شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں سہ ملکی ٹی20 سیریز کے چوتھے میچ میں افغانستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو 18 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کی فائنل کی دوڑ کو مزید سنسنی خیز بنا دیا۔ افغان ٹیم کے اسپنرز نے پاکستانی بلے بازوں کو جکڑ کر رکھا، جبکہ ان کے ٹاپ آرڈر نے مضبوط بنیاد رکھ کر 169 رنز کا قابلِ دفاع مجموعہ ترتیب دیا۔ پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ، جو اس سے قبل سیریز میں ناقابلِ شکست رہی تھی، افغان اسپنرز کے جادو کے سامنے بے بس دکھائی دی اور 151 رنز پر ہی ڈھیر ہو گئی۔ یہ میچ نہ صرف ایک سنسنی خیز مقابلہ تھا بلکہ اس نے ٹورنامنٹ کے پوائنٹس ٹیبل کو بھی دلچسپ موڑ پر لا کھڑا کیا۔
میچ کا آغاز
افغانستان کے کپتان راشد خان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، جو شارجہ کی روایتی طور پر سست پچ پر ایک حکمت عملی کے طور پر درست ثابت ہوا۔ انہوں نے اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کیں، جہاں موجیب الرحمن اور شرف الدین اشرف کی جگہ نور احمد اور اللہ محمد غضنفر کو شامل کیا گیا۔ دوسری جانب، پاکستان نے بھی اپنی فائنل الیون میں دو تبدیلیاں کیں، فاسٹ باؤلرز شاہین شاہ آفریدی اور حارث رؤف کی واپسی ہوئی، جنہوں نے حسن علی اور سلمان مرزا کی جگہ لی۔
افغانستان کی بیٹنگ کی شروعات صدیق اللہ اتل اور رحمن اللہ گرباز نے کی، لیکن گرباز جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔ اس کے باوجود، صدیق اللہ اتل اور ابراہیم زادران نے شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا۔ دونوں نے نصف سنچریاں اسکور کیں—اتل نے 64 اور زادران نے 65 رنز بنائے—جو افغان اننگز کی بنیاد بنے۔ ان کی شراکت نے ٹیم کو 150 سے زائد رنز تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آخر میں عظمت اللہ عمرزئی اور کریم جنت نے دھواں دار شاٹس کھیل کر ٹیم کو 20 اوورز میں 5 وکٹوں پر 169 رنز تک پہنچایا۔
پاکستان کی جانب سے فہیم اشرف نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کیا اور 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جو میچ میں پاکستانی باؤلرز کی سب سے نمایاں کارکردگی تھی۔ صائم ایوب نے ایک وکٹ حاصل کی، لیکن شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، صفیان مقیم، اور محمد نواز کوئی وکٹ نہ لے سکے۔ پاکستانی باؤلرز نے اگرچہ آخری اوورز میں رنز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی، لیکن افغان بلے بازوں نے پاور ہٹنگ سے مجموعہ کو قابلِ دفاع بنایا۔
پاکستان کا رن چیس
170 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کو شروع سے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اوپنرز صائم ایوب اور صاحبزادہ فرحان نے اننگز کا آغاز کیا، لیکن ایوب پہلی ہی گیند پر صفر پر آؤٹ ہو گئے، جو افغان باؤلر فضل حق فاروقی کا شاندار آغاز تھا۔ فرحان نے 18 رنز بنائے، لیکن وہ بھی زیادہ دیر تک وکٹ پر نہ ٹھہر سکے۔ فخر زمان نے 25 اور کپتان سلمان علی آغا نے 20 رنز کی اننگز کھیلی، لیکن دونوں ہی افغان اسپنرز کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔
مڈل آرڈر میں محمد نواز (12)، فہیم اشرف (14)، اور حسن نواز (9) نے کچھ مزاحمت کی کوشش کی، لیکن کوئی بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکا۔ محمد حارث، جو حالیہ میچوں میں فارم کی تلاش میں ہیں، صرف ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔ شاہین شاہ آفریدی بھی کھاتہ کھولے بغیر پویلین لوٹ گئے۔ آخری اوورز میں حارث رؤف نے 16 گیندوں پر 34 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جس میں چار بلند و بالا چھکے شامل تھے، لیکن یہ ہدف تک پہنچنے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ پاکستان کی ٹیم 20 اوورز میں 9 وکٹوں پر 151 رنز ہی بنا سکی۔
افغانستان کی جانب سے اسپنرز نے میچ پر مکمل قبضہ جمایا۔ راشد خان، نور احمد، اور محمد نبی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ فضل حق فاروقی نے بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ عظمت اللہ عمرزئی نے ایک وکٹ لی۔ افغان اسپنرز نے شارجہ کی سست پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور پاکستانی بلے بازوں کو رن بنانے سے روکتے ہوئے مسلسل وکٹیں حاصل کیں۔
سیریز کا پس منظر اور پوائنٹس ٹیبل
یہ میچ سہ ملکی ٹی20 سیریز کا چوتھا مقابلہ تھا، جو پاکستان، افغانستان، اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان نے سیریز کے پہلے میچ میں افغانستان کو 39 رنز سے اور دوسرے میچ میں یو اے ای کو 31 رنز سے شکست دی تھی، جس سے وہ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست تھے۔ تاہم، اس شکست نے افغانستان کو بھی 4 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان کے برابر لا کھڑا کیا، جبکہ ان کا نیٹ رن ریٹ (-0.025) پاکستان (+1.750) سے کم ہے۔ یو اے ای ابھی تک ایک بھی میچ نہیں جیت سکی، اور فائنل کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان مقابلہ سخت ہو گیا ہے۔
سیریز کا فائنل 7 ستمبر کو کھیلا جائے گا، جہاں پوائنٹس ٹیبل کی ٹاپ دو ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔ یہ ٹورنامنٹ ایشیا کپ 2025 کے لیے تیاری کا اہم حصہ ہے، جو 9 ستمبر سے یو اے ای میں شروع ہو رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس میچ کے نتائج نے خاصی ہلچل مچائی۔ ایک صارف نے لکھا، "افغانستان کے اسپنرز نے پاکستان کو جکڑ لیا! راشد خان اور نور احمد کی گیند بازی نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "حارث رؤف کی اننگز شاندار تھی، لیکن پاکستانی مڈل آرڈر کی ناکامی مہنگی پڑی۔ ہمیں ایشیا کپ سے پہلے بیٹنگ کو مضبوط کرنا ہوگا۔” یہ ردعمل پاکستانی شائقین کی مایوسی اور افغان ٹیم کی حکمت عملی کی تعریف کو ظاہر کرتے ہیں۔
افغانستان کی اس فتح نے سہ ملکی سیریز کو ایک دلچسپ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ میچ نہ صرف ایک سنسنی خیز مقابلہ تھا بلکہ اس نے پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کر دیا۔ شارجہ کی سست پچ پر، جہاں اسپنرز ہمیشہ سے غالب رہے ہیں، افغان باؤلرز نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ راشد خان، جو اب مردوں کے ٹی20 انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر ہیں، نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ پاکستان کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہیں۔ نور احمد اور محمد نبی کی شاندار گیند بازی نے پاکستانی بلے بازوں کو رن بنانے کے مواقع سے محروم رکھا۔
پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ، جو اس سیریز میں پہلے دو میچوں میں جارحانہ رہی تھی، اس میچ میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دی۔ صائم ایوب اور محمد حارث کی ناکامی نے ٹیم کی مشکلات کو بڑھایا، جبکہ مڈل آرڈر میں کوئی بھی بلے باز ہدف کے تعاقب کو مستحکم نہ کر سکا۔ حارث رؤف کی آخری لمحات کی دھواں دار اننگز نے شائقین کو کچھ امید دی، لیکن یہ ہدف سے 18 رنز کے فاصلے کو ختم نہ کر سکی۔ پاکستانی ٹیم کی اس ناکامی نے ایشیا کپ سے قبل کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، خاص طور پر بابر اعظم اور محمد رضوان جیسے سینئر کھلاڑیوں کی غیر موجودگی میں۔
دوسری جانب، افغانستان کی اس جیت نے ان کے حوصلے بلند کر دیے ہیں۔ صدیق اللہ اتل اور ابراہیم زادران کی نصف سنچریوں نے ثابت کیا کہ ان کی بیٹنگ لائن اپ اب صرف اسپنرز پر انحصار نہیں کرتی۔ فہیم اشرف کی شاندار باؤلنگ کے باوجود افغان بلے بازوں نے آخر میں پاور ہٹنگ سے اہم رنز بنائے، جو میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔
یہ میچ ایشیا کپ 2025 کے تناظر میں دونوں ٹیموں کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ پاکستان کو اپنی بیٹنگ حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر سست پچوں پر جہاں اسپنرز کا کردار کلیدی ہوتا ہے۔ دوسری جانب، افغانستان نے اپنی طاقت کو مضبوط کیا اور ثابت کیا کہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سیریز کے باقی میچوں میں پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ اس شکست سے سبق سیکھ کر فائنل میں جگہ بنائے، لیکن اس کے لیے انہیں اپنی بیٹنگ اور حکمت عملی کو بہتر کرنا ہوگا۔
یہ مقابلہ ایک بار پھر پاک-افغان کرکٹ مقابلوں کی شدت اور جوش کو اجاگر کرتا ہے۔ فائنل سے قبل دونوں ٹیمیں اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی کوشش کریں گی، اور شائقین کو اگلے میچوں میں مزید سنسنی خیز مقابلوں کی توقع ہے۔





















