انسانی جسم کے وہ 10 اندرونی اعضا جن کے بغیر بھی زندگی ممکن ہے

تلی جسم کے مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہے، جو خون کے سرخ خلیات کو فلٹر کرتی ہے

انسانی جسم ایک پیچیدہ اور شاندار مشین ہے جو متعدد اعضا کے ہم آہنگ کام سے چلتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ اعضا ایسے ہیں جن کے بغیر بھی انسان نہ صرف زندہ رہ سکتا ہے بلکہ ایک معقول زندگی گزار سکتا ہے؟ جدید طب اور سائنسی ترقی نے یہ ممکن بنایا ہے کہ کچھ اعضا کی غیر موجودگی میں دوسرے اعضا ان کے افعال کی جزوی تلافی کر لیں یا میڈیکل سہولیات زندگی کو برقرار رکھیں۔ ایک حالیہ رپورٹ میں ان 10 اعضا کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے بغیر انسان زندہ رہ سکتا ہے، اور یہ معلومات نہ صرف دلچسپ ہیں بلکہ طبی میدان میں ایک اہم پیش رفت کو بھی ظاہر کرتی ہیں۔ 

وہ 10 اعضا جن کے بغیر زندگی ممکن ہے

1. تلی (Spleen)

تلی جسم کے مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہے، جو خون کے سرخ خلیات کو فلٹر کرتی ہے اور انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتی ہے۔ تاہم، اگر کسی حادثے، چوٹ، یا بیماری کی وجہ سے تلی کو ہٹانا پڑے تو جسم کا مدافعتی نظام دیگر اعضا، جیسے جگر اور لمف نوڈز، کے ذریعے اس کے کام کو سنبھال سکتا ہے۔ ایسی صورت میں انفیکشن کا خطرہ کچھ بڑھ جاتا ہے، لیکن ویکسینز اور احتیاطی تدابیر سے انسان صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔

2. اپینڈکس (Appendix)

اپینڈکس ایک چھوٹا سا عضو ہے جو بڑی آنت سے منسلک ہوتا ہے، اور طویل عرصے تک اسے غیر ضروری سمجھا جاتا تھا۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ یہ مدافعتی نظام اور آنتوں کے بیکٹیریا کے توازن میں کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اگر اپینڈکس کو اپینڈیسائٹس یا دیگر وجوہات کی بنا پر ہٹایا جائے تو انسان بالکل نارمل زندگی گزار سکتا ہے، کیونکہ اس کے افعال دیگر نظام جزوی طور پر سنبھال لیتے ہیں۔

3. ایک گردہ (One Kidney)

انسان کے دو گردوں میں سے ایک کے بغیر بھی زندگی ممکن ہے۔ گردے خون کو فلٹر کرتے ہیں اور فضلہ خارج کرتے ہیں، لیکن ایک صحت مند گردہ تنہا یہ ذمہ داری نبھا سکتا ہے۔ گردہ عطیہ کرنے والے افراد یا وہ لوگ جن کا ایک گردہ کسی بیماری کی وجہ سے ہٹایا جاتا ہے، عام طور پر صحت مند زندگی گزارتے ہیں، بشرطیکہ وہ اپنی خوراک اور صحت کا خیال رکھیں۔

4. ایک پھیپھڑا (One Lung)

پھیپھڑے سانس لینے کے لیے ضروری ہیں، لیکن اگر کسی وجہ سے ایک پھیپھڑا ہٹانا پڑے، جیسے کہ کینسر یا شدید انفیکشن کی وجہ سے، تو دوسرا پھیپھڑا تنہا سانس کے عمل کو سنبھال سکتا ہے۔ ایسی صورت میں سانس لینے کی صلاحیت کچھ کم ہو سکتی ہے، اور بھاری جسمانی سرگرمیوں میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، لیکن جدید طبی نگہداشت سے انسان فعال زندگی گزار سکتا ہے۔

5. معدہ (Stomach)

معدہ خوراک کو ہضم کرنے اور اسے آنتوں کے لیے تیار کرنے کا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، اگر کینسر یا دیگر سنگین بیماریوں کی وجہ سے معدہ ہٹانا پڑے، تو سرجن خوراک کو براہ راست چھوٹی آنت سے جوڑ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں مریض کو اپنی خوراک میں تبدیلیاں کرنی پڑتی ہیں، جیسے کہ چھوٹے اور بار بار کھانے، لیکن زندگی جاری رہتی ہے۔

6. بڑی آنت (Large Intestine)

بڑی آنت پانی جذب کرنے اور فضلہ کو جمع کرنے کا کام کرتی ہے۔ اگر اسے کسی بیماری، جیسے کہ کینسر یا Crohn’s disease، کی وجہ سے ہٹانا پڑے تو مریض کو ڈائریا یا پانی کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، دوائیوں اور غذائی احتیاط کے ساتھ انسان زندہ رہ سکتا ہے، اور اس کی زندگی کے معیار کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔

7. مثانہ (Bladder)

مثانہ پیشاب کو جمع کرتا ہے، لیکن اگر اسے کینسر یا دیگر مسائل کی وجہ سے ہٹانا پڑے، تو سرجن پیشاب کے اخراج کے لیے متبادل راستے بناتے ہیں، جیسے کہ یورینری ڈائیورژن یا یوروسٹومی بیگ کا استعمال۔ یہ تبدیلی زندگی کے معیار کو متاثر کر سکتی ہے، لیکن انسان کی بقا پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

8. پتہ (Gallbladder)

پتا جگر سے بننے والے صفرا (bile) کو جمع کرتا ہے، جو چربی ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر پتھری یا دیگر مسائل کی وجہ سے پتے کو ہٹانا پڑے، تو جگر براہ راست صفرا کو آنتوں میں بھیجتا ہے۔ مریض کو چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کے بغیر زندگی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے۔

9. تولیدی اعضا (Reproductive Organs)

مردوں اور عورتوں کے تولیدی اعضا، جیسے کہ خصیے، بیضہ دانی، یا رحم، اگر کسی بیماری یا سرجری کی وجہ سے ہٹائے جائیں تو انسان کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم، اس سے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔ ہارمونل توازن کے لیے بعض اوقات ہارمون تھراپی کی ضرورت پڑ سکتی ہے، لیکن یہ اعضا زندگی کے لیے ضروری نہیں ہیں۔

10. مقعد (Anus)

مقعد جسم سے فضلہ خارج کرنے کا اہم راستہ ہے، لیکن اگر کینسر یا دیگر سنگین حالات کی وجہ سے اسے ہٹانا پڑے، تو سرجن colostomy یا ileostomy کے ذریعے فضلہ نکالنے کا متبادل راستہ بناتے ہیں۔ اس عمل میں ایک بیگ جسم سے منسلک کیا جاتا ہے جو فضلہ جمع کرتا ہے۔ یہ تبدیلی زندگی کو مشکل بنا سکتی ہے، لیکن انسان کی بقا ممکن رہتی ہے۔

جدید طب کی بدولت زندگی ممکن

جدید سرجری، دوائیں، اور میڈیکل ٹیکنالوجی نے ان اعضا کے بغیر زندگی کو ممکن بنایا ہے۔ مثال کے طور پر، ڈائیلاسز مشینیں گردے کے کام کی جگہ لے سکتی ہیں، جبکہ یوروسٹومی یا کولوسٹومی بیگز مثانہ یا مقعد کے بغیر زندگی کو ممکن بناتے ہیں۔ اسی طرح، غذائی تبدیلیاں اور دوائیں معدہ یا بڑی آنت کے بغیر زندگی کو سہارا دیتی ہیں۔ تاہم، ان حالات میں مریضوں کو اپنی زندگی کے انداز میں تبدیلیاں لانی پڑتی ہیں، جیسے کہ مخصوص غذائیں کھانا، باقاعدہ چیک اپ کروانا، اور انفیکشن سے بچاؤ کے لیے احتیاط کرنا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس موضوع نے خاصی توجہ حاصل کی۔ ایک صارف نے لکھا، "یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ہمارا جسم کتنے اعضا کے بغیر بھی کام کر سکتا ہے۔ سائنس نے واقعی زندگی بدل دی ہے!” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "پاکستان میں ایسی میڈیکل سہولیات ہر ایک تک پہنچنی چاہئیں تاکہ لوگ ان حالات میں بھی اچھی زندگی گزار سکیں۔” یہ ردعمل عوام میں سائنسی ترقی کے بارے میں دلچسپی اور صحت کے مسائل سے متعلق آگاہی کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ رپورٹ انسانی جسم کی حیرت انگیز لچک اور جدید طب کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ جان کر حوصلہ ملتا ہے کہ کئی اہم اعضا کے بغیر بھی زندگی ممکن ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اہم سوالات بھی اٹھتے ہیں، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے تناظر میں جہاں صحت کے وسائل محدود ہیں۔ مثال کے طور پر، تلی یا مثانہ کے بغیر زندگی کے لیے باقاعدہ طبی نگہداشت، ویکسینز، اور متبادل علاج کی ضرورت ہوتی ہے، جو پاکستان کے دیہی علاقوں یا کم آمدنی والے طبقات کے لیے مشکل ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں صحت کے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی سرجریوں اور بعد کی نگہداشت تک ہر شہری کی رسائی ممکن ہو۔ مثال کے طور پر، کولوسٹومی بیگز یا ڈائیلاسز جیسے علاج کی دستیابی بڑے شہروں تک محدود ہے، اور ان کی قیمت بھی عام آدمی کے لیے ایک بوجھ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، عوام میں صحت کے بارے میں آگاہی بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگ ان اعضا سے متعلق بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کروا سکیں۔

یہ رپورٹ ایک گہری حقیقت کو بھی سامنے لاتی ہے کہ انسانی جسم کی لچک اور سائنسی ترقی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر زندگی کو ممکن بناتی ہیں۔ تاہم، ان سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے لیے صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، اور عوامی آگاہی ضروری ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کو جدید طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں تاکہ وہ نہ صرف زندہ رہ سکیں بلکہ ایک بھرپور اور صحت مند زندگی بھی گزار سکیں۔ یہ رپورٹ ہر فرد کے لیے ایک پیغام ہے کہ اپنی صحت کا خیال رکھیں اور بروقت طبی مشورے لیں، کیونکہ سائنس نے ناممکن کو ممکن بنا دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین