بھارت کے دارالحکومت دہلی اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت شمالی علاقوں میں شدید مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ یامونا اور جہلم سمیت کئی دریا خطرناک سطح سے تجاوز کر گئے ہیں، جس کے نتیجے میں نچلے علاقے زیر آب آ گئے، فصلیں تباہ ہوئیں، اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ بھارتی محکمہ موسمیات نے بارشوں میں کچھ کمی کی پیش گوئی کی ہے، لیکن متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل ایک بڑا چیلنج ہے۔
دہلی میں یامونا کا قہر
دہلی میں شدید بارشوں کے بعد یامونا دریا نے خطرے کی سطح کو عبور کر لیا، جسے سینٹرل واٹر کمیشن نے ایک سنگین صورتحال قرار دیا ہے۔ منگل کو دریا کا پانی 205.80 میٹر تک پہنچ گیا، جو خطرے کے نشان 205.33 میٹر سے بلند ہے۔ جمعرات تک نچلے علاقوں میں کیچڑ بھرا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، جس سے رہائشیوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ حکام نے ہزاروں افراد کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال کر عارضی کیمپوں اور مستقل پناہ گاہوں میں منتقل کیا، جہاں 8,000 سے زائد افراد خیموں میں رہ رہے ہیں۔
شہر کے تاریخی لوہا پل، جو پرانے دہلی کو یامونا کے پار جوڑتا ہے، کو حفاظتی اقدامات کے تحت بند کر دیا گیا۔ لال قلعے کے قریبی علاقوں میں لوگ گھٹنوں تک پانی میں ڈوبے ہوئے نظر آئے، جبکہ کچھ شہری ہندو دیوتا گنیش کے بتوں کو مذہبی رسومات کے لیے دریا میں وسرجن کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ شدید بارشوں اور واٹر لوگنگ نے دہلی-این سی آر میں ٹریفک کو بری طرح متاثر کیا، جس سے نیشنل ہائی وے پر کئی گھنٹوں تک جام رہا۔ بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے پیش گوئی کی ہے کہ 10 ستمبر کے بعد بارشوں میں کمی آ سکتی ہے، لیکن فی الحال شہر کے رہائشی سیلاب اور واٹر لوگنگ سے نمٹ رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں جہلم اور چناب کی طغیانی
مقبوضہ جموں و کشمیر میں موسلا دھار بارشوں نے جہلم اور چناب دریا کو خطرناک سطح تک پہنچا دیا۔ سری نگر کے رہائشی علاقوں میں جہلم کے پشتے ٹوٹنے سے متعدد گھر اور سڑکیں زیر آب آ گئیں۔ حکام نے شہریوں کو فوری طور پر اپنے گھر خالی کرنے کی ہدایت جاری کی، اور امدادی ٹیمیں رات دن متاثرین کی مدد میں مصروف ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک بیان میں کہا کہ جہلم کا پانی بڑھ رہا ہے، لیکن صورتحال ابتدائی خدشات سے کم شدید ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتظامیہ چوکس ہے اور حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دریائے چناب پر رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پاور پراجیکٹ کے قریب دراب شالہ میں بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ امدادی کارکن مسلسل تلاش و بچاؤ کی کوششیں کر رہے ہیں، لیکن مشکل حالات نے آپریشن کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آئی ایم ڈی نے پیش گوئی کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر اور اتراکھنڈ میں جمعرات کو بارش کی شدت میں کچھ کمی آئے گی، لیکن ہماچل پردیش اور لداخ کے پہاڑی علاقوں میں ہلکی سے معتدل بارش کا امکان ہے۔
پنجاب میں زرعی تباہی
بھارت کی ’’اناج کی ٹوکری‘‘ کہلانے والا صوبہ پنجاب بھی اس قدرتی آفت سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں، جن میں دھان، مکئی، اور گندم شامل ہیں، سیلاب کی نذر ہو گئیں۔ کپور تھلا ضلع کے کسان سرندر سنگھ نے بتایا کہ ان کی 10 ایکڑ زمین پانی میں ڈوب گئی، جس سے 7 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ اگست کے آغاز سے اب تک پنجاب میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 3 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ حکام نے بھاکرا اور پونگ ڈیموں سے اضافی پانی چھوڑا، جس سے نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔
ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں لینڈ سلائیڈنگ
ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، اور مقبوضہ کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں نے لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ہماچل پردیش میں 20 جون سے اب تک 95 فلیش فلڈز، 45 کلاؤڈ برسٹ، اور 127 بڑی لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 343 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ منالی-لیہ نیشنل ہائی وے کا ایک بڑا حصہ دریائے بیاس کے طغیانی میں بہہ گیا، جس سے علاقائی رابطہ منقطع ہو گیا۔ اتراکھنڈ میں بھی واٹس ایپ کے ذریعے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی کا کردار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سال کی غیر معمولی مون سون بارشیں ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ بنگال کی خلیج سے آنے والے کم دباؤ کے نظام اور مغربی ہواؤں کے ٹکراؤ نے بارشوں کی شدت کو بڑھا دیا۔ غیر منصوبہ بند شہری ترقی، ندیوں کے کناروں پر تجاوزات، اور ناقص نکاسی آب کے نظام نے شہروں جیسے دہلی اور گروگرام میں سیلاب کی صورتحال کو مزید خراب کیا۔ ہماچل اور اتراکھنڈ میں جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم تعمیرات نے لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کو بڑھایا ہے۔
امدادی کوششوں اور حکومتی اقدامات
دہلی میں حکام نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کیے ہیں، جہاں ہزاروں افراد کو خوراک، پانی، اور عارضی رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں فوج کو ریلیف آپریشنز کے لیے طلب کیا گیا ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں واٹس ایپ چینلز کے ذریعے عوام کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ دہلی کے وزیر ایریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول پرویش ورما نے یقین دلایا کہ حکومت صورتحال پر قابو پانے کے لیے پوری طرح تیار ہے، اور بوٹس، لائف جیکٹس، اور واٹر پمپس متاثرہ علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس قدرتی آفت کی خبروں نے عوامی توجہ حاصل کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’دہلی اور کشمیر میں سیلاب کی صورتحال دل خراش ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یامونا اور جہلم کے سیلاب نے ہزاروں گھروں کو تباہ کر دیا۔ حکومتی امداد کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ یہ تبصرے عوام کے خدشات اور فوری امداد کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔
2025 کی مون سون بارشیں بھارت کے شمالی علاقوں کے لیے ایک تباہ کن امتحان ثابت ہوئی ہیں۔ یامونا اور جہلم جیسے بڑے دریاؤں کی طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ، اور فلیش فلڈز نے نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ پنجاب میں زرعی نقصانات نے غذائی تحفظ کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کر دیا ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر اور ہماچل پردیش میں لینڈ سلائیڈنگ نے سیاحت اور مقامی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اس بحران کی بنیادی وجہ ہے، جو غیر معمولی بارشوں اور موسم کے غیر متوقع رویوں کو جنم دے رہی ہے۔ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ پائیدار شہری منصوبہ بندی، بہتر نکاسی آب کے نظام، اور جنگلات کے تحفظ پر توجہ دے تاکہ مستقبل میں ایسی تباہیوں سے بچا جا سکے۔ امدادی کوششوں میں تیزی لانے اور متاثرین کے لیے فوری بحالی کے منصوبوں کی ضرورت ہے۔
پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھارت سے پانی چھوڑے جانے کے اثرات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک کو سرحدی پانی کے انتظام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے۔ یہ بحران نہ صرف فوری امدادی اقدامات بلکہ طویل مدتی ماحولیاتی پالیسیوں پر نظرثانی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ خطے کے عوام کو مستقبل میں ایسی آفات سے محفوظ رکھا جا سکے۔





















