لاہور: سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے ایک بار پھر گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست دائر کر کے صارفین کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ اس بار کمپنی نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے گیس کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت میں 291 روپے کے اضافے کی استدعا کی ہے، جس میں گیس کی پیداوار اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات شامل ہیں۔ اس درخواست پر لاہور میں سوئی ناردرن کے ہیڈ آفس میں ہونے والی عوامی سماعت کے دوران صارفین اور صنعتی نمائندوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ اوگرا کے چیئرمین نے صارفین کے مفادات کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔
سوئی ناردرن کی درخواست
سوئی ناردرن گیس کمپنی نے اپنی مالی ضروریات پورا کرنے کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست دائر کی ہے، جس میں فی ایم ایم بی ٹی یو 291 روپے کا اضافہ مانگا گیا ہے۔ اس اضافے میں 271 روپے گیس کی قیمت اور 20 روپے ایل این جی کی ٹرانسپورٹیشن کے اضافی چارجز شامل ہیں۔ کمپنی کا موقف ہے کہ یہ اضافہ اس کے مالی خسارے اور آپریشنل اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ تاہم، صارفین اور صنعتی نمائندوں نے اسے کمپنی کی ناقص کارکردگی اور شاہانہ اخراجات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
سوئی ناردرن نے ماضی میں بھی متعدد بار گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں دائر کی ہیں۔ مثال کے طور پر، اپریل 2025 میں کمپنی نے 735 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی درخواست کی تھی، جس پر عوامی سماعت میں ہوٹل، ٹیکسٹائل، اور دیگر صنعتی صارفین نے شدید مخالفت کی تھی۔ اس بار بھی کمپنی نے اپنے لائن لاسز اور آپریشنل ناکارہ پن کو کم کرنے کے بجائے صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے عوامی حلقوں نے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔
عوامی سماعت
لاہور میں سوئی ناردرن کے صدر دفتر میں منعقد ہونے والی عوامی سماعت ایک گرم جوش ماحول میں ہوئی، جہاں گھریلو، کمرشل، اور صنعتی صارفین نے کمپنی کی درخواست پر اپنے تحفظات پیش کیے۔ سماعت کی صدارت چیئرمین اوگرا مسرور احمد خان نے کی، جنہوں نے صارفین اور کمپنی دونوں کے دلائل سننے کے بعد کم سے کم ٹیرف اضافے کا وعدہ کیا۔
سماعت کے دوران سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ نے سوئی ناردرن کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی اپنے شاہانہ اخراجات اور لائن لاسز کو کم کرنے کی بجائے ہر بار صارفین پر بوجھ ڈالتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس کی وافر مقدار ہونے کے باوجود صارفین کو مستقل لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے گھریلو اور کمرشل صارفین ایل پی جی سلنڈرز کے استعمال پر مجبور ہیں۔ غیاث پراچہ نے مطالبہ کیا کہ سوئی ناردرن اپنی کارکردگی بہتر کرے، گیس کی دستیابی یقینی بنائے، اور قیمتوں میں اضافے کی بجائے کمی کرے۔
ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی صارفین نے بھی اس اضافے کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے صنعتی شعبہ متاثر ہو رہا ہے، اور بہت سے کاروبار پہلے ہی اپنے گیس کنکشن منقطع کر چکے ہیں۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ جب گیس کی سپلائی ہی محدود ہے تو اس کی قیمت میں اضافے کا جواز کیا ہے؟
اوگرا کا موقف
چیئرمین اوگرا مسرور احمد خان نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ صارفین اور کمپنی دونوں کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اوگرا نے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی مالی ضروریات کے تخمینوں کی سخت جانچ پڑتال کی ہے۔ اس سلسلے میں سوئی ناردرن کی 84 ارب روپے اور سوئی سدرن کی 57 ارب روپے کی ریونیو ریکوائرمنٹ کو مسترد کیا گیا ہے، جس سے مجموعی طور پر 141 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی۔
مسرور احمد خان نے کہا کہ اوگرا کی اولین ترجیح صارفین کو ریلیف فراہم کرنا ہے، اور اس کے لیے گیس کمپنیوں کے بینچ مارک کو سخت کیا گیا ہے تاکہ ان کی ناکارہ پن اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کمپنیوں کے مالی خسارے کو بھی دیکھنا ضروری ہے، لیکن قیمتوں میں اضافہ کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
سوئی ناردرن اور سوئی سدرن کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواستیں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں دونوں کمپنیوں نے بارہا اوگرا سے قیمتوں میں اضافے کی منظوری مانگی ہے۔ مثال کے طور پر، 2023 میں اوگرا نے سوئی ناردرن کے لیے 74.42 فیصد اور سوئی سدرن کے لیے 67.75 فیصد اضافے کی منظوری دی تھی، جس سے گیس کی اوسط قیمت بالترتیب 952.17 روپے اور 1161.91 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی تھی۔ اسی طرح، اپریل 2025 میں سوئی ناردرن نے 700 ارب 97 کروڑ روپے کی مالی ضروریات اور 207 ارب 43 کروڑ 50 لاکھ کے شارٹ فال کی وصولی کی درخواست کی تھی، جس پر لاہور اور پشاور میں سماعتیں ہوئی تھیں۔
ان اضافوں کی بنیادی وجہ کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے، ایل این جی کی درآمد، اور آپریشنل اخراجات ہیں۔ تاہم، صارفین کا کہنا ہے کہ یہ اضافے ان کی مالی مشکلات کو مزید بڑھاتے ہیں، خاص طور پر جب گیس کی سپلائی میں کمی اور لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی سماعت کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے سوئی ناردرن کی درخواست پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ ایکس پر ایک صارف نے لکھا، ’جب گیس ملتی ہی نہیں تو اس کی قیمت بڑھانے کا کیا فائدہ؟ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہے۔‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’سوئی ناردرن اپنی ناکامیوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔ لائن لاسز اور چوری روکیں، قیمتوں میں اضافہ بند کریں۔‘ یہ ردعمل عوام کے بڑھتے ہوئے غم و غصے اور مہنگائی سے تنگ آ جانے کی عکاسی کرتا ہے۔
سوئی ناردرن کی گیس قیمتوں میں اضافے کی حالیہ درخواست پاکستان کی معاشی مشکلات اور توانائی کے شعبے میں جاری چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک طرف کمپنی اپنے مالی خسارے اور ایل این جی کی درآمد کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر قرار دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف صارفین اسے غیر منصفانہ اور معیشت کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں۔ یہ تنازعہ نہ صرف سوئی ناردرن کی آپریشنل ناکارہ پن کو عیاں کرتا ہے بلکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی فوری ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
سوئی ناردرن کے لائن لاسز اور غیر ضروری اخراجات ایک طویل عرصے سے تنقید کا نشانہ ہیں۔ سی این جی ایسوسی ایشن کے صدر غیاث پراچہ کا یہ موقف درست ہے کہ کمپنی کو اپنی کارکردگی بہتر کرنے اور چوری روکنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ماضی میں سوئی ناردرن نے گیس چوری کے خلاف اقدامات کیے ہیں، جن میں اربوں روپے کی چوری پکڑی گئی، لیکن یہ اقدامات ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔
اوگرا کی جانب سے 141 ارب روپے کی ریونیو ریکوائرمنٹ مسترد کرنا ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کٹوتی صارفین کے لیے خاطر خواہ ریلیف فراہم کر سکے گی؟ چیئرمین اوگرا کا کم سے کم ٹیرف اضافے کا وعدہ امید افزا ہے، لیکن ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوتا ہے، جو عام صارفین، خاص طور پر گھریلو اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بوجھ بنتا ہے۔
پاکستان کی معیشت اس وقت مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ، اور توانائی کے بحران سے دوچار ہے۔ گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتی شعبے کو بھی متاثر کرتا ہے، جو ملکی برآمدات اور روزگار کے مواقع کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ٹیکسٹائل اور سی این جی سیکٹرز، جو پہلے ہی بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ سے متاثر ہیں، اس اضافے سے مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، سوئی ناردرن کو اپنے لائن لاسز کم کرنے اور آپریشنل کارکردگی بہتر کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ دوسرا، اوگرا کو گیس کمپنیوں کی مالی ضروریات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک شفاف اور سخت نظام وضع کرنا چاہیے۔ آخر میں، حکومت کو توانائی کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات متعارف کرانی چاہئیں، جن میں مقامی گیس کی پیداوار بڑھانا، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا، اور صارفین کے لیے سبسڈی کے مؤثر پروگرامز شامل ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں پائیدار حل کے بغیر قیمتوں میں اضافہ صرف عارضی ریلیف فراہم کرتا ہے، جبکہ عوام کی مشکلات مستقل بڑھتی جاتی ہیں۔ اگر سوئی ناردرن اور اوگرا صارفین کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہ لے سکیں تو یہ تنازعہ معاشی اور سماجی عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔





















