برطانوی شخص 2 سال سے نیند سے محروم، ڈاکٹرز بھی وجہ جاننے میں ناکام

کچھ سال قبل، اولیور ایلوس ایک پرعزم اور ذمہ دار شخص تھے

نیند انسانی زندگی کا بنیادی جزو ہے، لیکن تصور کریں کہ آپ دو سال سے ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوئے ہوں۔ یہ کوئی خیالی کہانی نہیں، بلکہ برطانیہ کے ایک شہری، اولیور ایلوس، کی زندگی کا المناک حقیقت ہے۔ اولیور نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ گزشتہ دو سال سے مکمل طور پر بے خوابی کا شکار ہیں، اور یہ پراسرار حالت ان کی زندگی کو ایک ’’جلتے ہوئے ڈراؤنے خواب‘‘ میں بدل چکی ہے۔ یہ رپورٹ اولیور کی اس غیر معمولی حالت، ان کی جدوجہد، اور ڈاکٹروں کی ناکامی کی تفصیلات پیش کرتی ہے، جو نہ صرف ایک انسانی کہانی ہے بلکہ طبی سائنس کے لیے ایک چیلنج بھی ہے۔

اولیور ایلوس

کچھ سال قبل، اولیور ایلوس ایک پرعزم اور ذمہ دار شخص تھے، جو برطانیہ میں ایک ٹرین کنڈکٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ انہوں نے محنت سے ایک چار بیڈروم کا اپارٹمنٹ خریدا تھا اور ایک مستحکم، خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن ایک رات، سب کچھ بدل گیا۔ اولیور کو نیند نہ آئی، اور یہ بے خوابی ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی کا ایک نہ ختم ہونے والا عذاب بن گئی۔

اولیور نے بتایا کہ گزشتہ 21 مہینوں سے وہ ایک ایسی جسمانی اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں، جہاں ان کا جسم ’’اندر سے جلتا‘‘ محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی حالت کو ’’ایک دھیمی، بیدار موت‘‘ قرار دیا، جہاں وہ نہ صرف نیند سے محروم ہیں بلکہ ان کی صحت، رشتے، اور زندگی کا ہر پہلو تباہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں وہ شخص نہیں رہا جو پہلے تھا۔ میری آنکھیں ایسی ہیں جیسے پگھل رہی ہوں۔‘‘

طبی جدوجہد

اولیور کی حالت کو سمجھنے کے لیے انہوں نے ہزاروں پاؤنڈز خرچ کیے، درجنوں ڈاکٹروں سے رجوع کیا، اور دنیا بھر میں علاج کی تلاش میں سفر کیا۔ انہوں نے ترکی، کولمبیا، بھارت، اور یورپ کے مختلف ممالک میں علاج کی کوشش کی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ انہوں نے ہر ممکن علاج آزمایا، بشمول سنجیدہ رویے کی تھراپی (CBT)، ہائپنو تھراپی، ایکیوپنکچر، مراقبہ، اور آواز کی تھراپی۔ یہاں تک کہ انہوں نے طاقتور نیند آور ادویات، جیسے کہ بینزوڈیازپائنز اور اوپیئڈز، بھی آزمائیں، لیکن کوئی بھی دوا انہیں نیند نہ دلا سکی۔

ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں، ترکی کے ایک ڈاکٹر نے اولیور کو جنرل اینستھیٹک دیا، جو عام طور پر سرجری سے پہلے مریضوں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر، یہ مضبوط دوا بھی اولیور کو سونے میں ناکام رہی۔ ڈاکٹر نے حیرت سے کہا، ’’آپ ایک بہت طاقتور انسان ہیں۔‘‘ اس ناکامی کے بعد اولیور رو پڑے اور کہا، ’’میں بس سونا چاہتا ہوں۔‘‘

ماہرین نے اولیور کی حالت کو سمجھنے کے لیے کئی نظریات پیش کیے ہیں۔ مشہور نیورولوجسٹ پروفیسر گائی لیشزینر، جو نیند کے امراض کے ماہر ہیں، نے امکان ظاہر کیا کہ اولیور کو ’’پیراڈوکسیکل انسومنیا‘‘ (paradoxical insomnia) ہو سکتا ہے۔ یہ ایک نایاب حالت ہے، جس میں مریض کو لگتا ہے کہ وہ بالکل نہیں سو رہا، حالانکہ دماغی اسکینز سے پتہ چلتا ہے کہ وہ نیند جیسے نمونوں کا تجربہ کر رہا ہوتا ہے۔ تاہم، اولیور اس نظریے سے متفق نہیں ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ وہ واقعی ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوئے۔

ممکنہ وجوہات اور چیلنجز

ڈاکٹروں نے اولیور کی حالت کے لیے کئی ممکنہ تشخیصات پیش کی ہیں، جن میں پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD)، دائمی تھکاوٹ سنڈروم (chronic fatigue syndrome)، اور فائبرومیالجیا شامل ہیں۔ اولیور کے مطابق، ان کی بے خوابی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ ٹرین کنڈکٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے ایک خودکشی اور ایک خودکشی کی کوشش کے واقعات کے گواہ بنے۔ ان صدمات نے ان کے دماغی اور جسمانی نظام کو شدید متاثر کیا، جو ممکنہ طور پر ان کی بے خوابی کی وجہ ہو سکتا ہے۔

تاہم، ڈاکٹروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ اولیور کی حالت کی اصل وجہ کو شناخت نہیں کر سکے۔ پروفیسر لیشزینر کے مطابق، مکمل بے خوابی (total insomnia) ایک جان لیوا حالت سمجھی جاتی ہے، کیونکہ جانوروں پر تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کتوں کو 17 دن اور چوہوں کو 32 دن تک بغیر نیند کے زندہ رکھا جا سکتا ہے، اس کے بعد وہ مر جاتے ہیں۔ لیکن اولیور کا 21 مہینوں تک زندہ رہنا طبی سائنس کے لیے ایک معمہ ہے۔

اولیور نے عالمی نیند کے ماہرین، نیوروسائنسدانوں، اور محققین سے مدد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کوئی محقق یا نیند کا ماہر ہیں، براہ کرم میری مدد کریں۔ میں اپنی زندگی واپس مانگتا ہوں۔‘‘

بے خوابی کے اثرات

اولیور کی زندگی اب مکمل طور پر بدل چکی ہے۔ انہوں نے اپنا گھر بیچ دیا، اپنی ملازمت کھو دی، اور اپنی بچت علاج پر خرچ کر دی۔ ان کے جوڑوں میں مسلسل درد، بینائی کی خرابی، اور دماغی دھند (brain fog) نے ان کی زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’’میں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ میری زندگی ایک سست رفتار موت کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘‘

نیند کی کمی انسان کے جسمانی اور دماغی نظام کے لیے تباہ کن ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف دماغی صحت، جیسے کہ ڈپریشن اور اضطراب، کو متاثر کرتی ہے بلکہ دل کی بیماریوں، ذیابیطس، اور مدافعتی نظام کی کمزوری کا باعث بھی بنتی ہے۔ اولیور کی حالت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ نیند کی کمی کس طرح ایک انسان کی زندگی کو مکمل طور پر برباد کر سکتی ہے۔

ہمدردی اور حیرت

اس خبر کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا، خاص طور پر ایکس، پر لوگوں نے اولیور کے لیے ہمدردی اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’دو سال تک نہ سونا؟ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اولیور کے لیے دعا گو ہوں کہ انہیں کوئی حل مل جائے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ طبی سائنس کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ نیند اتنی بنیادی چیز ہے، لیکن ڈاکٹر اس کا حل کیوں نہیں ڈھونڈ سکے؟‘‘

کچھ صارفین نے اس بات پر زور دیا کہ اولیور کی کہانی نیند کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ہم نیند کو معمولی سمجھتے ہیں، لیکن اولیور کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ یہ ہماری زندگی کا سب سے اہم حصہ ہے۔‘‘

نیند کے امراض

نیند کے امراض، جیسے کہ انسومنیا، دنیا بھر میں لاکھوں افراد کو متاثر کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، تقریباً 10 فیصد آبادی کسی نہ کسی قسم کی بے خوابی کا شکار ہے، اور 30 ملین امریکی بالغ دائمی انسومنیا سے متاثر ہیں۔ تاہم، اولیور کی حالت اس سے کہیں زیادہ نایاب اور سنگین ہے، کیونکہ مکمل بے خوابی (fatal insomnia) ایک ایسی حالت ہے جو عام طور پر جینیاتی ہوتی ہے اور مہلک ثابت ہوتی ہے۔

پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں نیند کے امراض پر تحقیق اور علاج کی سہولیات محدود ہیں، اولیور کی کہانی ایک اہم پیغام ہے کہ نیند کی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ پاکستانی معاشرے میں تناؤ، ناقص طرز زندگی، اور ڈیجیٹل آلات کا زیادہ استعمال نیند کے مسائل کو بڑھا رہا ہے، اور اس طرح کی کہانیاں ہمیں اپنی صحت پر توجہ دینے کی یاد دہانی کراتی ہیں۔

اولیور ایلوس کی کہانی نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ طبی سائنس کے لیے ایک گہرا چیلنج بھی ہے۔ دو سال تک مکمل بے خوابی ایک ایسی حالت ہے جو نہ صرف ناقابل یقین ہے بلکہ انسانی جسم اور دماغ کی برداشت کے بارے میں ہمارے علم کو چیلنج کرتی ہے۔ پروفیسر لیشزینر کا نظریہ کہ یہ ’’پیراڈوکسیکل انسومنیا‘‘ ہو سکتا ہے، ایک ممکنہ وضاحت ہے، لیکن اولیور کا اصرار کہ وہ واقعی نہیں سو رہے، اسے رد نہیں کیا جا سکتا۔

یہ کہانی ہمیں نیند کی اہمیت اور اس کی کمی کے تباہ کن اثرات کی یاد دہانی کراتی ہے۔ اولیور کی جدوجہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نیند کے امراض کو سنجیدگی سے لینا اور ان پر تحقیق کو بڑھانا ضروری ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں نیند کے ماہرین اور جدید تشخیصی سہولیات کی کمی ہے، اس طرح کی کہانیاں صحت کے نظام میں بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہیں۔

تاہم، اولیور کی حالت کچھ سوالات بھی اٹھاتی ہے۔ کیا ان کی بے خوابی کا تعلق صرف صدمے (trauma) سے ہے، یا کوئی جینیاتی یا نیورولوجیکل وجہ ہے جو ابھی تک دریافت نہیں ہوئی؟ کیا طبی سائنس اس طرح کے نایاب کیسز کے لیے تیار ہے؟ ان سوالات کے جوابات کے لیے مزید تحقیق اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے۔

اولیور کی اپیل کہ نیند کے ماہرین اور محققین ان کی مدد کریں، ایک انسانی فریاد ہے جو ہر ایک کو متاثر کرتی ہے۔ یہ رپورٹ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی نیند کو کتنا معمولی سمجھتے ہیں، جبکہ یہ ہماری صحت اور زندگی کا بنیادی ستون ہے۔ اولیور کی کہانی ہر فرد کے لیے ایک سبق ہے کہ نیند کی قدر کریں اور اسے ترجیح دیں، کیونکہ اس کے بغیر زندگی ایک ڈراؤنا خواب بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین