شاہدرہ کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح تشویشناک حد تک بلند

شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 55 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے

پنجاب کے قلب لاہور سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں دریاؤں کی طغیانی نے سیلابی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ دریائے راوی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے، اور شاہدرہ کے مقام پر صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ آج دوپہر تک 2 لاکھ کیوسک کا ایک بڑا سیلابی ریلا گزرنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر لاہور کی پانچ تحصیلوں کے 22 دیہاتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔ 

خطرے کی گھنٹی

پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے نے حکام اور شہریوں کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔ دریائے راوی، جو لاہور کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ کمشنر لاہور محمد آصف بلال لودھی نے بتایا کہ شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 55 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ہے، اور صبح 9 سے 10 بجے کے درمیان یہ 1 لاکھ 60 ہزار کیوسک تک بڑھنے کا امکان ہے۔ تاہم، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ صورتحال فی الحال قابو میں ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق، دوپہر تک دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ایک طاقتور ریلا گزر سکتا ہے، جو شہر کے نشیبی علاقوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس ممکنہ خطرے کے پیش نظر، انتظامیہ نے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک ہے، لیکن موجودہ بہاؤ اس حد کے قریب پہنچ رہا ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔

انتظامیہ کے فوری اقدامات

سیلابی خطرے سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے جامع حکمت عملی اپنائی ہے۔ لاہور کی پانچ تحصیلوں کے 22 دیہاتوں سے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ دریائے راوی کے بیڈ سے مکمل انخلاء مکمل ہو چکا ہے۔ کمشنر لاہور نے بتایا کہ 500 سے زائد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، اور انخلاء کا عمل تیزی سے جاری ہے۔

لاہور پولیس، ریسکیو 1122، محکمہ انہار، لائیو اسٹاک، سول ڈیفنس، اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ یہ ادارے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں مسلسل گشت کر رہے ہیں اور شہریوں کو فوری امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں، افواہوں پر کان نہ دھریں، اور ایمرجنسی کی صورت میں 1122 پر رابطہ کریں۔

وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے شاہدرہ میں سیلابی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات خطرناک ہیں، اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ شہریوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے اور حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کیا جائے۔

سرگودھا میں صورتحال

دریائے راوی کے علاوہ، سرگودھا کے کوٹ مومن تحصیل میں بھی سیلابی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر سرگودھا نے اعلان کیا ہے کہ سیلابی خطرے کے پیش نظر تمام نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو 2 ستمبر تک بند کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت طلبہ کو فوری طور پر چھٹیاں دے دی گئی ہیں تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ فیصلہ مقامی آبادی کو ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

دیگر دریاؤں کی صورتحال

دریائے راوی کے علاوہ، دیگر دریاؤں میں بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو رہی ہے۔ ایکسین ایریگیشن اور اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ نے ہیڈ قادرآباد کا دورہ کیا اور بتایا کہ پانی کا بہاؤ ابھی بلند ترین سطح پر نہیں پہنچا، لیکن احتیاطی تدابیر جاری ہیں۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، طالب والا پل سے 6 لاکھ کیوسک پانی کا گزر ریکارڈ کیا گیا ہے، جو پانی کی سطح میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔

دریائے چناب اور ستلج بھی شدید سیلابی صورتحال سے دوچار ہیں۔ ہیڈ قادرآباد پر پانی کا بہاؤ 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اس کی موجودہ گنجائش صرف 8 لاکھ کیوسک ہے۔ اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے گوجرانوالہ میں ایک شگاف ڈالا گیا، لیکن پانی کی سطح میں اضافہ جاری ہے۔

بھارتی آبی جارحیت

ماہرین اور حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنا سیلابی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔ بھارتی ڈیموں سے پانی کے اخراج نے دریائے راوی، چناب، اور ستلج میں پانی کی سطح کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ پر 6 لاکھ 96 ہزار کیوسک اور خانکی پر 10 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو انتہائی خطرناک ہے۔

اس کے علاوہ، تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل گرودوارہ کرتارپور صاحب کے کمپاؤنڈ میں بھی سیلابی پانی داخل ہو گیا ہے، جو پاک-بھارت سرحد پر واقع ہے۔ یہ صورتحال بھارت کی جانب سے انڈس واٹر ٹریٹی کی خلاف ورزیوں سے منسلک کی جا رہی ہے، جس نے پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر شائقین نے اس سیلابی صورتحال پر مخلوط ردعمل دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’دریائے راوی میں پانی کی سطح بڑھنا تشویشناک ہے، لیکن انتظامیہ کے فوری اقدامات قابل تحسین ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’بھارت کی آبی جارحیت ہر سال ہمیں نقصان پہنچاتی ہے۔ ہمیں اپنے واٹر مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط کرنا ہوگا۔‘‘ کچھ صارفین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے اور شہریوں کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں۔

پس منظر: پنجاب میں سیلابی تاریخ

پنجاب میں سیلاب کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ 2023 میں دریائے ستلج میں شدید سیلاب نے قصور، پاکپتن، اور دیگر اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی، جس سے ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے تھے۔ موجودہ صورتحال بھی اسی طرح کی ہے، اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت کی جانب سے پانی کا اخراج جاری رہا تو یہ 2023 جیسا بحران بن سکتا ہے۔

پاکستان کے واٹر مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت کے ڈیموں سے پانی کے غیر متوقع اخراج نے ہر سال سیلابی خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت بھارت نے حال ہی میں سیلابی خطرات سے متعلق معلومات فراہم کیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔

دریائے راوی میں موجودہ سیلابی صورتحال پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جو نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کے دیگر اضلاع کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فوری اقدامات، جیسے کہ انخلاء اور ہائی الرٹ، قابل تحسین ہیں، لیکن یہ صورتحال چند اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سب سے بڑا سوال بھارت کی آبی جارحیت سے متعلق ہے، جو ہر سال پاکستان کے دریاؤں میں پانی کی سطح کو غیر متوقع طور پر بڑھا دیتی ہے۔ انڈس واٹر ٹریٹی پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہوگا۔

دوسری جانب، پاکستان کے واٹر مینجمنٹ سسٹم کی کمزوریاں بھی واضح ہوتی ہیں۔ دریائے راوی کے بیڈ میں غیر قانونی تعمیرات اور کچی آبادیوں نے سیلابی پانی کے بہاؤ کو روکنے میں مشکلات پیدا کی ہیں۔ انتظامیہ کو طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت دریاؤں کے بیڈ کو صاف کرنے اور غیر قانونی تعمیرات کو روکنے کی ضرورت ہے۔

لاہور جیسے بڑے شہر کے لیے یہ سیلابی خطرہ ایک الرٹ ہے کہ شہری منصوبہ بندی اور ایمرجنسی مینجمنٹ کو مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ گرودوارہ کرتارپور جیسے تاریخی مقامات کا پانی میں ڈوبنا نہ صرف ماحولیاتی بلکہ ثقافتی نقصان بھی ہے۔ اگرچہ انتظامیہ نے فوری اقدامات اٹھائے ہیں، لیکن عوام کی آگاہی اور تعاون کے بغیر یہ کوششیں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

آخر میں، یہ رپورٹ ہمیں پاکستان کے واٹر مینجمنٹ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ سسٹم پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگرچہ موجودہ اقدامات صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے کافی ہیں، لیکن مستقبل میں اس طرح کے خطرات سے بچنے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے، عالمی تعاون، اور مقامی سطح پر آگاہی کی ضرورت ہے۔ دریائے راوی کا یہ سیلابی ریلا نہ صرف ایک قدرتی آفت ہے بلکہ ہمارے نظام کی خامیوں کو عیاں کرنے والا ایک آئینہ بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین