مودی سرکار کا جنگی جنون نئی کمانڈو بٹالینز کی تیاری میں مصروف

بھارتی فوج نے رواں ماہ پانچ نئی ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے

بھارت کی مودی حکومت، جو خطے میں جارحانہ عزائم کے لیے جانی جاتی ہے، ایک بار پھر اپنی عسکری صلاحیتوں کو بڑھاوا دینے اور سرحدوں پر کشیدگی کو ہوا دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، بھارتی فوج نے رواں ماہ پانچ نئی ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں پاکستان اور چین کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے کلیدی سرحدی علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔ یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستان اور چین سے درپیش ’دو محاذوں کے چیلنج‘ کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے، لیکن تجزیہ کار اسے خطے میں عدم استحکام پھیلانے اور بھارت کی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز

بھارتی میڈیا ادارے ’دی پرنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی فوج نے پانچ نئی ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز تشکیل دینے کا منصوبہ بنایا ہے، جو رواں سال اکتوبر تک مکمل طور پر فعال ہو جائیں گی۔ ہر بٹالین میں تقریباً 250 خصوصی طور پر تربیت یافتہ کمانڈوز شامل ہوں گے، جو جدید ہتھیاروں، ڈرونز، اور ہائی ٹیک آلات سے لیس ہوں گے۔ یہ یونٹس سرحدوں پر تیز رفتار، جارحانہ، اور ’صدمہ انگیز‘ کارروائیوں کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں۔

ان بٹالینز کی تعیناتی کا منصوبہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے:

  • تین یونٹس شمالی سرحدوں پر، جو پاکستان اور چین کے ساتھ ملتی ہیں، تعینات کیے جائیں گے۔ یہ یونٹس اودھم پور میں قائم ناردرن کمانڈ کے تحت کام کریں گے، جن میں سے ایک لیہہ میں 14 کور، ایک سری نگر میں 15 کور، اور ایک ناگروٹہ میں 16 کور کے تحت ہوگا۔

  • ایک یونٹ شمال مشرقی محاذ پر، جو بنیادی طور پر چین کے ساتھ سرحد کے لیے مختص ہوگا۔

  • ایک یونٹ مغربی سرحد پر، جو پاکستان کے ساتھ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ریگستانی علاقوں میں تعینات کیا جائے گا۔

ان کمانڈو یونٹس کو کراس بارڈر انٹرڈکشن، سراغ رسانی، دشمن کی پوزیشنز کو تباہ کرنے، اور تیز رفتار چھاپہ مار کارروائیوں جیسے جارحانہ اہداف سونپے گئے ہیں۔ یہ یونٹس بھارتی فوج کے موجودہ 415 انفنٹری بٹالینز سے الگ ہوں گے اور خاص طور پر ہائی رسک آپریشنز کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں، تاکہ خصوصی فورسز (پیرا اسپیشل فورسز) کو زیادہ پیچیدہ مشنز کے لیے آزاد رکھا جا سکے۔

’آپریشن سندور‘ اور بھارت کا جارحانہ ایجنڈا

’دی پرنٹ‘ کے مطابق، ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کا قیام ’آپریشن سندور‘ کے تناظر میں اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے۔ مئی 2025 میں ہونے والے اس آپریشن کے دوران، بھارت نے پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (پی او جے کے) میں مبینہ طور پر نو دہشت گرد اہداف پر حملے کیے تھے، جسے بھارت نے پلوامہ دہشت گرد حملے کا جواب قرار دیا، جس میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی دعوؤں کے مطابق، یہ حملے ’بغیر کسی شہری نقصان‘ کے کیے گئے، لیکن پاکستانی فورسز نے اس کے جواب میں ڈرون اور میزائل حملوں کی کوشش کی، جنہیں بھارت کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم نے ناکام بنا دیا۔ 10 مئی کو دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد یہ تنازع ختم ہوا تھا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران چین نے پاکستان کو ریئل ٹائم انٹیلی جنس اور عسکری امداد فراہم کی تھی، جس نے بھارت کے لیے ’دو محاذوں‘ کے چیلنج کو مزید سنگین کر دیا۔ اس تناظر میں، ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کا قیام بھارت کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ وہ پاکستان اور چین کے خلاف بیک وقت جارحانہ کارروائیوں کی صلاحیت کو بڑھائے۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپندر دویویدی نے ’بھیراو‘ یونٹس کو ’سرحدوں پر دشمن کو صدمہ دینے‘ کے لیے تیار کردہ قرار دیا ہے، جو تیز رفتار چھاپہ مار کارروائیوں، بنکر تباہ کرنے، اور اینٹی ٹینک مشنز کے لیے لیس ہوں گے۔

بھارت کی فالس فلیگ پالیسی کا تسلسل

پاکستان اور خطے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کا قیام بھارت کی طویل عرصے سے جاری فالس فلیگ آپریشنز اور جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ بھارت کی تاریخ اس طرح کے آپریشنز سے بھری پڑی ہے، جن کا مقصد پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر اپنی جارحانہ کارروائیوں کو جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔ ’آپریشن سندور‘ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں بھارت نے اپنے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے بغیر پاکستان کے خلاف کارروائی کی۔

مزید برآں، بھارت کی جانب سے نئی کمانڈو بٹالینز کا قیام پاکستان کے خلاف دشمنی اور ایل او سی پر عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ یونٹس، جو جدید ہتھیاروں جیسے کہ AK-203 اور SIG-716 رائفلز، نائٹ آپٹکس، اور گاڑیوں پر نصب اینٹی ٹینک میزائلوں سے لیس ہوں گے، نہ صرف سرحدی جھڑپوں بلکہ گہرے چھاپہ مار حملوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔

بھارت کی اندرونی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی حکمت عملی

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی جانب سے یہ جارحانہ عسکری اقدامات بھارت کی اندرونی سیاسی اور معاشی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، معاشی عدم استحکام، اور سماجی تقسیم نے مودی حکومت کے لیے بڑے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ اس تناظر میں، پاکستان اور چین کے خلاف جارحانہ بیانات اور عسکری تیاریوں کو قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور اپوزیشن کی تنقید کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کے قیام کو بھارت کی ’سرد جنگ‘ طرز کی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس کا مقصد پاکستان کے ساتھ ایل او سی پر کشیدگی کو برقرار رکھنا اور چین کے ساتھ لائن آف ایکشوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنا ہے۔ تاہم، یہ اقدامات خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ سرحدی تنازعات کو ہوا دینے کا باعث بنتے ہیں۔

عسکری تیاریوں کا دائرہ کار

’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کے علاوہ، بھارتی فوج ’رودرا بریگیڈز‘ اور ’شکتی بان آرٹلری رجمنٹس‘ کے قیام پر بھی کام کر رہی ہے۔ ’رودرا بریگیڈز‘ مکمل طور پر مربوط جنگی یونٹس ہوں گے، جن میں انفنٹری، میکانائزڈ انفنٹری، ٹینک، آرٹلری، خصوصی فورسز، اور ڈرون شامل ہوں گے۔ یہ بریگیڈز تیز رفتار، کثیر جہتی حملوں کے لیے تیار کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح، ’شکتی بان رجمنٹس‘ جدید ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز سے لیس ہوں گی، جو ریئل ٹائم سرویلنس اور درست حملوں کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

ان نئی فوجی اکائیوں کی تربیت اور تعیناتی کا عمل ’سیو اینڈ ریز‘ ماڈل کے تحت کیا جا رہا ہے، یعنی موجودہ فوجی وسائل کو دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے بجائے اس کے کہ نئے فوجی بھرتی کیے جائیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنی موجودہ فوج کو زیادہ موثر اور جارحانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جو خطے کے لیے ایک نیا خطرہ ہو سکتا ہے۔

خطے پر ممکنہ اثرات

’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز اور دیگر نئی فوجی اکائیوں کی تعیناتی سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا قوی امکان ہے۔ پاکستان اور چین کے ساتھ سرحدی تنازعات پہلے ہی حساس نوعیت کے ہیں، اور بھارت کی جارحانہ عسکری تیاریاں ان تنازعات کو مزید ہوا دے سکتی ہیں۔ خاص طور پر ایل او سی پر، جہاں حالیہ برسوں میں جنگ بندی کے معاہدوں کے باوجود جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، یہ نئے یونٹس عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

مزید برآں، چین کی جانب سے ’آپریشن سندور‘ کے دوران پاکستان کو مبینہ انٹیلی جنس امداد نے بھارت کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری ہم آہنگی بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کا قیام اسی تشویش کا نتیجہ ہے، لیکن یہ خطے میں طاقت کے توازن کو مزید پیچیدہ کر سکتا ہے۔

بھارت کی ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز اور دیگر نئی عسکری اکائیوں کا قیام اس کی جارحانہ اور ہٹ دھرم فوجی پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ یہ یونٹس، جو جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس ہیں، نہ صرف سرحدی جھڑپوں بلکہ گہرے چھاپہ مار حملوں کے لیے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، جو پاکستان اور چین کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ ’آپریشن سندور‘ جیسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اپنی فالس فلیگ آپریشنز کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہے، جس کا مقصد پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر اپنی جارحیت کو جواز فراہم کرنا ہے۔

تاہم، یہ اقدامات بھارت کی اندرونی کمزوریوں سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش بھی ہیں۔ مودی حکومت کو معاشی بدحالی، بے روزگاری، اور سماجی عدم استحکام جیسے مسائل کا سامنا ہے، اور پاکستان و چین کے خلاف جارحانہ بیانات اور عسکری تیاریاں ان مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کا ایک ذریعہ ہیں۔ لیکن یہ پالیسی خطے میں امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرے اور بھارت کی جارحانہ حکمت عملیوں کا سفارتی اور عسکری سطح پر مقابلہ کرے۔ چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی عسکری ہم آہنگی اس سلسلے میں ایک اہم اثاثہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر تنقید کرے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے دباؤ ڈالے۔ ’بھیراو کمانڈو‘ بٹالینز کا قیام کوئی دفاعی اقدام نہیں، بلکہ ایل او سی اور ایل اے سی پر کشیدگی کو ہوا دینے کی ایک دانستہ کوشش ہے، جس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین