پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے قومی ٹیم کے دو سٹار کھلاڑیوں، بابر اعظم اور محمد رضوان، کے بارے میں ایک حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہیں۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں آرتھر نے پاکستان کرکٹ کے موجودہ رجحانات اور اپنے دور کی کامیابیوں پر کھل کر بات کی، جس نے کرکٹ حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
مکی آرتھر کا بیان
مکی آرتھر نے اپنے انٹرویو میں واضح کیا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان، اگرچہ شاندار کھلاڑی ہیں، لیکن موجودہ دور کے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اب تیزی سے تبدیل ہو چکی ہے، جہاں بیٹسمینوں سے زیادہ سے زیادہ اسٹرائیک ریٹ اور جارحانہ انداز کی ضرورت ہوتی ہے۔ آرتھر کے مطابق، ’’بابر اور رضوان دونوں ہی غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں، لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا جدید ڈھانچہ اب مختلف قسم کے کھلاڑیوں کا تقاضا کرتا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں ٹی ٹوئنٹی میچز میں اوپنرز سے ایسی جارحیت درکار ہوتی ہے جو میچ کے ابتدائی اوورز سے ہی دباؤ ڈال سکے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں بابر اور رضوان کی روایتی بیٹنگ اسٹائل کمزور پڑتی ہے۔ آرتھر نے اس بات پر زور دیا کہ کرکٹ کے مختصر فارمیٹ میں اب ’فیر لیس کرکٹ‘ کا رجحان ہے، جس میں نئے اور جارحانہ کھلاڑیوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پاکستان کی ایشیا کپ سکواڈ
مکی آرتھر کے یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایشیا کپ 2025 کے لیے اپنی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا اعلان کیا، جس میں بابر اعظم اور محمد رضوان کو شامل نہیں کیا گیا۔ یہ فیصلہ کرکٹ کے حلقوں میں خاصی تنقید اور حیرت کا باعث بنا، کیونکہ دونوں کھلاڑی گزشتہ پانچ سالوں سے پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ٹاپ آرڈر کی ریڑھ کی ہڈی رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، پی سی بی نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نئے کھلاڑیوں کو مواقع دینے اور ٹیم کو جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے یہ اقدام اٹھایا گیا۔ ایشیا کپ کے سکواڈ میں شامل کھلاڑیوں، جیسے کہ حسن نواز، محمد حارث، اور سائم ایوب، نے اپنے جارحانہ اسٹرائیک ریٹ سے حالیہ میچوں میں متاثر کیا ہے۔ اس انتخاب سے واضح ہوتا ہے کہ پی سی بی اب ’ہائی امپیکٹ‘ اور ’ہائی اسٹرائیک ریٹ‘ بیٹنگ کو ترجیح دے رہا ہے۔
مکی آرتھر کا ماضی اور پاکستان کی کامیابی
مکی آرتھر نے اپنے انٹرویو میں اپنے دور کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سابق کپتان سرفراز احمد کے ساتھ مل کر ایک ایسی ٹیم بنائی تھی جو نہ صرف مضبوط تھی بلکہ عالمی درجہ بندی میں نمبر ون پوزیشن تک پہنچی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت ٹیم کو منظم انداز میں آگے بڑھایا گیا، اور اس کی بدولت پاکستان نے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔‘‘
آرتھر کے دور (2016-2019) میں پاکستان نے 2017 کی چیمپئنز ٹرافی جیت کر تاریخ رقم کی تھی، اور ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں بھی ٹیم نے طویل عرصے تک سرفہرست پوزیشن برقرار رکھی۔ اس دور میں سرفراز احمد کی قیادت اور مکی آرتھر کی کوچنگ نے ٹیم کو ایک نئی جہت دی، جس میں استحکام اور جارحیت کا امتزاج نمایاں تھا۔
انہوں نے موجودہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور نئے کپتان سلمان علی آغا کی حکمت عملی کی بھی تعریف کی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ اپنے وژن کے مطابق ٹیم کو آگے لے جانا چاہتے ہیں۔ آرتھر نے کہا کہ ہیسن اور سلمان کی قیادت میں ٹیم ایک نئے انداز کے ساتھ کھیل رہی ہے، جو جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔
بابر اور رضوان کا ماضی اور کارکردگی
بابر اعظم اور محمد رضوان نے گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ٹاپ آرڈر کو مضبوطی دی ہے۔ دونوں نے مل کر کئی یادگار شراکتیں کیں، جن میں 2021 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف ناقابل شکست 152 رنز کی اوپننگ شراکت سب سے نمایاں ہے۔ بابر نے 128 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں میں 4223 رنز بنائے ہیں، جن میں 3 سنچریاں اور 36 نصف سنچریاں شامل ہیں، جبکہ رضوان نے 3,229 رنز کے ساتھ دنیا کے ٹاپ ٹی ٹوئنٹی رن اسکوررز میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
تاہم، تنقید نگاروں کا کہنا ہے کہ دونوں کھلاڑیوں کا اسٹرائیک ریٹ، جو بالترتیب 127.34 (بابر) اور 122.26 (رضوان) ہے، جدید ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں سے کم ہے۔ اس کے مقابلے میں نئے کھلاڑی، جیسے کہ سائم ایوب (اسٹرائیک ریٹ 137.95)، زیادہ جارحانہ انداز اپناتے ہیں، جو پاکستان کی نئی حکمت عملی سے مطابقت رکھتا ہے۔
بحث اور تنقید
مکی آرتھر کے بیان نے سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس، پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’بابر اور رضوان نے پاکستان کو کئی میچ جتوائے ہیں، لیکن اگر ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بدل رہی ہے تو ہمیں بھی نئے کھلاڑیوں کو موقع دینا چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے آرتھر کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا، ’’مکی آرتھر خود کبھی ٹی ٹوئنٹی میں جارحانہ کرکٹ کھیلنے کی حکمت عملی نہیں بنا سکے، اور اب بابر اور رضوان کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔‘‘
کچھ شائقین نے آرتھر کے دور کی تعریف کی، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ موجودہ حالات میں ٹیم کو نئے خون کی ضرورت ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا، ’’مکی آرتھر نے سرفراز کے ساتھ مل کر ٹیم کو نمبر ون بنایا، لیکن اب وقت بدل گیا ہے۔ ہمیں حسن نواز اور محمد حارث جیسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو 150 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے کھیل سکیں۔‘‘
پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی حکمت عملی میں تبدیلی
پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم حالیہ برسوں میں تنقید کی زد میں رہی ہے، خاص طور پر 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں گروپ اسٹیج سے باہر ہونے کے بعد۔ اس ناکامی کے بعد پی سی بی نے ٹیم کی حکمت عملی پر نظرثانی کی اور ’فیر لیس کرکٹ‘ کے فلسفے کو اپنایا، جس کا آغاز نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے ہوا۔ اس سیریز میں حسن نواز کے 44 گیندوں پر سنچری اور محمد حارث کے 45 گیندوں پر سنچری نے نئی حکمت عملی کی کامیابی کو ثابت کیا۔
موجودہ کوچ مائیک ہیسن نے بابر اعظم کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اسٹرائیک ریٹ کو بہتر بنائیں، خاص طور پر اسپنرز کے خلاف، اور آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ (BBL) میں شاندار کارکردگی دکھا کر ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی کریں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پی سی بی اب تجربے کے بجائے جارحیت اور امپیکٹ کو ترجیح دے رہا ہے۔
تجزیہ
مکی آرتھر کا یہ بیان پاکستان کرکٹ کے موجودہ منظر نامے اور مستقبل کے لیے ایک اہم بحث کا پیش خیمہ ہے۔ بابر اعظم اور محمد رضوان بلاشبہ پاکستان کے بہترین بیٹسمینوں میں سے ہیں، جنہوں نے اپنی مستقل مزاجی اور بڑے میچوں میں کارکردگی سے ٹیم کو کئی کامیابیاں دلائیں۔ تاہم، آرتھر کا نکتہ کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اب ایک مختلف انداز مانگتی ہے، درست بھی ہے۔ آج کے دور میں، جہاں آئی پی ایل، دی ہنڈریڈ، اور بگ بیش جیسی لیگز میں 150 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ کو معیاری سمجھا جاتا ہے، بابر اور رضوان کا نسبتاً محتاط انداز تنقید کی زد میں ہے۔
تاہم، آرتھر کا یہ بیان کچھ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ اگر بابر اور رضوان غیر موزوں ہیں، تو کیا پی سی بی نے انہیں نئے انداز کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی؟ دونوں کھلاڑیوں نے ماضی میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے، اور مناسب کوچنگ اور حکمت عملی کے ساتھ وہ اپنے کھیل کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، بابر نے ون ڈے فارمیٹ میں اپنے اسٹرائیک ریٹ کو بہتر بنایا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ تبدیلی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کے تناظر میں، یہ فیصلہ کہ بابر اور رضوان کو ایشیا کپ سے باہر رکھا جائے، ایک بڑا جوا ہے۔ اگرچہ نئے کھلاڑی جیسے کہ حسن نواز اور محمد حارث نے جارحانہ انداز سے متاثر کیا ہے، لیکن بڑے ٹورنامنٹس میں مستقل مزاجی اور تجربے کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بابر اور رضوان کی غیر موجودگی میں ٹیم کا مڈل آرڈر کمزور ہو سکتا ہے، جو کہ ماضی میں بھی ایک چیلنج رہا ہے۔
مکی آرتھر کا اپنے دور کی کامیابیوں کا ذکر کرنا قابل فہم ہے، کیونکہ انہوں نے سرفراز احمد کے ساتھ مل کر ایک ایسی ٹیم بنائی جو متوازن اور کامیاب تھی۔ لیکن موجودہ حالات میں، جہاں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ تیزی سے بدل رہی ہے، پی سی بی کی نئی حکمت عملی کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو نئے کھلاڑیوں کے ساتھ تجربہ کرنے کی ضرورت ہے، لیکن اس عمل میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو مکمل طور پر کنارے کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
آخر میں، یہ رپورٹ ہمیں پاکستان کرکٹ کے ایک اہم موڑ پر لاتی ہے، جہاں پرانے اور نئے کے درمیان توازن تلاش کرنا ضروری ہے۔ بابر اور رضوان جیسے کھلاڑیوں کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جانی چاہیے، جبکہ نئے ٹیلنٹ کو مواقع دینا بھی ضروری ہے۔ مکی آرتھر کا بیان ایک تنبیہہ ہے کہ کرکٹ بدل رہی ہے، اور پاکستان کو اس تبدیلی کے ساتھ چلنا ہوگا۔ اگر پی سی بی اس چیلنج سے عہدہ برآں ہوتا ہے، تو پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی چھاپ چھوڑ سکتی ہے





















