دنیا بھر میں ہر چار میں ایک شخص کو محفوظ پینے کا پانی دستیاب نہیں، رپورٹ

شہری علاقوں میں بنیادی پینے کے پانی کی سہولت کی کوریج 94 فیصد سے گھٹ کر 93 فیصد رہ گئی ہے

پانی زندگی کا بنیادی جزو ہے، لیکن بدقسمتی سے دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک شخص اب بھی صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی سے محروم ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی جانب سے ورلڈ واٹر ویک 2025 کے موقع پر جاری کردہ ایک نئی رپورٹ نے اس سنگین صورتحال کو اجاگر کیا ہے۔ یہ رپورٹ، جس کا عنوان ’پروگریس آن ہاؤس ہولڈ ڈرنکنگ واٹر اینڈ سینیٹیشن 2000-2024: اسپیشل فوکس آن ان ایکوئلٹیز‘ ہے، بتاتی ہے کہ اگرچہ پچھلی دہائی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن کمزور اور پسماندہ طبقات اب بھی پانی، صفائی، اور حفظان صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ 

پانی تک رسائی میں تفاوت

رپورٹ کے مطابق، 2024 تک عالمی سطح پر 2.1 ارب افراد، یعنی دنیا کی ایک چوتھائی آبادی، پینے کے محفوظ پانی تک رسائی سے محروم ہے۔ اس میں 10 کروڑ 60 لاکھ افراد شامل ہیں جو براہ راست ندیوں، جھیلوں، یا دیگر غیر صاف شدہ سطحی ذرائع سے پانی حاصل کرتے ہیں، جو صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہے۔ یہ صورتحال کم آمدنی والے ممالک، غیر مستحکم حالات، دیہی علاقوں، بچوں، اور نسلی یا مقامی اقلیتی گروہوں کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے، جہاں پانی اور صفائی کی سہولیات تک رسائی میں واضح تفاوت موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2015 سے 2024 تک 96 کروڑ 10 لاکھ افراد کو محفوظ پینے کے پانی کی سہولت میسر ہوئی، جس سے عالمی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 74 فیصد تک پہنچ گئی۔ اسی عرصے میں سطحی پانی استعمال کرنے والوں کی تعداد میں 6 کروڑ 10 لاکھ کی کمی آئی۔ تاہم، یہ پیش رفت عالمی سطح پر یکساں نہیں ہے۔ کم ترقی یافتہ ممالک میں بنیادی پانی اور صفائی کی سہولیات تک رسائی دیگر ممالک کے مقابلے میں دو گنا کم ہے، جبکہ حفظان صحت کی بنیادی سہولیات سے محرومی تین گنا زیادہ ہے۔

پاکستان میں صورتحال

پاکستان کے تناظر میں رپورٹ ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتی ہے۔ شہری علاقوں میں بنیادی پینے کے پانی کی سہولت کی کوریج 94 فیصد سے گھٹ کر 93 فیصد رہ گئی ہے۔ یہ کمی، اگرچہ معمولی نظر آتی ہے، لیکن اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری ترقی کے باوجود پانی کے معیار اور رسائی کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، جہاں پانی کے بنیادی ڈھانچے کی کمی اور آلودگی کے مسائل عام ہیں۔

2022 کے سیلاب نے پاکستان میں پانی کے بحران کو مزید گھمبیر کر دیا تھا۔ یونیسف کے مطابق، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 1 کروڑ سے زائد افراد، جن میں بچے بھی شامل ہیں، اب بھی محفوظ پینے کے پانی سے محروم ہیں۔ سیلاب سے واٹر سپلائی سسٹم کو شدید نقصان پہنچا، جس سے 54 لاکھ سے زائد افراد، بشمول 25 لاکھ بچے، آلودہ تالابوں اور کنوؤں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال واٹر بورن بیماریوں، جیسے کہ اسہال اور ہیضہ، کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے، جو خاص طور پر بچوں کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔

صفائی اور حفظان صحت

رپورٹ میں صفائی کے شعبے میں بھی کچھ مثبت پیش رفت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 2015 سے 2024 تک، بنیادی صفائی کی سہولت سے محروم افراد کی تعداد 2.7 ارب سے کم ہو کر 1.5 ارب رہ گئی۔ شہری علاقوں میں محفوظ صفائی کی سہولیات تک رسائی 48 فیصد سے بڑھ کر 66 فیصد ہو گئی، جس سے 1.7 ارب افراد مستفید ہوئے۔ تاہم، عالمی سطح پر 3.4 ارب افراد اب بھی محفوظ صفائی کی سہولیات سے محروم ہیں، جن میں 35 کروڑ 40 لاکھ افراد کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں۔

حفظان صحت کے حوالے سے، 1.7 ارب افراد کے گھروں میں بنیادی حفظان صحت کی سہولیات، جیسے کہ صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے کی سہولت، موجود نہیں ہیں۔ ان میں 61 کروڑ 10 لاکھ افراد کے پاس کوئی ہاتھ دھونے کی سہولت ہی نہیں ہے۔ یہ صورتحال واٹر بورن اور متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ کو بڑھاتی ہے، جو بچوں اور کمزور طبقات کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔

 خواتین اور لڑکیوں پر بوجھ

رپورٹ نے پانی اور صفائی کے بحران کے صنفی اثرات پر خصوصی توجہ دی ہے۔ دنیا بھر میں، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، پانی جمع کرنے کی ذمہ داری زیادہ تر خواتین اور لڑکیوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس کام کے لیے انہیں طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں، جو نہ صرف وقت طلب ہے بلکہ ان کی تعلیم، صحت، اور حفاظت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ماہواری کے دوران ناکافی سہولیات کی وجہ سے لڑکیوں کی اسکول حاضری اور سماجی سرگرمیوں میں شرکت متاثر ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 70 ممالک سے حاصل کردہ ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ بہت سی خواتین اور لڑکیوں کو ماہواری کے دوران نجی جگہ اور مناسب سامان کی کمی کا سامنا ہے۔

یونیسف کی ڈائریکٹر برائے واٹر، سینیٹیشن اینڈ ہائجین (WASH)، سیسیلیا شارپ نے کہا، ’’جب بچوں کو صاف پانی، صفائی، اور حفظان صحت کی سہولیات میسر نہیں ہوتیں، تو ان کی صحت، تعلیم، اور مستقبل خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہ عدم مساوات لڑکیوں کے لیے خاص طور پر سنگین ہے، جو پانی جمع کرنے اور ماہواری کے دوران اضافی رکاوٹوں کا شکار ہوتی ہیں۔‘‘

واٹر فار کلائمیٹ ایکشن

یہ رپورٹ ورلڈ واٹر ویک (24-28 اگست 2025) کے دوران جاری کی گئی، جو عالمی پانی کے مسائل پر سب سے بڑی سالانہ کانفرنس ہے۔ اس سال کا تھیم ’واٹر فار کلائمیٹ ایکشن‘ پانی کے تحفظ، ماحولیاتی استحکام، اور آب و ہوا کے اقدامات میں پانی کے کردار پر مرکوز ہے۔ رپورٹ نے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) کے حصول کے لیے عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، خاص طور پر کمزور طبقات کے لیے پانی اور صفائی کی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماحولیات، آب و ہوا کی تبدیلی، اور صحت کے شعبے کے ڈائریکٹر، روڈیگر کریچ نے کہا، ’’پانی، صفائی، اور حفظان صحت کوئی مراعات نہیں، بلکہ بنیادی انسانی حقوق ہیں۔ ہمیں پسماندہ کمیونٹیز کے لیے اقدامات کو تیز کرنا ہوگا تاکہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے وعدوں کو پورا کیا جا سکے۔‘‘

پاکستان کے لیے چیلنجز اور مواقع

پاکستان میں پانی کے بحران کی سنگینی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی سہولت کی کوریج 93 فیصد ہے، لیکن دیہی علاقوں میں یہ شرح کہیں کم ہے۔ مزید برآں، 2022 کے سیلاب نے واٹر سپلائی سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے لاکھوں افراد آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال بچوں میں اسہال اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے، جو پہلے ہی غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

رپورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی، تو 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف (SDG 6) کا حصول ممکن نہیں ہوگا۔ محفوظ پینے کے پانی کے لیے موجودہ پیش رفت کو چھ گنا، صفائی کے لیے پانچ گنا، اور بنیادی حفظان صحت کے لیے تین گنا بڑھانے کی ضرورت ہے۔

تشویش اور عمل کی ضرورت

رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس، پر لوگوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ شرمناک ہے کہ 21ویں صدی میں بھی اربوں لوگ صاف پانی سے محروم ہیں۔ ہمیں واٹر کنزرویشن اور مقامی این جی اوز کی حمایت کرنی چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’پاکستان میں سیلاب کے بعد صورتحال بدتر ہو گئی ہے۔ حکومت اور عالمی اداروں کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘ یہ ردعمل عوام میں بڑھتی ہوئی آگاہی اور عمل کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ رپورٹ ایک اہم یاد دہانی ہے کہ پینے کا صاف پانی، صفائی، اور حفظان صحت بنیادی انسانی حقوق ہیں، جن تک رسائی ہر فرد کے لیے یقینی ہونی چاہیے۔ 2.1 ارب افراد کی محفوظ پانی تک رسائی سے محرومی ایک عالمی بحران ہے، جو خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک اور دیہی علاقوں میں سنگین ہے۔ پاکستان کے لیے یہ رپورٹ ایک واضح انتباہ ہے کہ واٹر سپلائی سسٹم کو بہتر بنانے اور پانی کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں شہری علاقوں میں بنیادی پانی کی سہولت کی کوریج میں کمی تشویشناک ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ ترقی کے باوجود بنیادی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ایک چیلنج ہے۔ دیہی علاقوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے، جہاں آلودہ پانی بیماریوں اور غذائیت کی کمی کا باعث بن رہا ہے۔ بچوں اور خواتین پر اس بحران کا اثر خاص طور پر سنگین ہے، کیونکہ وہ پانی جمع کرنے اور ناکافی سہولیات کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

رپورٹ کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ موجودہ رفتار سے 2030 تک پائیدار ترقیاتی اہداف کا حصول ناممکن ہے۔ اس کے لیے نہ صرف حکومتی پالیسیوں بلکہ عالمی تعاون، مقامی کمیونٹیز، اور نجی شعبے کی شراکت داری کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں واٹر کنزرویشن، واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، اور کلائمیٹ ریزلیئنٹ واٹر سسٹمز جیسے کہ سولر پمپنگ سسٹمز پر سرمایہ کاری کی فوری ضرورت ہے۔

یہ رپورٹ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ پانی کے بحران کا حل صرف سہولیات کی فراہمی تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں صنفی مساوات، تعلیم، اور صحت کے مسائل کو بھی حل کرنا شامل ہے۔ خواتین اور لڑکیوں پر پانی جمع کرنے کا بوجھ کم کرنے اور ماہواری کے دوران مناسب سہولیات فراہم کرنے سے نہ صرف ان کی صحت بلکہ ان کی تعلیم اور سماجی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔

آخر میں، یہ رپورٹ ہر فرد، کمیونٹی، اور حکومت کے لیے ایک کال ٹو ایکشن ہے کہ وہ پانی، صفائی، اور حفظان صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے، جہاں واٹر سکیریسٹی اور آلودگی بڑے چیلنجز ہیں، یہ رپورٹ ایک موقع ہے کہ مقامی سطح پر آگاہی پھیلائی جائے اور پائیدار حل تلاش کیے جائیں۔ اگر ہم اب عمل نہیں کریں گے، تو آنے والی نسلیں اس بحران کی قیمت ادا کریں گی۔ صاف پانی ہر ایک کا حق ہے، اور اس حق کو یقینی بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین