اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان میں موبائل فون صارفین کیلئے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں Pakistan Telecommunication Authority نے سم ڈس اون پالیسی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے نئی ایکٹیویٹ ہونے والی سمز کے حوالے سے مدت 60 دن سے بڑھا کر 365 دن یعنی ایک سال کر دی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت زیر بحث آیا جب سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ نئی پالیسی کے تحت فعال سم کارڈز کو ایک سال تک نہ تو ڈس اون کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی دوسرے فرد کے نام منتقل کیا جا سکے گا۔
ابتدائی طور پر صارفین میں اس دعوے کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے تھے، تاہم بعد ازاں پی ٹی اے نے اس پالیسی کی باضابطہ تصدیق کر دی۔
رپورٹس کے مطابق 25 مئی کو ایک سوشل میڈیا صارف نے دعویٰ کیا تھا کہ نئی ایکٹیویٹ ہونے والی سم کو 365 دن تک ڈس اون نہیں کیا جا سکتا۔ اس دعوے کے بعد مختلف حلقوں میں اس حوالے سے سوالات اٹھائے گئے۔
بعد ازاں پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ گورنمنٹ افیئرز احمد شمیم نے اس پالیسی کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ نئی جاری ہونے والی سم ایک سال مکمل ہونے سے قبل ڈس اون نہیں کی جا سکے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد غیر قانونی سموں کے اجرا، جعلی رجسٹریشن اور شناختی معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام ہے۔
اتھارٹی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا کہ یہ اقدام قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے اور غیر مجاز سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کیلئے کیا گیا ہے۔
پی ٹی اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئی سم حاصل کرتے وقت بائیومیٹرک تصدیق کے عمل میں انتہائی احتیاط برتیں کیونکہ ایک مرتبہ سم ایکٹیویٹ ہونے کے بعد اسے ایک سال تک اپنے نام سے ختم نہیں کروایا جا سکے گا۔
حکام کے مطابق بعض افراد غیر ارادی طور پر اپنی شناختی معلومات دوسروں کے استعمال کیلئے فراہم کر دیتے ہیں جس کے بعد ان کے نام پر سمز رجسٹر ہو جاتی ہیں اور بعد میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
پی ٹی اے نے عوام کو یہ بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز کی تعداد ضرور چیک کرتے رہیں۔
اس مقصد کیلئے شہری CNIC Sims Portal استعمال کر سکتے ہیں یا اپنے شناختی کارڈ نمبر کو بغیر ڈیش 668 پر ایس ایم ایس کرکے معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹیلی کام ماہرین کے مطابق اس نئی پالیسی سے غیر قانونی سموں کے کاروبار اور شناختی معلومات کے غلط استعمال کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے، تاہم صارفین کیلئے آگاہی مہم چلانا بھی ضروری ہوگا۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان میں غیر قانونی سموں اور جعلی رجسٹریشن کا مسئلہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے چیلنج رہا ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ایک سال کی پابندی بظاہر سخت محسوس ہو سکتی ہے لیکن سیکیورٹی اور شناختی معلومات کے تحفظ کے تناظر میں اس اقدام کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر نئی پالیسی کے حوالے سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
بعض صارفین نے اسے قومی سلامتی کیلئے مثبت قدم قرار دیا جبکہ کچھ افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کوئی سم غلطی سے ایکٹیویٹ ہو جائے تو صارف کو ایک سال تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ٹیلی کمیونیکیشن ماہرین کے مطابق صارفین کو سم خریدتے وقت مکمل احتیاط برتنی چاہیے اور اپنی بائیومیٹرک معلومات کسی غیر متعلقہ شخص کو فراہم نہیں کرنی چاہئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شناختی معلومات کے تحفظ کیلئے مسلسل نگرانی اور صارفین کی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔
ڈیجیٹل دور میں شناختی معلومات کی حفاظت قومی سلامتی اور شہری تحفظ دونوں کیلئے اہم ہے۔ اگر نئی پالیسی کے ذریعے غیر قانونی سموں کا اجرا کم ہوتا ہے تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی، تاہم عوامی سہولت اور آگاہی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
میری رائے میں ہر موبائل صارف کو فوری طور پر اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز کی تعداد چیک کرنی چاہیے۔ نئی پالیسی کے بعد بائیومیٹرک تصدیق کے وقت احتیاط پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے کیونکہ غلطی کی صورت میں سم ایک سال تک آپ کے نام پر برقرار رہ سکتی ہے۔





















