سکول مالکان بچوں کو سمر کیمپ میں شرکت کیلئے مجبور نہیں کر سکتے:پنجاب حکومت

نجی اسکولوں کو سمر کیمپ کی الگ سے فیس وصول کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)صوبائی وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے سمر کیمپ سے متعلق خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نجی اسکولوں کو سمر کیمپ کی الگ سے فیس وصول کرنے کی اجازت ہرگز نہیں ہے، تاہم وہ اپنی ماہانہ ریگولر فیس وصول کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسکول مالکان والدین کو بچوں کو سمر کیمپ میں شرکت کے لیے مجبور نہیں کر سکتے۔

صوبائی وزیر کے مطابق اسکول انتظامیہ کو ماہانہ فیس لینے سے نہیں روکا گیا، لیکن سمر کیمپ کے نام پر فیس وصول کرنے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مجموعی طور پر ایک مثبت اور متوازن قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو والدین کے مالی دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ حالیہ عرصے میں بعض نجی اسکولوں میں سمر کیمپ کے نام پر اضافی فیس لینے کا رجحان سامنے آیا تھا، جس پر حکومت کی یہ وضاحت ایک بروقت رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ تعلیم کے ساتھ جڑی اضافی سرگرمیاں شفاف اور منصفانہ اصولوں کے تحت ہونی چاہئیں تاکہ والدین پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔

اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سمر کیمپ کو لازمی قرار دینے کی اجازت نہیں دی گئی، جس سے والدین کو اپنے بچوں کی شرکت کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق ملتا ہے۔ اس سے نہ صرف مالی سہولت پیدا ہوگی بلکہ بچوں کے لیے بھی ایک کم دباؤ والا تعلیمی ماحول برقرار رہے گا۔

اسی طرح اسکولوں کو ماہانہ فیس وصول کرنے کی اجازت برقرار رکھ کر ایک عملی توازن بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں کے روزمرہ اخراجات متاثر نہ ہوں۔ یہ پہلو اس پالیسی کو مزید قابلِ عمل بناتا ہے اور تعلیمی نظام میں کسی بڑے خلل سے بچاتا ہے۔

مجموعی طور پر یہ اقدام اس سمت میں ایک مثبت پیش رفت ہے کہ تعلیم کو زیادہ منظم، شفاف اور والدین کے لیے قابل برداشت بنایا جائے، اور اگر اس پر درست عملدرآمد کیا جائے تو اس کے اچھے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین