ایشیئن باڈی بلڈنگ چیمپیئن شپ میں پاکستان کی تاریخی کامیابی پانچ گولڈ، چھ میں سے پانچ فاتح

ایشیا بھر میں باڈی بلڈنگ اور فزیک کیٹیگریز کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے

تھائی لینڈ میں 22 سے 24 اگست تک منعقدہ ایشیئن باڈی بلڈنگ چیمپیئن شپ میں پاکستان نے پہلی بار مختلف کیٹیگریز میں پانچ سونے کے تمغے اپنے نام کیے۔ قومی دستے کے چھ کھلاڑیوں میں سے پانچ نے فائنل اسٹیج پر سبقت لے کر تاریخ رقم کی۔

کن کن کیٹیگریز میں سونا آیا؟

جونیئر 75 کلوگرام: 22 سالہ فراست علی

ماسٹرز: 51 سالہ اعجاز احمد

اسپورٹس فزیک: فیضان گل

مینز فزیک 180 سینٹی میٹر: بلال احمد

مینز فزیک 182 سینٹی میٹر: شکیل احمد

فراست علی: روزی روٹی پنکچر سے، میدان فتح اسٹیج پر

ملتان کے نوجوان فراست علی نے کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد گھر کے باہر پنکچر لگانے سے گزر بسر شروع کی۔ ڈاکٹر کے مشورے پر ورزش اختیار کی، مگر اکثر فیس نہ بن پانے پر چھپ کر ٹریننگ کرنا پڑی۔ مقامی سطح پر کامیابیوں کے بعد کوچ نعمان واحد قریشی کی رہنمائی ملی تو اعتماد بحال ہوا۔ ٹرائل تک پہنچنے کے لیے قرض لے کر سفر کیا، اور قومی انتخاب کے بعد ادارے نے بیرونی اخراجات سنبھالے۔ وہ کہتے ہیں محنتانہ کام پر فخر ہے، شرمندگی نہیں—کامیابی انہی قدموں سے پھوٹتی ہے۔

اعجاز احمد: کم وسائل، زیادہ عزم

چارسدہ سے تعلق رکھنے والے اور پشاور میں مقیم اعجاز احمد خیبر پختونخوا پولیس کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تین بار ’مسٹر پاکستان‘ رہ چکے، ساؤتھ ایشیا میں اعزازات سمیٹے اور عالمی مقابلے میں چوتھی پوزیشن بھی دلوائی۔ ایشیئن ایونٹ کی تیاری میں روز تین سیشن کیے؛ لوڈشیڈنگ اور ناکافی خوراک کے باوجود ٹریننگ نہ رکی۔ سخت مشق کے دوران دو بار بیہوشی تک نوبت آئی، مگر ڈاکٹر کی ہدایات پر پانی اور غذا بڑھائی اور ہمت قائم رکھی۔

بلال احمد: والد کی مسکراہٹ کے نام

کوئٹہ کے بلال احمد پہلے بھی قومی و بین الاقوامی سطح پر کئی بار سونا جیت چکے ہیں۔ ان کے والد محمد ایوب بطور اسسٹنٹ مینجر (سوئی گیس) بیٹے کے کیریئر میں ستون ثابت ہوئے—حتیٰ کہ ایک عالمی ایونٹ کے لیے گاڑی فروخت کر دی۔ آٹھ ماہ قبل فالج کے باعث والد کی حالت بگڑی تو بلال نے دیکھ بھال پر توجہ دے دی، مگر محسوس ہوا والد چاہتے ہیں وہ دوبارہ اسٹیج پر لوٹیں۔ اب وہ خوراک اور تیاری کے تمام اخراجات خود اٹھاتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں کہ تازہ تمغہ والد کے نام کریں گے۔

سہولیات کم، ہمت زیادہ

کھلاڑیوں کے مطابق خطے کے کئی ملکوں—خصوصاً بھارت اور ملائیشیا—میں حکومتی سرپرستی، اسپانسرشپ اور غذائی معاونت نسبتاً بہتر ہے۔ پاکستانی ایتھلیٹس محدود وسائل، ناہموار بجلی اور کمزور جم انفراسٹرکچر کے باوجود نتائج دے رہے ہیں، جو انفرادی نظم و ضبط اور کوچنگ کے اثر کا ثبوت ہے۔

ادارہ جاتی موقف

ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ کے مطابق اب منتخبی عمل باقاعدہ ٹرائلز کے ذریعے ہوگا، اور منتخب ناموں کی تفصیل بورڈ کی ویب سائٹ پر دستیاب رکھنے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ متوازی ایسوسی ایشنز کے مسئلے کے حل کے لیے الیکشن کمیشن فعال کیا گیا ہے، جبکہ فنڈز انہی اداروں کو ملیں گے جو قواعد پر پورا اتر کر آڈٹ کرائیں۔
پاکستان باڈی بلڈنگ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری سہیل انور کا کہنا ہے کہ شفاف چناؤ ہو تو عالمی اسٹیج پر کامیابی مشکل نہیں رہتی۔ حالیہ ٹیم مکمل طور پر میرٹ پر بنی، بیشتر کھلاڑی محنت کش گھرانوں سے ہیں اور انہوں نے ثابت کیا کہ موقع ملے تو نتائج آتے ہیں۔

پس منظر

ایشیا بھر میں باڈی بلڈنگ اور فزیک کیٹیگریز کا دائرہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کھیل میں کامیابی کے بنیادی ستون—مسلسل ٹریننگ، سائنسی غذائیت، اسٹیج پیکجنگ اور مسابقتی ذہن—پر مستحکم سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔ پاکستان نے ماضی میں انفرادی جوش کے سہارے نتائج لیے، مگر ساختی سطح پر پالیسی، کوچ ڈیولپمنٹ اور نیوٹریشن سپورٹ جیسے شعبے اب بھی توجہ مانگتے ہیں۔ حالیہ پانچ گولڈ اسی خلا کے باوجود حاصل ہوئے، جو ٹیلنٹ کی کثرت کا اشارہ ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی و تجزیہ نگار محمد کاشف جان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ چھ میں سے پانچ طلائی تمغے نہ صرف کارکردگی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ مقامی ٹیلنٹ ’کم خرچ، بالا نشین‘ انداز میں بھی ایشیائی معیار سے ہم قدم ہو سکتا ہے۔بجلی کی عدم دستیابی، جم ایکوپمنٹ کی کمی، کوچنگ کے سائنٹیفک پروٹوکولز، اسپورٹس نیوٹریشن کی مہنگائی، اور میڈیکل/فزیو سپورٹ کا فقدان—یہ وہ مقام ہیں جہاں ریاستی و نجی شراکت سے فوری بہتری ممکن ہے۔شفاف ٹرائلز، آن لائن دستاویزی عمل اور آڈٹ شدہ فنڈنگ مثبت قدم ہیں۔ اگلا مرحلہ کھلاڑی وظیفہ + نیوٹریشن الاؤنس + ہیلتھ انشورنس + بین الاقوامی کیمپس جیسے پیکجز کی ادارہ جاتی شکل ہے۔کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس کریڈٹس، ٹیم/ایونٹ نیم اسپا نسرشپ اور شہروں میں ’سینٹر آف ایکسیلنس‘ کا نیٹ ورک نجی سرمایہ کاری کو راغب کر سکتا ہے۔فراست، اعجاز اور بلال جیسے کھلاڑیوں کی زندگیوں میں وقارِ محنت، خاندانی سپورٹ اور اجتماعی حوصلہ جھلکتا ہے۔ ان اسٹوریز کو ادارہ جاتی سطح پر برانڈ کیا جائے تو نوجوانوں کے لیے مثبت رول ماڈلز ابھرتے ہیں۔اگر یہی رفتار برقرار رہی اور اس کے ساتھ سائنس بیسڈ کوچنگ، ڈیٹا ڈرِون پلاننگ اور مسلسل بین الاقوامی ایکسپوژر شامل کر دیے جائیں تو آئندہ ورلڈ اسٹیج پر پوڈیم فِنشز کا ہدف حقیقت کے قریب آ سکتا ہے۔

یہ جیت محض تمغوں کی گنتی نہیں؛ یہ پیغام ہے کہ منظم نظام اور بروقت وسائل کے امتزاج سے پاکستان کے باڈی بلڈرز خطے ہی نہیں، دنیا میں بھی مستقل موجودگی جما سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین