خاتون کے مبینہ جنات کے ذریعے اغوا کیس میں دم کرنے والا پیر بھی تفتیش کا حصہ بنا دیا گیا

فوزیہ بی بی، جو دو بچوں کی ماں تھیں، اچانک غائب ہو گئیں

لاہور کے علاقے کاہنہ میں چھ سال قبل پیش آنے والا ایک انوکھا اور پراسرار واقعہ، جس میں دو بچوں کی ماں فوزیہ بی بی کے مبینہ طور پر جنات کے ہاتھوں اغوا ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم پر پولیس نے اس کیس کی تحقیقات کو نئی شدت کے ساتھ شروع کر دیا ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے فوزیہ کی تلاش کے لیے جدید تکنیکی طریقوں کا سہارا لیتے ہوئے متعدد افراد کو تفتیش میں شامل کیا ہے، جن میں فوزیہ کی ماں، ساس، شوہر، اور ایک مقامی پیر شامل ہیں۔ پولی گرافک ٹیسٹ اور جیو فینسنگ جیسے اقدامات کے باوجود اب تک کوئی ٹھوس سراغ نہیں مل سکا، لیکن پولیس اس معمے کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

کیس کی ابتدا اور پس منظر

2019 میں لاہور کے نواحی علاقے کاہنہ میں فوزیہ بی بی، جو دو بچوں کی ماں تھیں، اچانک غائب ہو گئیں۔ ان کی والدہ حمیدہ بی بی نے تھانہ کاہنہ میں دفعہ 365 (اغوا) کے تحت مقدمہ درج کرایا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ فوزیہ کو ’’جنات‘‘ نے اغوا کر لیا۔ یہ غیر معمولی الزام نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بھی ایک معمہ بن گیا۔ فوزیہ کی 2013 میں وٹہ سٹہ کی شادی ہوئی تھی، اور وہ اپنی ساس کا موبائل فون استعمال کرتی تھیں کیونکہ ان کے پاس اپنا فون یا شناختی کارڈ نہیں تھا۔ اس کیس کی پیچیدگی نے ابتدائی تحقیقات کو تعطل کا شکار کر دیا، لیکن لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حالیہ حکم نے اسے دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

عدالت نے آئی جی پنجاب عثمان انور کو فوزیہ کی جلد بازیابی کا حکم دیتے ہوئے 18 ستمبر تک حتمی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے پولیس سے سوال کیا کہ ابتدائی تفتیش میں اتنی سستی کیوں برتی گئی اور تفتیشی افسر نے واقعے کی ڈائری میں وقت تک درج نہیں کیا۔ اس غیر معمولی دعوے نے نہ صرف قانونی بلکہ سماجی اور ثقافتی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل

لاہور پولیس نے اس کیس کی گتھی سلجھانے کے لیے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا کی سربراہی میں ایک 9 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ اس ٹیم میں ایس ایس پی عاصم کمبوہ، ایس پی ماڈل ٹاؤن محمد ایاز، ڈی ایس پی سیف سٹی، ڈی ایس پی سی سی ڈی حسنین حیدر، ڈی ایس پی عثمان حیدر، ڈی ایس پی دانش رانجھا، اور انسپکٹر زاہد سلیم شامل ہیں۔ یہ ٹیم اسپیشل برانچ، سیف سٹی، اور دیگر اداروں کے تعاون سے متعدد زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔

پولیس نے فوزیہ کی ماں، ساس، سسر، شوہر، اور ایک مقامی پیر عمر پاکستانی کو، جو فوزیہ کو دم کرانے کے لیے قصور لے جایا جاتا تھا، تفتیش میں شامل کیا ہے۔ فوزیہ کی والدہ کا ڈی این اے 2019 سے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی میں موجود ہے، لیکن اب تک کسی مشتبہ شخص یا شواہد سے اس کا میچ نہیں ہو سکا۔

جدید تکنیکی اقدامات

تحقیقات کے دوران پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔ فوزیہ کے ممکنہ مقام کا پتہ لگانے کے لیے 5 ہزار موبائل فون نمبروں کی جیو فینسنگ کی گئی، جن میں سے 100 سے زائد نمبروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ نادرا، سیف سٹی، اور جیل خانہ جات کے ریکارڈز کی چھان بین جاری ہے تاکہ کوئی سراغ مل سکے۔ اس کے علاوہ، لاہور کے ہسپتالوں، قبرستانوں، درگاہوں، اور عوامی مقامات پر فوزیہ کی تصاویر کے ساتھ پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں تاکہ عوام سے معلومات حاصل کی جا سکیں۔

پانچ افراد، جن میں فوزیہ کے قریبی رشتے دار شامل ہیں، کے پولی گرافک ٹیسٹ (لائی ڈیٹیکٹر) بھی کرائے گئے، لیکن ان کے نتائج بے نتیجہ رہے۔ یہ بات اس کیس کی پیچیدگی کو مزید اجاگر کرتی ہے، کیونکہ پولی گرافک ٹیسٹ عام طور پر تفتیش میں اہم شواہد فراہم کرتے ہیں۔ پولیس اب دیگر ممکنہ زاویوں، جیسے کہ خاندانی تنازعات یا دم درود کی سرگرمیوں سے متعلق سراغ کی جانچ کر رہی ہے۔

سماجی اور ثقافتی تناظر

فوزیہ کے کیس نے پاکستانی معاشرے میں توہمات اور روحانی عقائد کے کردار پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، فوزیہ کی والدہ اسے باقاعدگی سے قصور کے ایک پیر کے پاس دم کرانے لے جاتی تھیں، جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کیس میں کوئی انسانی عنصر ملوث ہے یا یہ محض ایک توہم پر مبنی دعویٰ ہے۔ فوزیہ کے سسرال والوں کا موقف کہ اسے جنات نے اغوا کیا، نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ اس نے پولیس کی تحقیقات کو ایک پیچیدہ موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

یہ کیس پاکستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں پھیلے ہوئے روحانی عقائد اور ان کے قانونی نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔ خاص طور پر، وٹہ سٹہ کی شادی اور شناختی کارڈ کے بغیر رہنے والی فوزیہ کی معاشی اور سماجی صورتحال اس کیس کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا کردار

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس کیس کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے پولیس پر زور دیا ہے کہ وہ ہر ممکن کوشش کر کے فوزیہ کو بازیاب کریں۔ عدالت نے پولیس کی ابتدائی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ اس طرح کے غیر معمولی دعوؤں کو سنجیدگی سے لینا اور ہر زاویے سے تفتیش کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 18 ستمبر تک حتمی رپورٹ پیش کرے، جس سے اس کیس میں تیزی آئی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ایکس پر اس کیس نے خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’یہ کیس پاکستان کے معاشرتی نظام اور توہمات کی عکاسی کرتا ہے۔ پولیس کو چاہیے کہ ہر زاویے سے تفتیش کرے، چاہے وہ جنات کا دعویٰ ہو یا کوئی اور حقیقت۔‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’فوزیہ کے کیس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ہمارے معاشرے میں کتنے لوگ روحانی عقائد کی آڑ میں مسائل کو چھپاتے ہیں۔‘‘ یہ تبصرے اس کیس کی سماجی اہمیت اور عوامی دلچسپی کو ظاہر کرتے ہیں۔

فوزیہ بی بی کا کیس پاکستان کے قانونی، سماجی، اور ثقافتی منظر نامے میں ایک منفرد اور پیچیدہ معاملہ ہے۔ جنات کے ہاتھوں اغوا کا دعویٰ، جو کہ ایک غیر معمولی اور غیر منطقی موقف ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کیس میں کوئی گہری حقیقت چھپی ہوئی ہو سکتی ہے۔ پولی گرافک ٹیسٹ کے بے نتیجہ ہونے اور جیو فینسنگ کے باوجود سراغ نہ ملنے سے پولیس کی تحقیقات کو چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ پولیس اس کیس کو حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ کیس پاکستان کے معاشرے میں توہمات اور روحانی عقائد کے گہرے اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں تعلیم اور شعور کی کمی ہے، لوگ اکثر روحانی مسائل کو اپنی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ فوزیہ کی والدہ کا اسے دم کرانے کے لیے قصور لے جانا اور سسرال والوں کا جنات پر الزام تراشی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشرے میں سائنسی سوچ کی کتنی کمی ہے۔

پولیس کو چاہیے کہ وہ اس کیس کو صرف روحانی دعوؤں تک محدود نہ رکھے بلکہ خاندانی تنازعات، مالی مسائل، یا دیگر سماجی عوامل کی بھی گہرائی سے چھان بین کرے۔ فوزیہ کے شناختی کارڈ کے نہ ہونے اور اپنا موبائل فون نہ رکھنے جیسے عوامل اس کی کمزور سماجی حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو اسے کسی ممکنہ نقصان کا آسان ہدف بنا سکتے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کا اس کیس میں براہ راست مداخلت ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ یہ نہ صرف فوزیہ کی بازیابی کو یقینی بنانے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے بلکہ پولیس کے تفتیشی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو بھی فروغ دیتا ہے۔ تاہم، پولیس کو چاہیے کہ وہ اس کیس کو سنسنی خیزی کے بجائے حقیقت پسندی کے ساتھ حل کرے اور عوام کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹس فراہم کرے تاکہ افواہوں اور توہمات کو روکا جا سکے۔

یہ کیس نہ صرف فوزیہ کی بازیابی کا معاملہ ہے بلکہ پاکستان کے معاشرتی ڈھانچے میں موجود خامیوں، جیسے کہ تعلیم کی کمی، خواتین کے حقوق کی پامالی، اور غیر سائنسی عقائد کے اثرات کو بھی عیاں کرتا ہے۔ اگر پولیس اس کیس کو حل کر لیتی ہے تو یہ نہ صرف ایک عورت کی بازیابی ہوگی بلکہ معاشرے میں شعور بیدار کرنے کا ایک موقع بھی ہوگا۔ اس کے لیے پولیس، عدلیہ، اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ فوزیہ جیسے کیسز دوبارہ نہ دہرائے جائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین