انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ 2025 کے لیے تاریخ ساز انعامی رقم کا اعلان کر کے خواتین کے کرکٹ کو عالمی سطح پر ایک نئے مقام پر پہنچا دیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ، جو بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں 30 ستمبر سے 2 نومبر تک منعقد ہوگا، نہ صرف کھیل کے معیار بلکہ مالی انعامات کے حوالے سے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ آئی سی سی نے اس ایونٹ کے لیے مجموعی طور پر 13.88 ملین ڈالر (تقریباً 3.92 ارب پاکستانی روپے) کی انعامی رقم مختص کی ہے، جو 2022 کے نیوزی لینڈ میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ کے 3.5 ملین ڈالر کے مقابلے میں 297 فیصد زیادہ ہے۔ یہ رپورٹ اس تاریخی اعلان کی تفصیلات، اس کے اثرات، اور خواتین کے کرکٹ کے مستقبل پر اس کے مضمرات پر روشنی ڈالتی ہے۔
انعامی رقم کی تفصیلات
آئی سی سی کے مطابق، ویمنز ورلڈ کپ 2025 کی فاتح ٹیم کو 4.48 ملین ڈالر (تقریباً 1.26 ارب پاکستانی روپے) کی خطیر رقم دی جائے گی، جو 2022 میں آسٹریلیا کو ملنے والی 1.32 ملین ڈالر کی انعامی رقم سے 239 فیصد زیادہ ہے۔ یہ رقم نہ صرف خواتین کے کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے بلکہ 2023 کے مردوں کے ون ڈے ورلڈ کپ کے فاتحین کو ملنے والی 4 ملین ڈالر کی انعامی رقم سے بھی زیادہ ہے۔
رنر اپ ٹیم کو 2.24 ملین ڈالر (تقریباً 63 کروڑ پاکستانی روپے) ملیں گے، جو 2022 میں انگلینڈ کو ملنے والی 600,000 ڈالر کی رقم سے 273 فیصد زیادہ ہے۔ سیمی فائنل میں ہارنے والی دونوں ٹیموں کو فی کس 1.12 ملین ڈالر (تقریباً 31 کروڑ پاکستانی روپے) دیے جائیں گے، جبکہ گروپ مرحلے میں حصہ لینے والی ہر ٹیم کو کم از کم 250,000 ڈالر (تقریباً 7 کروڑ پاکستانی روپے) کی ضمانت دی گئی ہے۔ گروپ مرحلے میں ہر فتح کے لیے ٹیموں کو اضافی 34,314 ڈالر (تقریباً 30 لاکھ پاکستانی روپے) ملیں گے۔
پانچویں اور چھٹی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیموں کو فی کس 700,000 ڈالر (تقریباً 19.6 کروڑ پاکستانی روپے)، جبکہ ساتویں اور آٹھویں پوزیشن والی ٹیموں کو 280,000 ڈالر (تقریباً 7.8 کروڑ پاکستانی روپے) دیے جائیں گے۔ یہ مالی مراعات نہ صرف فاتحین بلکہ ہر ٹیم کی حوصلہ افزائی کریں گی کہ وہ ٹورنامنٹ میں اپنی بہترین کارکردگی دکھائیں۔
ٹورنامنٹ کا مقام اور شیڈول
آٹھ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ بھارت اور سری لنکا کے پانچ مقامات—گوہاٹی، اندور، نوی ممبئی، وشاکھاپٹنم، اور کولمبو—میں کھیلا جائے گا۔ افتتاحی میچ 30 ستمبر کو گوہاٹی کے برساپارا کرکٹ اسٹیڈیم میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان ہوگا۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 2 نومبر کو منعقد ہوگا، اور اگر پاکستان کی ٹیم فائنل تک پہنچتی ہے تو میچ کا مقام غیر جانبدار رکھا جائے گا، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان آئی سی سی ایونٹس کے معاہدے کے مطابق ہوگا۔
پاکستان کی ٹیم، جس کی قیادت فاطمہ ثنا کر رہی ہیں، اپنا پہلا میچ 2 اکتوبر کو کولمبو میں بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گی۔ پاکستانی شائقین کو امید ہے کہ ان کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں تاریخ رقم کرے گی۔
آئی سی سی کا عزم
آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ نے اس اعلان کو خواتین کے کرکٹ کے سفر میں ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ چار گنا اضافہ خواتین کے کرکٹ کے لیے ایک سنگ میل ہے اور اس سے ہمارا عزم ظاہر ہوتا ہے کہ ہم خواتین کے کرکٹ کو طویل مدتی ترقی دیں گے۔ ہمارا پیغام واضح ہے: خواتین کرکٹرز کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اگر وہ اس کھیل کو پیشہ ورانہ طور پر اپنائیں گی تو ان کے ساتھ مرد کرکٹرز کے برابر سلوک کیا جائے گا۔‘‘
یہ اقدام آئی سی سی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا آغاز 2024 کے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے تنخواہوں میں مساوات کے اعلان کے ساتھ ہوا تھا۔ اس انعامی رقم کا اعلان نہ صرف مالی مراعات کو بڑھاتا ہے بلکہ خواتین کے کرکٹ کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دینے کی کوشش کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ جے شاہ نے مزید کہا کہ یہ اضافہ نئی نسل کی کھلاڑیوں اور شائقین کو متاثر کرے گا اور خواتین کے کرکٹ کی ترقی کو تیز کرے گا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس اعلان کے بعد شائقین اور مبصرین نے آئی سی سی کے اس اقدام کی بھرپور پذیرائی کی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’آئی سی سی اور جے شاہ کا یہ فیصلہ خواتین کے کرکٹ کے لیے گیم چینجر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم سب خواتین کے کھیل کو ویسے ہی سپورٹ کریں جیسے مردوں کے کرکٹ کو کرتے ہیں۔‘‘ ایک اور پوسٹ میں کہا گیا، ’’4.48 ملین ڈالر فاتح ٹیم کے لیے! یہ خواتین کرکٹ کی عزت اور مقام کو دکھاتا ہے۔‘‘ یہ تبصرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ شائقین اس اقدام کو کرکٹ کی مساوات کی جانب ایک اہم قدم سمجھ رہے ہیں۔
ویمنز ورلڈ کپ 2025 کے لیے انعامی رقم کا یہ تاریخی اضافہ نہ صرف خواتین کے کرکٹ کی مالی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ اسے مردوں کے کرکٹ کے برابر لانے کی ایک مضبوط کوشش ہے۔ 13.88 ملین ڈالر کا مجموعی انعامی پول، جو 2023 کے مردوں کے ورلڈ کپ کے 10 ملین ڈالر سے بھی زیادہ ہے، ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ آئی سی سی خواتین کے کھیل کو عالمی سطح پر ترجیح دے رہی ہے۔
یہ اقدام خواتین کرکٹرز کے لیے پیشہ ورانہ مواقع کو بڑھانے اور ان کے اعتماد کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں خواتین کے کرکٹ کو ابھی مزید ترقی کی ضرورت ہے، اس طرح کی مالی ترغیبات نئی نسل کی لڑکیوں کو کرکٹ کی طرف راغب کر سکتی ہیں۔ تاہم، اس اضافے کے ساتھ ساتھ، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تربیتی سہولیات، اور میڈیا کوریج میں اضافہ بھی ضروری ہے تاکہ خواتین کا کرکٹ واقعی عالمی سطح پر ایک پاور ہاؤس بن سکے۔
پاکستان کی ٹیم کے لیے یہ ٹورنامنٹ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائے۔ فاطمہ ثنا کی قیادت میں پاکستانی ٹیم، جو حالیہ برسوں میں اپنی کارکردگی میں بہتری لا رہی ہے، اس ٹورنامنٹ سے فائدہ اٹھا کر تاریخ رقم کر سکتی ہے۔
آخر میں، آئی سی سی کا یہ فیصلہ خواتین کے کرکٹ کی ترقی کے لیے ایک عظیم الشان قدم ہے۔ یہ نہ صرف کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا بلکہ شائقین، میڈیا، اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی خواتین کے کھیل کو سپورٹ کرنے کی ترغیب دے گا۔ ویمنز ورلڈ کپ 2025 نہ صرف کرکٹ کا ایک شاندار میلہ ہوگا بلکہ صنفی مساوات اور کھیل کی ترقی کی ایک روشن مثال بھی بنے گا۔





















