جلالپور پیروالا ملتان میں بند ٹوٹنے سے آبادی متاثر، متعدد بستیاں زیر آب، ایمرجنسی نافذ

ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک ریکارڈ کی گئی

پنجاب کے ضلع ملتان کے علاقے جلالپور پیروالا میں دریائے چناب کے حفاظتی بندوں میں شگاف پڑنے سے شدید سیلابی صورتحال نے تباہی مچا دی ہے۔ پانی کی غیر معمولی آمد نے درجنوں دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ ہزاروں افراد اپنے گھروں کی چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حکام نے علاقے میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور شہریوں کو فوری نقل مکانی کا حکم دیا گیا ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرین کو بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہی ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی پانی کی سطح اور مسلسل بارشوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

دریائے چناب کی طغیانی اور بندوں کا ٹوٹنا

جلالپور پیروالا میں دریائے چناب کے پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے، جس نے مقامی حفاظتی بندوں کو شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا۔ ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد 6 لاکھ 9 ہزار 669 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہیڈ ترموں پر بہاؤ 5 لاکھ 43 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ ان بلند سطحوں کی وجہ سے نوٹرول گاؤں کے قریب شاہ رسول اور بیٹ واہی کے زمیندار بند ٹوٹ گئے، جس سے پانی تیزی سے بہادر پور اور ملحقہ علاقوں میں داخل ہو گیا۔

حکام نے تصدیق کی ہے کہ بندوں میں شگاف پڑنے سے سیلابی پانی نے جلالپور پیروالا کے متعدد دیہات کو ڈبو دیا۔ پانی گھروں، دکانوں اور زرعی اراضی میں داخل ہو گیا، جس سے مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ شہریوں نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھروں کی چھتوں پر پناہ لی، جبکہ کچھ لوگ بلند مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی ہے، لیکن پانی کی مسلسل آمد نے امدادی کاموں کو مشکل بنا دیا ہے۔

جھنگ اور مظفرگڑھ میں سیلاب کی شدت

سیلاب کی تباہی صرف جلالپور پیروالا تک محدود نہیں رہی۔ جھنگ میں دریائے چناب کے دوسرے ریلے نے 300 سے زائد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس سے 2 لاکھ 81 ہزار ایکڑ زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ان کی سال بھر کی محنت پانی کی نذر ہو گئی، جس سے ان کی معاشی حالت دگرگوں ہو چکی ہے۔

اسی طرح، مظفرگڑھ کے علاقے عظمت پور میں بھی حفاظتی بند ٹوٹنے سے متعدد بستیاں زیر آب آ گئیں۔ اس علاقے سے 7 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، لیکن پانی کی مسلسل آمد نے امدادی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ ان کے گھر، مویشی، اور دیگر اثاثے سیلاب میں بہہ گئے، جس سے ان کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے۔

دریائے ستلج کی صورتحال

دریائے ستلج میں بھی اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، جو بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب بستیوں میں داخل ہو چکا ہے۔ پانی نے مقامی آبادیوں کو شدید متاثر کیا، اور کئی گھروں میں کیچڑ بھرا پانی داخل ہو گیا۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ستلج میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس سے صورتحال اور خراب ہو سکتی ہے۔ بہاولپور، بہاولنگر، اور چشتیان جیسے علاقوں میں زرعی اراضی کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، جو خطے کی خوراک کی فراہمی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

امدادی کوششیں اور انتظامیہ کا ردعمل

حکام نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ جلالپور پیروالا میں امدادی کارروائیوں کے لیے 5 تھرمل ٹیکنالوجی ڈرونز اور 50 کشتیاں تعینات کی گئی ہیں، جو متاثرہ افراد کو تلاش اور منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے چناب اور ستلج میں ’’بہت بلند درجے‘‘ کا سیلابی الرٹ جاری کیا ہے، اور فوج سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

ملتان کے کیپیٹل پولیس آفیسر (سی پی او) نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر خالی کریں اور محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ مساجد کے ذریعے اعلانات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن روبینہ خالد نے متاثرہ علاقوں کو آفات زدہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ متاثرین کو زیادہ سے زیادہ امداد فراہم کی جا سکے۔

تاہم، ایک افسوسناک واقعے میں جلالپور پیروالا میں ریسکیو 1122 کی ایک کشتی چناب میں الٹ گئی، جس کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ رات کے وقت اور تیز بہاؤ نے اس حادثے کو جنم دیا، جس سے امدادی کارروائیوں کی مشکلات اجاگر ہوئیں۔ اس کے باوجود، ریسکیو 1122 نے ملتان کے علاقے سے 9 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، جبکہ پنجاب بھر میں 3 لاکھ 50 ہزار افراد اور 3 لاکھ سے زائد مویشیوں کو سیلاب سے بچایا گیا ہے۔

بھارت سے پانی کی رہائی

پی ڈی ایم اے کے مطابق، بھارت کی جانب سے ہریکے اور فیروز پور سے پانی کی تازہ رہائی نے چناب، ستلج، اور راوی دریاؤں میں پانی کی سطح کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ پانی پاکستانی سرحدوں میں داخل ہو رہا ہے، جس سے سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ کی بروقت معلومات فراہم نہ کرنے سے امدادی تیاریوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس سیلابی بحران نے عوام کی توجہ حاصل کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’جلالپور پیروالا اور جھنگ میں سیلاب نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ حکومتی امداد فوری ہونی چاہیے۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’بھارت سے پانی کی رہائی نے ہمارے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ دونوں ممالک کو مل کر اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔‘‘ یہ تبصرے عوام کے غم و غصے اور فوری امداد کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

جلالپور پیروالا اور ملحقہ علاقوں میں سیلاب کی تباہی پاکستان کے لیے ایک سنگین امتحان ہے۔ دریائے چناب اور ستلج کی بلند سطح نے نہ صرف زرعی اراضی اور دیہاتوں کو تباہ کیا بلکہ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ بندوں کا ٹوٹنا اور ناقص تیاریاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مقامی انتظامیہ کو ایسی آفات سے نمٹنے کے لیے زیادہ موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔

بھارت سے پانی کی رہائی نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے، جو سرحدی پانی کے انتظام پر پاک-بھارت تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ دونوں ممالک کو چاہیے کہ وہ پانی کی رہائی کے بارے میں بروقت معلومات کا تبادلہ کریں تاکہ ایسی تباہیوں سے بچا جا سکے۔

امدادی کوششوں میں تیزی قابل تحسین ہے، لیکن ریسکیو آپریشنز کے دوران ہونے والا حادثہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امدادی ٹیموں کو بہتر تربیت اور وسائل کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرہ علاقوں کو فوری طور پر آفات زدہ قرار دے اور کسانوں کے لیے معاوضے کے پیکج کا اعلان کرے، کیونکہ زرعی نقصانات سے خطے کی معیشت کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

مزید برآں، ماحولیاتی تبدیلیوں نے مون سون کی شدت کو بڑھا دیا ہے، جس سے بندوں کی مضبوطی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا ناگزیر ہو گیا ہے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ سیلاب سے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی، جیسے واٹر سینسرز اور مضبوط ڈیموں، میں سرمایہ کاری کرے۔ یہ سیلاب نہ صرف ایک قدرتی آفت ہے بلکہ حکومتی اداروں کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ وہ مستقبل کے لیے بہتر تیاری کریں۔ جلالپور پیروالا کے عوام کی بحالی اور ان کے نقصانات کا ازالہ وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس کے لیے فوری اور شفاف اقدامات ناگزیر ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین