ورلڈ بینک کی ایک تازہ رپورٹ نے عالمی سطح پر ایک سنگین ماحولیاتی بحران کی نشاندہی کی ہے، جس کے مطابق دنیا کی 90 فیصد آبادی آلودہ ہوا، غیر محفوظ پانی، اور تباہ شدہ زمین کے اثرات سے دوچار ہے۔ رپورٹ، جس کا عنوان ریبوٹ ڈیولپمنٹ: دی اکنامکس آف اے لیویبل پلانیٹ ہے، بتاتی ہے کہ یہ ماحولیاتی چیلنجز نہ صرف انسانی صحت اور معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ ترقی کے امکانات کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں۔ خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جہاں 80 فیصد آبادی صاف ہوا، پانی، اور زرخیز زمین جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
ماحولیاتی بحران کی شدت
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، انسانی سرگرمیوں نے زمین کے ماحولیاتی نظام کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ اب انسان سیارے کی سب سے بڑی تبدیلی کی قوت بن چکا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زمین کے 75 فیصد خشکی والے حصے اور 66 فیصد سمندری علاقے انسانی سرگرمیوں سے بری طرح متاثر ہو چکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نو میں سے چھ اہم ماحولیاتی حدود عبور ہو چکی ہیں، جن میں حیاتیاتی تنوع کا نقصان، زمین کی تباہی، اور آلودگی شامل ہیں۔ ایک چونکا دینے والا انکشاف یہ ہے کہ زمین پر موجود تمام جانوروں کے وزن کا 95 فیصد انسانوں اور ان کے پالتو جانوروں پر مشتمل ہے، جبکہ جنگلی جانور صرف 5 فیصد رہ گئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار ماحولیاتی عدم توازن کی شدت کو واضح کرتے ہیں۔
کم آمدنی والے ممالک میں، جہاں وسائل پہلے ہی محدود ہیں، 10 میں سے 8 افراد آلودہ ہوا، غیر محفوظ پانی، اور غیر زرخیز زمین کے اثرات سے متاثر ہیں۔ اس کے برعکس، زیادہ آمدنی والے ممالک میں 43 فیصد آبادی ان مسائل سے نسبتاً محفوظ ہے، لیکن وہ بھی مکمل طور پر اس بحران سے آزاد نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ماحولیاتی دباؤ نہ صرف صحت اور معیشت کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں، خاص طور پر پیداواریت اور دماغی صلاحیتوں کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔
نائٹروجن کا تضاد اور معاشی نقصانات
رپورٹ میں "نائٹروجن کے تضاد” کی ایک اہم مثال پیش کی گئی ہے، جو زرعی پیداوار اور ماحولیاتی نقصان کے درمیان توازن کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ کھادوں کا استعمال فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے ضروری ہے، لیکن ان کا بے تحاشا استعمال مٹی، پانی، اور ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس سے ہر سال عالمی معیشت کو 3.4 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، جو کہ عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 4 فیصد ہے۔ اسی طرح، جنگلات کی کٹائی نے بارش کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے ایمیزون کے نو ممالک میں سالانہ 14 بلین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ نقصانات خشک سالی، قحط، اور زرعی پیداوار میں کمی کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں، جو غذائی تحفظ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔
ہوا اور پانی کی آلودگی بھی ایک خاموش دشمن کے طور پر انسانی صحت اور پیداواریت کو کمزور کر رہی ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق، فضائی آلودگی ہر سال 7 ملین قبل از وقت اموات کا باعث بنتی ہے، جن میں سے 90 فیصد سے زیادہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔ اسی طرح، پانی کی آلودگی سے ہر سال لاکھوں بچے قبل از وقت موت کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ لیڈ (سیسہ) جیسی زہریلی دھاتوں کی نمائش سے 2019 میں 5.5 ملین بالغ افراد کی اموات اور بچوں میں اوسطاً 5.9 آئی کیو پوائنٹس کا نقصان ہوا۔ یہ نقصانات عالمی معیشت کو 6 ٹریلین ڈالر یا عالمی جی ڈی پی کے 6.9 فیصد کے برابر نقصان پہنچاتے ہیں۔
ماحولیاتی بحالی کے مواقع
رپورٹ کا سب سے حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ یہ ماحولیاتی بحران کے حل کو نہ صرف ممکن بتاتی ہے بلکہ اسے معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع سے جوڑتی ہے۔ ورلڈ بینک کے سینئر منیجنگ ڈائریکٹر ایکسل وان ٹراٹسنبرگ نے کہا، "یہ ماحولیاتی چیلنجز کو رکاوٹ کے بجائے ترقی کے مواقع کے طور پر دیکھنے کا وقت ہے۔ اگر ممالک اب درست سرمایہ کاری کریں تو قدرتی نظاموں کی بحالی سے نہ صرف آلودگی کو 50 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے بلکہ روزگار اور معاشی لچک میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔”
مثال کے طور پر، نائٹروجن کھاد کے استعمال کو بہتر بنانے سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے، جس سے 25 گنا زیادہ معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ پانی کی صفائی سے متعلق اقدامات، جیسے کہ پینے کے پانی میں کلورین کا اضافہ، پانی سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی ایک چوتھائی بچوں کی اموات کو روک سکتا ہے۔ اسی طرح، پالیوشن مارکیٹس کے ذریعے فضائی آلودگی کو کم کرنے سے ہر ایک ڈالر کی سرمایہ کاری پر 26 سے 215 ڈالر تک کا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ حل نہ صرف ماحولیاتی بہتری بلکہ صحت عامہ اور معاشی استحکام کے لیے بھی اہم ہیں۔
ورلڈ بینک نے تجویز دی ہے کہ ممالک نقصان دہ سرگرمیوں کے لیے دی جانے والی سبسڈیز کو ختم کریں اور انہیں ماحول دوست منصوبوں، جیسے کہ قابل تجدید توانائی، واٹر مینجمنٹ، اور سرکلر اکانومی کے لیے استعمال کریں۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ قدرتی وسائل کے مؤثر انتظام سے آلودگی کو نصف تک کم کیا جا سکتا ہے اور معاشی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
کم آمدنی والے ممالک پر اثرات
کم آمدنی والے ممالک، جن میں پاکستان جیسے ممالک شامل ہیں، اس ماحولیاتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان ممالک میں 80 فیصد آبادی تینوں بنیادی سہولیات—صاف ہوا، محفوظ پانی، اور زرخیز زمین—سے محروم ہے۔ پاکستان میں حالیہ سیلابوں، جیسے کہ دریائے چناب اور راوی میں بھارت کی جانب سے پانی کے اخراج سے پیدا ہونے والے بحران، اس رپورٹ کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ یہ سیلاب نہ صرف زرعی زمینوں اور دیہاتوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
پاکستان جیسے ممالک میں فضائی آلودگی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں لاہور اور کراچی جیسے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، فضائی آلودگی سے ہونے والے معاشی نقصانات عالمی جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر ہیں، جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی طرح، پانی کی آلودگی اور زرعی زمینوں کی تباہی نے کسانوں کی آمدنی اور غذائی تحفظ کو شدید متاثر کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس رپورٹ نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "ورلڈ بینک کی رپورٹ ایک وارننگ ہے کہ ہم اپنے سیارے کو تباہ کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم سبسڈیز کو فوسل فیول سے ہٹائیں اور ماحول دوست اقدامات کی طرف جائیں۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "پاکستان جیسے ممالک کو اس رپورٹ پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ ہمارے کسان اور دیہات اس بحران کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔” یہ ردعمل عوام میں ماحولیاتی مسائل کی سنگینی اور حل کی فوری ضرورت کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی کو ظاہر کرتے ہیں۔
ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ ایک اہم عالمی تنبیہ ہے کہ ماحولیاتی بحران اب صرف ماحولیاتی ماہرین کا موضوع نہیں رہا بلکہ یہ معاشی، سماجی، اور انسانی ترقی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں، یہ رپورٹ حالیہ سیلابی بحران سے گہرا تعلق رکھتی ہے، جہاں دریائے چناب اور راوی میں بھارت کی جانب سے پانی کا اخراج اور ناقص فلڈ مینجمنٹ نے ملتان ڈویژن کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس رپورٹ کے اس نکتے کی عکاسی کرتی ہے کہ ماحولیاتی نظاموں کی تباہی، جیسے کہ جنگلات کی کٹائی اور واٹر مینجمنٹ کی کمی، سیلابوں اور قحط جیسے مسائل کو مزید سنگین کرتی ہے۔
رپورٹ کا یہ پیغام کہ ماحولیاتی بحالی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے، پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، پاکستان میں واٹر مینجمنٹ کے جدید نظام، جیسے کہ نئے ڈیمز اور واٹر ریزروائرز کی تعمیر، نہ صرف سیلابوں سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے بلکہ زرعی پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے ذریعے معاشی ترقی کو بھی فروغ دے سکتی ہے۔ اسی طرح، فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے پالیوشن مارکیٹس اور صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری سے صحت عامہ کے اخراجات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
تاہم، اس رپورٹ کے حل کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پاکستان کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج وسائل کی کمی اور سیاسی ترجیحات کا فقدان ہے۔ پاکستان میں ماحولیاتی پالیسیوں پر عمل درآمد اکثر سست روی کا شکار رہتا ہے، اور ناقص انفراسٹرکچر، جیسے کہ پرانے حفاظتی بند اور واٹر مینجمنٹ سسٹم، سیلابی بحرانوں کو مزید بدتر بنا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سرحد پار پانی کے مسائل، جیسے کہ بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کی تعطل، ماحولیاتی اور سیاسی تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ ایک واضح روڈ میپ پیش کرتی ہے کہ کس طرح ممالک ماحولیاتی بحالی کے ذریعے معاشی ترقی حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، جن میں نئے ڈیمز کی تعمیر، جنگلات کی بحالی، اور صاف توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، عالمی برادری، بشمول ورلڈ بینک اور دیگر مالیاتی اداروں، کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کم آمدنی والے ممالک کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد مل سکے۔
یہ رپورٹ ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کرتی ہے جہاں ماحولیاتی بحالی اور معاشی ترقی ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ماحولیاتی اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنائے۔ اگرچہ چیلنجز بڑے ہیں، لیکن رپورٹ کا پیغام واضح ہے کہ درست سرمایہ کاری اور پالیسیوں کے ساتھ، ہم نہ صرف اپنے سیارے کو بچا سکتے ہیں بلکہ ایک زیادہ خوشحال اور پائیدار مستقبل بھی بنا سکتے ہیں۔





















