اسلام آباد(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ جینیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی رسمی تقریب کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ طویل کشیدگی اور جنگ کے سائے کے بعد اب امن کی صبح طلوع ہو چکی ہے، اور دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کے مستقل خاتمے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان کے مطابق فریقین نے انتہائی مشکل حالات میں بھی صبر، برداشت اور حکمت عملی کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جینیوا میں ہونے والی امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی پاکستان کے سپرد کی گئی ہے، اور اس پیش رفت پر پاکستان سمیت پوری عالمی برادری کو مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ عالمی امن کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ وہ اپنی پارٹی قیادت، خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے شکر گزار ہیں جن کی رہنمائی ہر مرحلے پر ان کے لیے مددگار رہی۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی اس پیش رفت پر مبارکباد دی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان ایک سفارتی سمجھوتہ نہیں بلکہ امن، مکالمے اور دانشمندی کی جیت ہے جبکہ جنگ اور تباہی کے راستے پر سفارتکاری کو فتح حاصل ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، ایرانی صدر اور امن عمل میں شریک تمام ٹیموں کو بھی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ فریقین نے نہایت کٹھن اور نازک حالات میں صبر، تدبر اور دانش کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا۔
وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں قطر کے امیر کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ انہوں نے انتہائی مثبت اور مؤثر انداز میں معاونت فراہم کی۔ اسی طرح انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر کی دور اندیش قیادت اور بھرپور تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے منظرنامے میں پاکستان کو میزبانی ملنا محض ایک رسمی اعزاز نہیں بلکہ ایک اہم سفارتی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کا کردار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیاسی اور عسکری کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کے نظام پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی شمولیت اسے ایک فعال سفارتی کردار کے طور پر پیش کرتی ہے، جو خطے میں امن کے لیے ثالثی اور رابطہ کاری کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اس پہلو کو بھی اجاگر کرتی ہے جس میں وہ ہمیشہ سے مذاکرات، مکالمے اور سفارتی حل کی حمایت کرتا آیا ہے۔ اگرچہ معاہدے کی تفصیلات اور اس کے عملی اثرات وقت کے ساتھ واضح ہوں گے، تاہم پاکستان کی میزبانی اسے ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے لاتی ہے جو عالمی سطح پر امن عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب یہ بھی اہم ہے کہ ایسے بڑے بین الاقوامی معاہدے صرف دستخطوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان پر عملدرآمد ہی اصل کامیابی کا معیار ہوتا ہے۔ امریکا اور ایران جیسے دیرینہ مخالف فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا، جس میں علاقائی طاقتوں اور عالمی اداروں کا کردار بھی اہم رہے گا۔
مجموعی طور پر اگر یہ معاہدہ عملی طور پر آگے بڑھتا ہے تو اسے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز سمجھا جائے گا بلکہ یہ عالمی سفارت کاری میں بھی ایک مثبت مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جہاں کشیدگی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی گئی۔





















