سان فرانسسکو:امریکا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون لوسی گیو کو دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی خاتون ہیں۔ امریکی جریدے فوربز نے لوسی گیو کو دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی خاتون قرار دیا۔ 30 سالہ لوسی گیو اس وقت ایک ارب 30 کروڑ ڈالرز کی مالک ہیں۔ وہ اسکیل اے آئی نامی کمپنی کی شریک بانی ہیں۔ آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ڈیٹا لیبلنگ کمپنی کو کچھ عرصے قبل میٹا نے 25 ارب ڈالرز میں خریدا تھا اور 2022 میں لوسی گیو نے ایک اور کمپنی پاسز کی بنیاد رکھی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ایک وینچر کیپیٹل کمپنی بیک اینڈ وینچرز کو بھی چلاتی ہیں۔
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے علاقے Fremont میں بچپن گزارنے والی لوسی گیو کے والدین چین سے امریکا آئے تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ والدین نے مجھے نظم و ضبط، کفایت شعاری اور دولت کی اہمیت سمجھائی۔ تعلیم ادھوری چھوڑ کر دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی بننے والی خاتون کیسے کامیاب ہوئیں؟ لوسی گیو / سوشل میڈیا فوٹو۔ ان کے والدین نے لوسی گیو کی تعلیم پر توجہ مرکوز کی اور ان پر کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنے پر زور دیا۔ اگرچہ کارنیگی میلون یونیورسٹی میں ان کی تدریسی کارکردگی بہترین تھی مگر 2 برس بعد ہی انہوں نے تعلیم کو ادھوری چھوڑ دیا، حالانکہ ڈگری کے حصول میں ایک سال رہ گیا تھا۔
لوسی گیو نے بتایا کہ ‘والدین نے چین سے امریکا آنے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تاکہ بچوں کو بہتر مستقبل دے سکیں، تو جب میں نے تعلیم کو اچانک ادھوری چھوڑ دیا تو یہ ان کے چہرے پر تھپڑ جیسا تھا’۔ مگر لوسی گیو نے ڈگری کو مکمل کرنے کی بجائے Thiel فیلوشپ کو اپنا ہدف بنایا، جو ایسا مسابقتی پروگرام ہے جس میں نوجوانوں کو منفرد کمپنیوں کے قیام کے لیے 2 لاکھ ڈالرز دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ‘میرے خیال میں والدین کی نظر میں تعلیم چھوڑنا ایسا تھا جیسے میں ان سے محبت نہیں کرتی، مگر میرا خیال تھا کہ میں اپنے بہتر مستقبل کا انتخاب کر رہی ہوں۔
تعلیم ادھوری چھوڑ کر دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی بننے والی خاتون کیسے کامیاب ہوئیں؟ ان کے والدین چین سے امریکا آئے تھے / سوشل میڈیا فوٹو۔ ان کی ابتدائی زندگی بہت سخت تھی کیونکہ والدین بہت زیادہ کفایت شعاری سے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے۔ والدین ہمیشہ مالی خودمختاری پر زور دیتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ لڑکپن سے ہی لوسی گیو نے کمانے کے ذرائع تلاش کرنا شروع کر دیے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘میں نے اسکول کے پلے گراؤنڈ میں پیسے کمانے کے طریقے ڈھونڈے اور وہاں پوکیمون کارڈز، کلر پینسل اور متعدد چیزوں کو فروخت کیا۔
جب والدین نے سزا کے طور پر سارے پیسے چھین لیے تو لوسی گیو نے اپنا پے پال اکاؤنٹ کھول لیا اور ڈیبٹ کارڈ حاصل کرلیا۔ بہت جلد وہ آن لائن کام کرنے لگی اور نایاب پالتو جانور اور گیمز کا سامان فروخت کرنے لگیں۔ جلد ہی انہوں نے کوڈنگ میں مہارت حاصل کی اور گیمز کے لیے چیٹنگ (cheating) بوٹس تیار کرنے شروع کر دیے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘پھر میں نے انٹرنیٹ سے پیسے کمانے کے ذرائع تلاش کرنا شروع کیے جیسے گوگل ایڈسنس استعمال کرکے ویب سائٹس تیار کیں، انٹرنیٹ مارکیٹنگ ٹولز بنائے اور پھر آگے بڑھنے کا سفر شروع ہوگیا۔
لوسی گیو کے مطابق ان کی زندگی سے واضح ہوتا ہے کہ روایتی توقعات اور خطرہ مول لینے والی ذہنیت کے درمیان تناؤ کیسے آپ کی زندگی بدل سکتا ہے۔ والدین کی ابتدائی مایوسی کے باوجود تعلیم ادھوری چھوڑ کر دیگر منصوبوں پر کام کرنے سے وہ دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ ارب پتی بننے میں کامیاب ہوئیں۔
پس منظر
لوسی گیو ایک چینی نژاد امریکی کاروباری خاتون ہیں جو 1994 میں پیدا ہوئیں اور کیلیفورنیا میں پروان چڑھیں۔ ان کے والدین چین سے ہجرت کرکے امریکا آئے تھے اور انہوں نے بچوں کی تعلیم اور مالی استحکام پر زور دیا۔ لوسی نے کارنیگی میلون یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کی تعلیم شروع کی مگر Thiel Fellowship حاصل کرنے کے لیے ادھوری چھوڑ دی، جو پیٹر تھیل کا پروگرام ہے جو نوجوانوں کو $100,000 (تقریباً 2 لاکھ ڈالر) دیتا ہے تاکہ وہ تعلیم چھوڑ کر سٹارٹ اپ شروع کریں۔ 2016 میں انہوں نے الیگزینڈر وانگ کے ساتھ Scale AI کی بنیاد رکھی، جو AI ڈیٹا لیبلنگ میں مہارت رکھتی ہے۔ لوسی 2018 میں کمپنی سے الگ ہوئیں مگر ان کی شیئر ہولڈنگ برقرار رہی۔ 2022 میں انہوں نے Passes کی بنیاد رکھی، جو کری ایٹرز کے لیے پلیٹ فارم ہے، اور Backend Capital نامی وینچر فرم چلاتی ہیں۔ 2025 میں Scale AI کی ویلیوایشن ایک ڈیل کے بعد $29 ارب تک پہنچی، جس میں میٹا نے $14.3 ارب کی سرمایہ کاری کرکے 49% شیئر حاصل کیا، جس سے لوسی گیو کی دولت $1.3 ارب ہوگئی اور فوربز نے انہیں دنیا کی کم عمر ترین سیلف میڈ خاتون ارب پتی قرار دیا، ٹیلر سوئفٹ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے۔
تجزیہ
لوسی گیو کی کامیابی ایک کلاسک مثال ہے کہ کس طرح روایتی تعلیمی راستے سے ہٹ کر خطرہ مول لینا اور کاروباری ذہنیت کامیابی کی ضمانت دے سکتی ہے، خاص طور پر ٹیک انڈسٹری میں جہاں AI جیسے شعبے تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ ان کی کہانی میں والدین کی کفایت شعاری اور مالی خودمختاری کی تربیت کلیدی ہے، جس نے انہیں بچپن سے ہی ہسٹل کلچر سکھایا – پلے گراؤنڈ سے لے کر آن لائن بزنس تک۔ تعلیم ادھوری چھوڑنا ایک بڑا رسک تھا، مگر Thiel Fellowship نے انہیں Scale AI شروع کرنے کا موقع دیا، جو AI کی دنیا میں اہم کمپنی بن گئی۔ تاہم، رپورٹ میں ذکر کردہ 25 ارب ڈالر کی مکمل خریداری کی بجائے، حقیقی طور پر میٹا نے 14.3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی جس سے کمپنی کی ویلیوایشن 29 ارب ڈالر ہوگئی، اور لوسی کی دولت میں اضافہ ہوا۔ یہ فرق شاید تخمینی اعدادوشمار کی وجہ سے ہے، مگر یہ ظاہر کرتا ہے کہ AI سیکٹر میں پارٹنرشپس اور انویسٹمنٹس کتنے اہم ہیں۔ ان کی کامیابی سے سبق ملتا ہے کہ نظم و ضبط، ابتدائی کاروباری تجربات اور مواقع کو پہچاننا (جیسے AI بوم) ارب پتی بننے کا راز ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایسے رسک ہر ایک کے لیے نہیں ہوتے اور اکثر ناکامی کا امکان بھی ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر، لوسی گیو کی کہانی نوجوان انٹرپرینیورز کے لیے تحریک ہے، خاص طور پر خواتین اور ایمیگرنٹ بیک گراؤنڈ والوں کے لیے، کہ روایتی راستوں سے ہٹ کر بھی عظیم کامیابی ممکن ہے۔





















