پنجاب کے شہر گجرات نے حالیہ تاریخ کی بدترین شہری سیلابی صورتحال کا سامنا کیا، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ توڑ 506 ملی میٹر بارش نے شہر کو پانی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ موسلادھار بارشوں اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے گجرات کے اہم علاقوں کو ندی نالوں میں تبدیل کر دیا، جبکہ گھر، دکانیں، بازارات، اور یہاں تک کہ سرکاری عمارتیں بھی پانی کی نذر ہو گئیں۔ شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور ضلعی انتظامیہ کی کوششیں ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
گجرات میں سیلابی تباہی کی صورتحال
گجرات شہر اس وقت شدید شہری سیلاب کی لپیٹ میں ہے، جہاں مسلسل بارشوں نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے۔ شہر کے مرکزی علاقوں، جیسے کہ مدینہ سیداں، کچہری چوک، گوندل چوک، ظہور الٰہی اسٹیڈیم، اور جیل چوک، میں پانی کی سطح 4 فٹ تک بلند ہو چکی ہے۔ سڑکیں، گلیاں، اور چوک ندیوں کا منظر پیش کر رہے ہیں، جبکہ نالہ بھنڈر اور نالہ بھمبر میں آنے والے سیلابی ریلوں نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ایک مکان پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گیا، جبکہ متعدد گھروں میں پانی داخل ہو چکا ہے، جس سے املاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
دکانیں اور بازارات بھی اس تباہی سے محفوظ نہیں رہے۔ دکانداروں کے قیمتی سامان کو پانی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا، اور شہر کی معاشی سرگرمیاں مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ سیشن کورٹ کا احاطہ اور دیگر سرکاری عمارتیں بھی پانی میں ڈوب چکی ہیں، جو شہر کے ناقص نکاسی آب کے نظام کی ناکامی کو عیاں کرتا ہے۔ شہری محفوظ مقامات کی تلاش میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں، جبکہ مساجد سے مسلسل اعلانات کے ذریعے لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے۔
ریکارڈ توڑ بارش اور اس کے اثرات
محکمہ موسمیات پاکستان (پی ایم ڈی) کے مطابق، گجرات اور گوجرانوالہ ڈویژن میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 506 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو حالیہ دہائیوں کا سب سے زیادہ علاقائی بارش کا ریکارڈ ہے۔ یہ شدید بارشیں دریائے چناب، راوی، اور ستلج میں پانی کی سطح بڑھنے اور بھارت کی جانب سے واٹر ریلیز کے نتیجے میں مزید سنگین ہوئیں۔ نالہ بھنڈر اور نالہ بھمبر کے طغیانی حالات نے شہر کے نچلے علاقوں کو مکمل طور پر ڈبو دیا، اور برساتی پانی کو موڑنے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ناقص نکاسی آب کا نظام اس تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔ ایک مقامی رہائشی نے بتایا، "ہر سال بارشوں میں شہر ڈوب جاتا ہے، لیکن اس بار صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ نالوں کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے پانی نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔” شہریوں میں خوف کی فضا ہے، کیونکہ پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے، اور امدادی سرگرمیاں ناکافی دکھائی دیتی ہیں۔
انتظامیہ کی کوششیں اور چیلنجز
ضلعی انتظامیہ اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے، لیکن شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کوششیں ناکافی ہیں۔ پاک فوج، ریسکیو 1122، اور سول ڈیفنس کے اہلکاروں کو متاثرہ علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے، اور بوٹس کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ تاہم، شدید بارشوں اور پانی کی بلند سطح نے امدادی کاموں کو مشکل بنا دیا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق، گجرات سمیت پنجاب کے دیگر اضلاع میں 150,000 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے، اور 1,100 سے زائد ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر کے پہلے ہفتے میں مزید بارشوں کی توقع ہے، جو گجرات، گوجرانوالہ، اور لاہور ڈویژن میں سیلابی صورتحال کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ دریائے چناب، راوی، اور ستلج میں پانی کی سطح اب بھی غیر معمولی طور پر بلند ہے، اور بھارت کی جانب سے تھین ڈیم اور مادھوپور ڈیم سے پانی کے اخراج نے حالات کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
معاشی اور سماجی اثرات
گجرات کی معاشی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہو چکی ہیں۔ دکانیں بند ہیں، بازارات ویران ہیں، اور مقامی کاروبار کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ زرعی شعبہ بھی اس تباہی سے بری طرح متاثر ہوا ہے، کیونکہ کھڑی فصلیں، جیسے کہ چاول، مکئی، اور گنا، پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ ایک کسان نے بتایا، "میری 10 ایکڑ زمین پر چاول کی فصل تیار تھی، لیکن اب سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ ہمارا سال بھر کا روزگار پانی میں بہہ گیا۔”
شہری زندگی کے مفلوج ہونے سے لوگوں کی روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ بجلی کی ترسیل میں خلل پڑا ہے، اور کئی علاقوں میں پینے کا صاف پانی تک نایاب ہو گیا ہے۔ شہریوں نے انتظامیہ سے فوری طور پر خوراک، پانی، اور طبی امداد کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔ مساجد سے اعلانات کے ذریعے لوگوں کو بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جا رہی ہے، لیکن امدادی کیمپوں کی محدود گنجائش نے شہریوں کی مشکلات کو بڑھا دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر گجرات کے سیلابی حالات نے شہریوں اور تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، "گجرات ڈوب رہا ہے، اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ نالوں کی صفائی اور واٹر مینجمنٹ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔” ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، "506 ملی میٹر بارش کوئی معمولی بات نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ریلیف کیمپس اور امدادی سرگرمیوں کو بڑھانا چاہیے۔” یہ ردعمل شہریوں کی مایوسی اور فوری امداد کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
گجرات میں 506 ملی میٹر بارش اور اس کے نتیجے میں آنے والا سیلاب پاکستان کے ناقص واٹر مینجمنٹ اور شہری منصوبہ بندی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ حقیقت کہ نالہ بھنڈر اور نالہ بھمبر جیسے برساتی نالوں کی صفائی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، اس تباہی کی بنیادی وجہ ہے۔ پنجاب کے دیگر شہروں، جیسے کہ سیالکوٹ اور لاہور، میں بھی اسی طرح کی صورتحال دیکھی جا رہی ہے، جہاں 512 ملی میٹر بارش نے شہری سیلاب کو جنم دیا۔
بھارت کی جانب سے واٹر ریلیز نے بھی حالات کو مزید سنگین کیا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر موردِ الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔ پاکستان کو اپنے واٹر مینجمنٹ سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، جیسے کہ ندیوں اور نالوں کی گہرائی بڑھانا، حفاظتی بندوں کی تعمیر، اور شہری نکاسی آب کے نظام کی بہتری۔ گجرات جیسے شہروں میں ناقص ڈرینیج سسٹم ہر سال بارشوں کے موسم میں تباہی کا باعث بنتا ہے، اور اس بار ریکارڈ توڑ بارش نے اس مسئلے کو اور واضح کر دیا۔
حکومتی اداروں، جیسے کہ پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے، کی کوششیں قابل تحسین ہیں، لیکن ان کی محدود صلاحیت نے شہریوں کی مشکلات کو کم نہیں کیا۔ فوری امداد کے ساتھ ساتھ طویل مدتی حل، جیسے کہ ڈرینیج سسٹم کی اپ گریڈیشن اور شہری منصوبہ بندی میں بہتری، ناگزیر ہیں۔ مزید برآں، موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان میں مون سون کی شدت کو بڑھا دیا ہے، اور 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد بھی کوئی ٹھوس حکمت عملی نہیں بنائی گئی۔
زرعی شعبے کو پہنچنے والا نقصان پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ پنجاب ملک کا زرعی مرکز ہے۔ فصلوں کی تباہی اور مویشیوں کے نقصان نے کسانوں کی آمدنی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، اور اس کے اثرات کراچی جیسے شہروں میں سبزیوں اور اناج کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نظر آ رہے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر گجرات کے متاثرین کے لیے خوراک، پانی، اور طبی امداد کے ساتھ ساتھ مالی امداد فراہم کرے۔ اس کے علاوہ، مستقبل میں ایسی تباہی سے بچنے کے لیے واٹر مینجمنٹ اور شہری منصوبہ بندی پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ گجرات کے شہریوں کی یہ آواز کہ "ہماری زندگی پانی میں ڈوب گئی” ایک واضح پیغام ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت نہ صرف فوری امداد فراہم کرے بلکہ طویل مدتی حل پر بھی کام کرے تاکہ ایسی تباہی دوبارہ نہ دہرائی جائے۔





















