شاہین کا ناقدین کو جواب، جیت کیلئے اپنی مرضی کی پچ بنانا جرم نہیں

آسٹریلیا کے خلاف سیریز فتح کے بعد پچز پر تنقید مسترد، شاہین نے ورلڈ کپ تیاریوں سے متعلق بھی اہم مؤقف پیش کر دیا

لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان Shaheen Shah Afridi نے آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں کامیابی کے بعد پچز پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی ہر ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز پر ایسی وکٹیں تیار کرتی ہے جو اس کی طاقت کے مطابق ہوں اور جیت میں مددگار ثابت ہوں۔

پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف تین ایک روزہ میچوں کی سیریز 1-2 سے اپنے نام کی، تاہم سیریز کے دوران راولپنڈی اور لاہور کی اسپن دوست وکٹیں مسلسل بحث کا موضوع بنی رہیں۔

کرکٹ مبصرین اور سابق کھلاڑیوں کے ایک حلقے نے مؤقف اختیار کیا کہ جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے پیش نظر ایسی وکٹیں قومی ٹیم کی تیاری میں زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوں گی کیونکہ وہاں تیز گیند بازوں کو نسبتاً زیادہ معاونت ملنے کا امکان ہے۔

تاہم سیریز جیتنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے واضح کیا کہ ہوم ایڈوانٹیج کا استعمال دنیا بھر کی ٹیمیں کرتی ہیں اور پاکستان نے بھی اسی حکمت عملی کے تحت وکٹیں تیار کیں۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ابھی تقریباً 15 ماہ باقی ہیں اور قومی ٹیم کے پاس مختلف حالات اور مختلف نوعیت کی وکٹوں پر تیاری کیلئے کافی وقت موجود ہے۔

شاہین آفریدی کے مطابق اس وقت ٹیم کی اولین ترجیح سیریز جیتنا تھی اور کھلاڑیوں نے اس مقصد کو کامیابی سے حاصل کیا۔

سیریز کے دوران نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی نمایاں رہی۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر عرفات منہاس نے اپنے ون ڈے کیریئر کا شاندار آغاز کرتے ہوئے ڈیبیو سیریز میں ہی پانچ وکٹیں حاصل کیں اور سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

عرفات منہاس کی عمدہ کارکردگی نے نہ صرف ٹیم مینجمنٹ بلکہ شائقین کرکٹ کو بھی متاثر کیا اور انہیں مستقبل کا اہم اسپنر قرار دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح Abrar Ahmed نے بھی اپنی اسپن بولنگ سے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مشکلات سے دوچار رکھا اور اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کیں۔

دوسری جانب Shadab Khan کی ٹیم میں واپسی بھی سیریز کے نمایاں موضوعات میں شامل رہی۔

اگرچہ ابتدائی دو میچوں میں شاداب خان بولنگ کے شعبے میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے، تاہم بعد ازاں انہوں نے نہ صرف اپنی بولنگ بہتر بنائی بلکہ بیٹنگ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

شاہین آفریدی نے شاداب خان کی کارکردگی کو ٹیم کیلئے بڑا مثبت پہلو قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجربہ کار کھلاڑیوں کی فارم میں واپسی آئندہ اہم مقابلوں کیلئے خوش آئند ہے۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے گئے آخری اور فیصلہ کن میچ میں پاکستان نے کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے میں کامیابی حاصل کر کے سیریز اپنے نام کی، جس کے بعد قومی ٹیم کے اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان نے ہوم کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے سیریز جیتی، تاہم مستقبل میں ورلڈ کپ کی تیاریوں کیلئے مختلف قسم کی وکٹوں پر کھیلنا بھی ضروری ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کی کامیابی اور اسپنرز کی کارکردگی قومی ٹیم کیلئے حوصلہ افزا ہے، لیکن عالمی ایونٹس کیلئے متوازن تیاری ناگزیر ہوگی۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر شائقین کرکٹ کی بڑی تعداد نے سیریز جیتنے پر قومی ٹیم کو مبارکباد دی۔

کئی صارفین نے عرفات منہاس اور ابرار احمد کی کارکردگی کو سراہا جبکہ بعض کرکٹ شائقین نے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے مختلف نوعیت کی پچز پر کھیلنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

کرکٹ ماہرین کے مطابق ہوم گراؤنڈ پر اپنی طاقت کے مطابق وکٹیں تیار کرنا بین الاقوامی کرکٹ کا معمول ہے، تاہم کامیاب عالمی ٹیمیں ہر قسم کے حالات میں کھیلنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ 15 ماہ میں قومی ٹیم کو فاسٹ باؤلنگ دوست اور بیٹنگ فرینڈلی وکٹوں پر بھی بھرپور تیاری کرنی ہوگی۔

سیریز میں کامیابی یقیناً خوش آئند ہے، تاہم اصل امتحان عالمی ایونٹس میں ہوتا ہے جہاں مختلف حالات اور مضبوط حریفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قومی ٹیم کو موجودہ کامیابی کو بنیاد بنا کر مزید جامع تیاری کرنا ہوگی۔

میری رائے میں سیریز جیتنا ہمیشہ اہم ہوتا ہے اور ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانا ہر ٹیم کا حق ہے، لیکن ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹس کیلئے ہر طرح کی وکٹوں پر کھیلنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل مواقع ملتے رہے تو پاکستان کے پاس ایک مضبوط اور متوازن ٹیم بننے کا اچھا موقع موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین