اسپین کے صوبہ سیویل کے چھوٹے سے شہر لاس پالاسیوس ای ولا فرانکا میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گاہک کی معمولی سی بات پر غصے کی آگ نے ایک کیفے کو لفظی طور پر شعلوں کی لپیٹ میں لے لیا۔ 50 سالہ شخص نے، جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، مایونیز نہ ملنے پر غصے میں آ کر کیفے کے کاؤنٹر پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی کو صدمے میں ڈال دیا بلکہ عالمی سطح پر بھی سوشل میڈیا اور میڈیا کی سرخیاں بن گئیں۔
واقعہ کی تفصیلات
یہ واقعہ بدھ کی شام، 19 اگست 2025 کو، لاس پالاسیوس ای ولا فرانکا کے مشہور کیفے ’لاس پوستاس کیفے-بار‘ میں پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق، ایک 50 سالہ شخص اپنے بیٹے کے ہمراہ کیفے میں آیا اور دو سینڈوچز کا آرڈر دیا۔ جب سینڈوچ پیش کیے گئے تو اس نے ویٹر سے مایونیز مانگی۔ ویٹر نے اسے بتایا کہ کیفے میں کچن کی سہولت نہیں ہے اور سینڈوچز پہلے سے تیار شدہ ہونے کی وجہ سے مایونیز یا کیچپ جیسے اضافی مصالحے دستیاب نہیں ہیں۔
اس جواب سے مطمئن نہ ہونے والا گاہک دوبارہ ایک اور ویٹر سے مایونیز مانگتا ہے، لیکن اسے وہی جواب ملتا ہے۔ اس پر مشتعل ہو کر وہ کیفے سے باہر نکل گیا اور محض چند منٹوں میں قریبی پٹرول اسٹیشن سے 1.5 لیٹر پٹرول کی بوتل لے کر واپس آیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، وہ دوبارہ کاؤنٹر پر گیا اور ویٹر سے ایک بار پھر پوچھا، ’کیا واقعی آپ کے پاس مایونیز نہیں ہے؟‘ جواب ملنے سے پہلے ہی اس نے پٹرول کاؤنٹر پر چھڑکا اور لائٹر سے آگ لگا دی۔
آگ کے شعلے فوری طور پر بھڑک اٹھے، جس سے کیفے میں موجود گاہک، جن میں چھوٹے بچے اور بزرگ افراد بھی شامل تھے، خوفزدہ ہو کر باہر کی طرف بھاگے۔ اس افراتفری کے دوران ایک ویٹر نے فوری طور پر فائر ایکسٹنگوشر کا استعمال کیا اور آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا۔ خوش قسمتی سے، اس واقعے میں کوئی بڑا جانی نقصان نہیں ہوا، البتہ ملزم کا بایاں ہاتھ آگ سے جھلس گیا، اور ایک ویٹر کو معمولی زخم آئے۔
کیفے کے مالک کا بیان
لاس پوستاس کیفے-بار کے مالک جوز اینٹونیو کابیلیرو نے اس واقعے کو ’غیر حقیقت پسندانہ‘ اور ’ناقابل فہم‘ قرار دیا۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے کیفے میں کچن کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سینڈوچز پہلے سے تیار شدہ ہوتے ہیں، اور اس لیے مایونیز یا کیچپ جیسے اضافی مصالحے رکھنے کی روایت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’جب گاہک نے پہلے ویٹر سے مایونیز مانگی تو اسے جواب دیا گیا کہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس نے دوبارہ دوسرے ویٹر سے پوچھا، اور پھر اچانک وہ پٹرول کی بوتل لے کر واپس آیا اور پوچھا کہ کیا واقعی مایونیز نہیں ہے؟ اس کے فوراً بعد اس نے کاؤنٹر پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔ یہ ایک ایسی حرکت تھی جس کی کوئی منطقی وضاحت نہیں ملتی۔‘
جوز اینٹونیو نے مزید بتایا کہ ان کے عملے کی فوری کارروائی اور فائر ایکسٹنگوشر کے استعمال کی بدولت آگ کو تیزی سے قابو کر لیا گیا، ورنہ نقصان کہیں زیادہ شدید ہو سکتا تھا۔ انہوں نے مقامی کمیونٹی اور گاہکوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کیفے اگلے ہی دن دوبارہ کھول دیا گیا۔
نقصانات اور قانونی کارروائی
اس واقعے سے کیفے کو تقریباً 7,000 سے 10,000 یورو (تقریباً 20 سے 28 لاکھ پاکستانی روپے) کا مالی نقصان ہوا، جس میں مادی نقصانات اور کاروباری خسارہ شامل ہے۔ پولیس نے ملزم کو واقعے کے فوراً بعد قریبی پلازا ڈی اینڈالوسیا سے گرفتار کر لیا۔ ملزم، جو کہ قریبی صوبہ کورڈوبا کا رہائشی ہے، کو اس کے جھلسے ہوئے ہاتھ کی وجہ سے ابتدائی طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اسے اب ایذاء رسانی، املاک کو نقصان پہنچانے، اور عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ ملزم کو جمعہ کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس واقعے کی ویڈیو، جو کیفے کے سی سی ٹی وی کیمروں سے حاصل کی گئی، سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔ ایکس پر صارفین نے اسے ایک ’ناقابل یقین‘ اور ’ہاسے خیز لیکن خطرناک‘ واقعہ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’مایونیز کے لیے کیفے کو آگ لگانا؟ یہ تو واقعی پاگل پن کی انتہا ہے!‘ ایک اور صارف نے طنز کیا، ’شاید اس شخص کے لیے مایونیز محض ایک چٹنی نہیں، زندگی کا مقصد تھا۔‘
تاہم، کچھ صارفین نے اس واقعے کو گہرے مسائل کی علامت قرار دیا۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’یہ صرف مایونیز کی بات نہیں، یہ غصے کے غیر معمولی اظہار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ہمیں ذہنی صحت کے مسائل پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔‘
پس منظر
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب اسپین شدید گرمی اور جنگل کی آگ کے بحران سے دوچار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں، ملک کے شمال مغربی علاقوں میں متعدد جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن سے 3,82,000 ہیکٹر سے زائد رقبہ متاثر ہوا اور چار افراد ہلاک ہوئے۔ اسی دوران، لاس پالاسیوس ای ولا فرانکا میں یہ واقعہ ایک غیر معمولی اضافہ ہے، جو ایک فرد کے غیر ذمہ دارانہ عمل کی وجہ سے پیش آیا۔ اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حال ہی میں جنگلاتی آگ کے حوالے سے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اور اس سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
تجزیہ
لاس پالاسیوس ای ولا فرانکا میں پیش آنے والا یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے چونکا دینے والا اور عجیب و غریب ہے۔ مایونیز جیسے معمولی مسئلے پر اتنا شدید ردعمل نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ معاشرتی رویوں اور ذہنی صحت کے حوالے سے کئی سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ بعض اوقات چھوٹی چھوٹی مایوسیاں غیر معمولی اور خطرناک ردعمل کا باعث بن سکتی ہیں، جو کہ ذہنی دباؤ یا جذباتی عدم استحکام کی علامت ہو سکتا ہے۔
ملزم کے عمل کی کوئی منطقی توجیہہ پیش کرنا مشکل ہے۔ جوز اینٹونیو کابیلیرو کا بیان کہ ’یہ ایک سوریل واقعہ تھا‘ اس واقعے کی عجیب و غریب نوعیت کو واضح کرتا ہے۔ تاہم، یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ملزم کی ذہنی حالت یا دیگر پس منظر کے عوامل نے اسے اس انتہائی قدم پر مجبور کیا؟ مقامی میڈیا کے مطابق، ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن اس کے باوجود اس کے رویے کی گہرائی سے تحقیقات کی ضرورت ہے۔
اس واقعے سے کیفے کے عملے کی فوری اور بہادر ردعمل کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔ فائر ایکسٹنگوشر کے بروقت استعمال نے ایک بڑے سانحے کو روک دیا، اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مشکل حالات میں تربیت یافتہ عملہ کتنا اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، اس واقعے نے مقامی کمیونٹی میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا کیا ہے، کیونکہ ایک معمولی سی بات نے ایک پرامن کیفے کو خطرے کی جگہ بنا دیا۔
اسپین جیسے ملک میں، جہاں کیفے ثقافتی اور سماجی زندگی کا اہم حصہ ہیں، اس طرح کے واقعات نہ صرف کاروباری نقصان بلکہ سماجی ہم آہنگی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ کیا معاشرے میں غصے کے انتظام اور ذہنی صحت کے حوالے سے زیادہ آگاہی کی ضرورت ہے؟ ممکن ہے کہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے عوامی سطح پر ذہنی صحت کے پروگرامز اور تنازعات کے حل کے طریقوں پر توجہ دی جائے۔
آخر میں، یہ واقعہ ایک عجیب و غریب لیکن سنگین یاد دہانی ہے کہ چھوٹی سی بات بھی غیر متوقع نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔ کیفے کے مالک اور عملے کی ہمت قابل تحسین ہے، لیکن اس واقعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کو جذباتی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ واقعہ، جو مایونیز کے گرد شروع ہوا، ہمیں معاشرتی رویوں اور ذہنی صحت کے بارے میں گہرائی سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔





















