسل تحقیق کا موضوع ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق، کووڈ سے متاثر ہونے والے 10 سے 20 فیصد افراد طویل مدتی علامات کا شکار ہوتے ہیں، جن میں تھکاوٹ، سانس کی تنگی، اور قلبی مسائل شامل ہیں۔ پاکستان میں، جہاں کووڈ کے دوران صحت کے نظام پر شدید دباؤ پڑا، اب بھی لانگ کووڈ کے اثرات سے متعلق شعور کی کمی ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (NICVD) کے مطابق، کووڈ کے بعد دل کی بیماریوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے دیگر بیماریوں کا شکار تھے۔

یورپین ہارٹ جرنل کی یہ تحقیق کووڈ-19 کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ خون کی شریانوں کی قبل از وقت عمر بڑھنے کا انکشاف نہ صرف کووڈ کے خطرناک اثرات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ صحت کے نظام کے لیے ایک نئی چیلنج پیش کرتا ہے۔ خاص طور پر خواتین میں اس اثر کی شدت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کووڈ کے اثرات جنسی بنیاد پر مختلف ہو سکتے ہیں، جس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ویکسینیشن کے فوائد سے متعلق نتائج ایک مثبت پیغام دیتے ہیں کہ ویکسین نہ صرف فوری تحفظ فراہم کرتی ہے بلکہ طویل مدتی صحت کے خطرات کو بھی کم کرتی ہے۔ یہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک اہم سبق ہے، جہاں ویکسینیشن کی شرح اب بھی مطلوبہ سطح سے کم ہے۔ عوام میں شعور بیدار کرنے اور ویکسینیشن مہمات کو تیز کرنے سے کووڈ کے طویل مدتی اثرات سے بچاؤ ممکن ہے۔

پروفیسر برونو کی تجویز کہ ہائی رسک افراد کی بروقت شناخت کی جائے، پاکستانی صحت کے نظام کے لیے ایک اہم ہدایت ہے۔ پاکستان میں، جہاں دل کی بیماریاں پہلے ہی اموات کی ایک بڑی وجہ ہیں، کووڈ کے بعد قلبی پیچیدگیوں کی نگرانی کے لیے خصوصی پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) اور دیگر اداروں کو چاہیے کہ وہ ای سی جی، ایکو کارڈیوگرافی، اور دیگر ٹیسٹوں کے ذریعے کووڈ سے صحت یاب افراد کی نگرانی کریں تاکہ ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرات کو کم کیا جا سکے۔

یہ تحقیق ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ کووڈ-19 کو اب بھی ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ اگرچہ وبا کے شدید دن گزر چکے ہیں، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات ہمارے صحت کے نظام کے لیے ایک مستقل چیلنج ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ صحت مند طرز زندگی اپنائیں، باقاعدہ چیک اپ کروائیں، اور ویکسینیشن کو ترجیح دیں۔ اگر ہم اس تحقیق کے نتائج پر عمل کریں اور بروقت اقدامات اٹھائیں، تو ہم نہ صرف کووڈ کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک صحت مند مستقبل بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین