پاکستان کے صوبہ پنجاب کے قلب میں واقع ملتان ڈویژن ایک خوفناک سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جو بھارت کی جانب سے دریائے چناب میں اضافی پانی چھوڑنے کے نتیجے میں مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس تباہ کن سیلاب نے نہ صرف درجنوں دیہات کو زیرِ آب کر دیا بلکہ دریائے راوی کے ہیڈ سندھنائی پر مائی صفورہ بند کو بھی دباؤ کے باعث دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا تاکہ شہری علاقوں کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔ وزارت آبی وسائل نے ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اخنور کے مقام پر پانی کے اخراج سے ہیڈ مرالہ پر شدید دباؤ پڑ سکتا ہے، جس سے گجرات، وزیرآباد، اور ملتان کے ملحقہ علاقوں میں مزید تباہی کا خطرہ ہے۔
بھارت کا پانی کا اخراج اور چناب کا سیلابی ریلا
بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستان کو باضابطہ طور پر مطلع کیا کہ دریائے چناب میں اخنور کے مقام سے اضافی پانی چھوڑا گیا ہے۔ وزارت آبی وسائل کے مطابق، اس اخراج سے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ خطرناک سطح تک بڑھ سکتا ہے، جس سے گجرات اور وزیرآباد کے قریبی دیہات زیرِ آب آنے کا خدشہ ہے۔ دریائے چناب، جو پہلے ہی مسلسل بارشوں اور بھارت سے آنے والے پانی کی وجہ سے بپھرا ہوا ہے، اب ملتان ڈویژن میں ایک تباہ کن ریلے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
ملتان کے قریبی علاقوں میں سیلابی پانی نے درجنوں بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح میں 3 سے 4 فٹ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے قریبی گھروں کو شدید نقصان پہنچایا۔ کئی خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ نے ہیڈ محمد والا روڈ کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے اور پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کے لیے سڑک میں دانستہ شگاف ڈالنے کے لیے دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا ہے۔ یہ اقدام ملتان شہر کو بڑے پیمانے پر نقصان سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، لیکن اس کے نتیجے میں قریبی زرعی اراضی اور دیہات کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
مائی صفورہ بند کی تباہی
دریائے راوی کے ہیڈ سندھنائی پر پانی کے غیر معمولی دباؤ نے ضلعی انتظامیہ کو حفاظتی اقدام کے طور پر مائی صفورہ بند کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے پر مجبور کر دیا۔ یہ فیصلہ شہری علاقوں کو تباہی سے بچانے کے لیے کیا گیا، کیونکہ بند پر دباؤ ناقابل برداشت ہو چکا تھا۔ اس عمل کو مکمل طور پر ٹریفک بند کر کے انجام دیا گیا تاکہ کسی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ تاہم، بند کے ٹوٹنے سے پانی قریبی آبادیوں اور زرعی اراضی کی طرف بڑھ گیا، جس سے ہزاروں ایکڑ زمین کے زیرِ آب آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس فیصلے نے اگرچہ شہری ڈھانچے کو تحفظ فراہم کیا، لیکن دیہی علاقوں میں تباہی کی نئی لہر کو جنم دیا۔ مقامی کسانوں کی فصلیں، جو پہلے ہی مسلسل بارشوں سے متاثر تھیں، اب مکمل طور پر پانی میں ڈوب چکی ہیں۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے، اور ریسکیو ٹیمیں دن رات امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
ملتان ڈویژن میں تباہی کی صورتحال
دریائے چناب کا سیلابی ریلا ملتان ڈویژن کے دیہی علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں زمینیں، مکانات، اور فصلیں پانی کی نذر ہو رہی ہیں۔ شجاع آباد اور کبیروالہ کے علاقوں میں 49 سے زائد دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں، جبکہ مظفر گڑھ میں 40 سے زیادہ دیہات سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ بندبوسن اور اس کے ملحقہ علاقوں میں تباہی اپنے عروج پر ہے، جہاں سیلابی پانی نے 138 مواضعات کو ڈبو دیا ہے۔
زرعی شعبہ اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ مکئی، تلی، اروی، سبز چارے، اور باغات سمیت اہم فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ کسان، جو اپنی روزی روٹی کے لیے ان فصلوں پر انحصار کرتے ہیں، بدترین معاشی دھچکے سے دوچار ہیں۔ متعدد گھروں کے حفاظتی بند ٹوٹ چکے ہیں، دیواریں گر رہی ہیں، اور مکین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ جھوک عاربی میں ایک سرکاری اسکول بھی سیلابی پانی کی زد میں آ گیا ہے، جس سے عمارت کے گرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
امدادی سرگرمیاں اور انتظامیہ کی کوششیں
پنجاب کی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، اور پاک آرمی کی ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ہزاروں افراد کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، جبکہ جھنگ کے علاقوں اتھارہ ہزاری، کوٹ خیرا، اور احمد پور سیال میں ہنگامی استعمال کے لیے ہیلی پیڈز تعمیر کیے گئے ہیں۔ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کے احکامات پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے قریب خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں، جہاں متاثرین کے لیے خوراک، مفت ادویات، اور خواتین و بچوں کے لیے علیحدہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، اور بہاولپور ڈویژنز میں شہری سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب اور راوی کے بہاؤ میں اضافہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں صورتحال کو مزید سنگین کر سکتا ہے۔ انتظامیہ نے مساجد کے ذریعے اعلانات کر کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
رہنما سکندر حیات بوسن کا دورہ
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے رہنما سکندر حیات بوسن نے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم اس مشکل گھڑی میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ متاثرین کے حوصلے بلند ہیں، اور ان شاءاللہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔” انہوں نے حکومت اور فلاحی اداروں سے فوری امداد کی اپیل کی اور زور دیا کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس سیلابی بحران نے شدید بحث کو جنم دیا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "بھارت کی جانب سے پانی کا اچانک اخراج اور ہمارے ناقص فلڈ مینجمنٹ سسٹم نے پنجاب کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ہمیں فوری طور پر ڈیمز اور مضبوط حفاظتی بند بنانے کی ضرورت ہے۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "ملتان کے کسانوں کی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، اور ان کے پاس کچھ نہیں بچا۔ حکومت کو ان کے نقصانات کا فوری ازالہ کرنا چاہیے۔” یہ تبصرے عوام کے غم و غصے اور فوری امداد کی ضرورت کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ سیلابی بحران پاکستان کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، جو نہ صرف قدرتی آفات بلکہ سرحد پار پانی کے انتظام سے متعلق پیچیدہ مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ بھارت کی جانب سے دریائے چناب اور راوی میں اضافی پانی کا اخراج، جو سندھ طاس معاہدے کی تعطل کے بعد ہوا، پاک-بھارت تعلقات میں کشیدگی کی ایک نئی جہت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ بھارتی ہائی کمیشن نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان کو پانی کے اخراج سے آگاہ کیا، لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ معلومات کی بروقت اور مکمل فراہمی نہ ہونے سے نقصانات کو کم کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔
پنجاب کے زرعی قلب، ملتان ڈویژن، میں سیلاب نے نہ صرف فصلوں اور دیہاتوں کو تباہ کیا بلکہ پاکستان کے غذائی تحفظ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مکئی، تلی، اور دیگر فصلوں کی تباہی سے کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی اور معاشی دباؤ سے دوچار ہیں۔ مائی صفورہ بند کو اڑانے کا فیصلہ اگرچہ شہری علاقوں کو بچانے کے لیے ضروری تھا، لیکن اس نے دیہی علاقوں کے مکینوں کو بدترین حالات سے دوچار کر دیا۔ یہ صورتحال پاکستان کے ناقص فلڈ مینجمنٹ سسٹم اور پرانے حفاظتی ڈھانچوں کی کمزوریوں کو عیاں کرتی ہے۔
سندھ طاس معاہدہ، جو 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی میں طے پایا، دونوں ممالک کے درمیان پانی کے وسائل کی تقسیم کا ایک اہم معاہدہ تھا۔ تاہم، اس معاہدے کی حالیہ تعطل نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پاکستان کے واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) اور این ڈی ایم اے نے بھارت سے پانی کے بہاؤ کے بارے میں بروقت ڈیٹا شیئرنگ کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ایسی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔
اس بحران سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو اپنے فلڈ مینجمنٹ سسٹم کو جدید بنانے، نئے ڈیمز اور ذخائر تعمیر کرنے، اور مضبوط حفاظتی بندوں کی تعمیر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ منگلا اور تربیلا جیسے ڈیمز اپنی گنجائش کے قریب ہیں، اور نئے ذخائر کی عدم موجودگی نے سیلابی پانی کو سنبھالنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔ مزید برآں، مقامی انتظامیہ کی جانب سے بروقت فیصلوں اور امدادی کارروائیوں نے اگرچہ کچھ حد تک نقصانات کو کم کیا، لیکن محدود وسائل اور پانی کے بے پناہ دباؤ نے ریسکیو آپریشنز کو مشکل بنا دیا ہے۔
عالمی برادری، بشمول ریڈ کریسنٹ، یونیسیف، اور ورلڈ فوڈ پروگرام، نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، لیکن امداد کی مقدار اور رفتار کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، موسمیاتی تبدیلیوں نے ہمالین خطے میں بارشوں کی شدت کو بڑھا دیا ہے، جو اس طرح کے سیلابی ریلوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے اور اپنی زرعی معیشت کو تحفظ دینے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔
یہ سیلابی بحران ایک واضح یاد دہانی ہے کہ پانی کے وسائل کا انتظام نہ صرف ایک تکنیکی بلکہ ایک سیاسی اور سفارتی معاملہ بھی ہے۔ پاک-بھارت تعاون کے بغیر اس طرح کے بحرانوں سے نمٹنا ناممکن ہے۔ دونوں ممالک کو سندھ طاس معاہدے کو بحال کرنے اور ڈیٹا شیئرنگ کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔ فی الحال، ملتان کے متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ وہ اپنی زندگیاں دوبارہ شروع کر سکیں۔





















