حالیہ بارشوں میں گرنے والا ڈیڑھ صدی پرانا برگد دوبارہ اپنی جگہ اُگنے لگا

رواں سال کی مون سون بارشوں نے کراچی سمیت سندھ کے متعدد علاقوں میں شدید تباہی مچائی

کراچی کے تاریخی قصر ناز میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران جڑوں سے اکھڑ کر گرنے والے ڈیڑھ صدی پرانے برگد کے درخت کو دوبارہ زندگی دینے کی کوششوں کا آغاز ہو گیا ہے۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اس عظیم الشان درخت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی مہارت کا سہارا لیا ہے۔ یہ درخت نہ صرف ایک قدرتی عجوبہ ہے بلکہ کراچی کی فطری خوبصورتی اور حیاتیاتی تنوع کا ایک اہم نشان بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی خصوصی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، ماہرین کی ایک ٹیم اس تاریخی اثاثے کو اس کی اصل جگہ پر دوبارہ پروان چڑھانے کے لیے دن رات مصروف عمل ہے۔ یہ رپورٹ اس بحالی کے عمل، اس کی اہمیت، اور متوقع چیلنجز کی تفصیلات پیش کرتی ہے۔

مون سون کی تباہی

رواں سال کی مون سون بارشوں نے کراچی سمیت سندھ کے متعدد علاقوں میں شدید تباہی مچائی۔ تیز ہواؤں اور موسلادھار بارشوں کے باعث قصر ناز، جو کراچی کا ایک تاریخی مقام ہے، میں موجود 150 سال پرانا برگد کا درخت اپنی جڑوں سے اکھڑ کر زمین بوس ہو گیا۔ یہ درخت، جو اپنی گھنی چھاؤں اور وسیع شاخوں کے باعث مقامی لوگوں اور سیاحوں کے لیے ایک اہم مرکز تھا، شدید موسمی حالات کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اس کے گرنے سے نہ صرف ماحولیاتی نقصان ہوا بلکہ علاقے کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو بھی دھچکا لگا۔

محکمہ سندھ وائلڈ لائف کے ماہرین نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر درخت کا معائنہ کیا۔ ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا کہ درخت کی جڑیں مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئیں، اور مناسب دیکھ بھال اور جدید تکنیک کے ذریعے اسے دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ اس فیصلے نے مقامی کمیونٹی اور ماحولیاتی ماہرین میں امید کی ایک کرن جگائی، کیونکہ یہ درخت صرف ایک نباتاتی وجود نہیں بلکہ کراچی کی تاریخ اور ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔

بحالی کا عمل

سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے اس تاریخی درخت کو بچانے کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں جدید مشینری، کرینز، اور خصوصی ادویات کا استعمال شامل ہے۔ فاریسٹرز کی ایک ٹیم، جس کی قیادت ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) طاہر لطیف اور رینج آفیسر امداد علی کر رہے ہیں، نے بحالی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ اس عمل میں درخت کو دوبارہ اس کی اصل جگہ پر سیدھا کرنے کے لیے بھاری کرینز کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کی جڑوں کو زمین کے ساتھ جوڑنے کے لیے خصوصی تکنیک اپنائی جا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق، درخت کی پیوندکاری ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں جڑوں کو نمی فراہم کرنے اور انہیں زمین میں مستحکم کرنے کے لیے خصوصی ادویات اور غذائی اجزا کا استعمال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، درخت کی شاخوں اور تنے کو سہارا دینے کے لیے عارضی ڈھانچے نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ دوبارہ اپنی مضبوطی حاصل کر سکے۔ ڈپٹی کنزرویٹر سندھ وائلڈ لائف ممتاز سومرو نے بتایا کہ یہ عمل نہ صرف تکنیکی طور پر مشکل ہے بلکہ وقت طلب بھی ہے، لیکن اس درخت کی تاریخی اور ماحولیاتی اہمیت کے پیش نظر اسے ہر ممکن کوشش کے ذریعے بچایا جائے گا۔

برگد کا درخت

برگد کا درخت، جسے عرف عام میں ’بوہڑ‘ بھی کہا جاتا ہے، اپنی طویل عمر، گھنی چھاؤں، اور منفرد ساخت کے باعث برصغیر کی ثقافت اور ماحولیات میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ 150 سالہ درخت قصر ناز کے لیے ایک علامتی اہمیت رکھتا ہے، جو نہ صرف مقامی لوگوں کے لیے ایک سایہ دار پناہ گاہ تھا بلکہ پرندوں اور دیگر جنگلی حیات کے لیے بھی ایک محفوظ مسکن تھا۔ اس کی وسیع شاخیں اور زمین میں پیوست جڑیں اسے ایک قدرتی عجوبہ بناتی ہیں، جو ماحولیاتی توازن اور حیاتیاتی تنوع کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، یہ درخت صرف ایک نباتاتی وجود نہیں بلکہ کراچی کی فطری خوبصورتی اور ماحولیاتی ورثے کی ایک زندہ علامت ہے۔ اس کی بحالی سے نہ صرف ماحولیاتی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ شہر کی ثقافتی شناخت کو بھی محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اسے ایک ’تاریخی اثاثہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی، جو اس منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

وزیر اعلیٰ کی ہدایات

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس درخت کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات کو ہدایت کی کہ فوری طور پر ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جو اس درخت کو دوبارہ اس کی جگہ پر پروان چڑھانے کے لیے جدید وسائل اور تکنیک استعمال کرے۔ اس ہدایت کے نتیجے میں سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے ایک منظم منصوبہ تیار کیا، جس میں نہ صرف مقامی ماہرین بلکہ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں سے بھی مشاورت کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ درخت ہمارے ماحولیاتی اور ثقافتی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے، اور اسے بچانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اس طرح کے قدرتی اثاثوں کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور غیر قانونی جنگل کاٹنے کے خلاف آواز اٹھائیں۔

چیلنجز اور امکانات

اس درخت کی بحالی کا عمل تکنیکی اور ماحولیاتی لحاظ سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کے مطابق، ڈیڑھ صدی پرانے درخت کی جڑیں کافی گہری اور پیچیدہ ہوتی ہیں، اور انہیں دوبارہ زمین میں مستحکم کرنا ایک نازک عمل ہے۔ تیز بارشوں اور مون سون کے جاری رجحانات نے بھی اس عمل کو مشکل بنا دیا ہے، کیونکہ مسلسل نمی اور غیر مستحکم زمین جڑوں کی پیوندکاری کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، درخت کی شاخوں اور تنے کو سہارا دینے کے لیے درکار وسائل اور وقت بھی ایک بڑا امتحان ہے۔

تاہم، سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے ماہرین پرامید ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل دیکھ بھال کے ذریعے یہ درخت دوبارہ اپنی پوری شان کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی ماحولیاتی تنظیموں کی تجربہ کار ٹیموں سے مشاورت اور خصوصی ادویات کے استعمال سے اس عمل کی کامیابی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اگر یہ کوشش کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک ماحولیاتی فتح ہو گی۔

عوامی ردعمل

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ایکس پر متعدد صارفین نے سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ اور وزیر اعلیٰ کے عزم کی تعریف کی۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ درخت ہماری تاریخ کا حصہ ہے، اور اسے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ سندھ حکومت کا یہ اقدام قابل تحسین ہے۔‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ’برگد کا یہ درخت صرف ایک درخت نہیں، بلکہ ہماری ثقافت اور ماحول کی علامت ہے۔ اس کی بحالی کراچی کے لیے ایک تحفہ ہو گا۔‘

تاہم، کچھ صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا اس طرح کے اقدامات کو دیگر علاقوں تک بھی وسعت دی جائے گی، جہاں حالیہ بارشوں نے درختوں اور جنگلات کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام نہ صرف اس مخصوص درخت کی بحالی بلکہ مجموعی طور پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے زیادہ جامع پالیسیوں کی توقع رکھتے ہیں۔

پس منظر

برگد کا درخت برصغیر کی ثقافت، مذہب، اور ماحولیات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ اسے ہندو مت اور بدھ مت میں مقدس سمجھا جاتا ہے، جبکہ مقامی روایات میں اسے چوپالوں اور سماجی اجتماعات کا مرکز مانا جاتا تھا۔ اس کی گھنی چھاؤں اور وسیع جڑیں اسے حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک اہم مسکن بناتی ہیں، جہاں پرندوں، کیڑوں، اور دیگر جانداروں کو پناہ ملتی ہے۔ کراچی کے قصر ناز میں موجود یہ درخت بھی مقامی لوگوں کے لیے ایک تاریخی علامت تھا، جو نسل در نسل اس کی چھاؤں میں اپنی یادیں جوڑتے رہے ہیں۔

حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں اور غیر قانونی جنگل کاٹنے نے پاکستان کے قدیم درختوں کو شدید خطرات سے دوچار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان ان پانچ جنوبی ایشیائی ممالک میں شامل ہے جو شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا شکار ہیں۔ اس تناظر میں، اس درخت کی بحالی نہ صرف ایک مقامی کوشش بلکہ عالمی ماحولیاتی تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے قصر ناز کے ڈیڑھ صدی پرانے برگد کے درخت کی بحالی کا اقدام نہ صرف ماحولیاتی بلکہ ثقافتی اور تاریخی لحاظ سے بھی ایک قابل ستائش کوشش ہے۔ یہ درخت صرف ایک نباتاتی وجود نہیں بلکہ کراچی کی شناخت اور فطری حسن کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کی بحالی سے نہ صرف مقامی ماحول کو تحفظ ملے گا بلکہ شہریوں میں ماحولیاتی شعور کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔

تاہم، اس عمل کے کامیاب ہونے کے لیے چند اہم چیلنجز سے نمٹنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے، بحالی کا عمل تکنیکی طور پر پیچیدہ ہے، اور اس کے لیے مسلسل مانیٹرنگ، مالی وسائل، اور ماہرین کی خدمات درکار ہیں۔ مون سون کے جاری اثرات اور غیر متوقع موسمی حالات اس عمل کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ دوسرا، اس طرح کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے عوامی تعاون اور آگاہی ناگزیر ہے۔ اگر مقامی کمیونٹی کو اس عمل میں شامل کیا جائے، جیسے کہ رضاکارانہ خدمات یا آگاہی مہمات کے ذریعے، تو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، یہ اقدام ایک بڑی ماحولیاتی پالیسی کا حصہ بننا چاہیے۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درختوں اور جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جیسا کہ خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے۔ سندھ حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے بھر میں درختوں کی حفاظت اور نئے جنگلات کی شجرکاری کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کرنا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات اور سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی فوری عملداری اس بات کی غماز ہے کہ حکومتی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ تاہم، اس طرح کے منصوبوں کی کامیابی کے لیے شفافیت اور مسلسل عوامی رابطہ ضروری ہے۔ اگر یہ درخت کامیابی سے بحال ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف کراچی بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک عظیم ماحولیاتی اور ثقافتی فتح ہو گی۔ یہ اقدام دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے کہ کس طرح قدرتی اور تاریخی اثاثوں کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔

آخر میں، یہ واقعہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمارے قدرتی وسائل نہ صرف ماحولیاتی بلکہ ثقافتی اور تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے، اور اس طرح کے اقدامات کے ذریعے ہم نہ صرف اپنے ماحول بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین