انسپکٹر جنرل (آئی جی) نے پولیس اہلکاروں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کا اجرا اور ہدایات
آئی جی پولیس گلگت بلتستان کے دفتر سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نظم و ضبط، یکسانیت اور پولیس فورس کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے تمام گلگت بلتستان پولیس افسران اور اہلکاروں کو ٹک ٹاک استعمال کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ تمام ضلعی پولیس افسران اور یونٹ سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے ماتحت اہلکاروں کو اس حکم سے آگاہ کریں۔ نوٹیفکیشن میں خبردار کیا گیا کہ اس کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف محکمانہ کارروائی ہوگی۔
اسلام آباد پولیس کی سابقہ کارروائی
رواں سال جولائی میں اسلام آباد سیکیورٹی ڈویژن کے دو کانسٹیبلوں کو پولیس کی سوشل میڈیا پالیسی کی مبینہ خلاف ورزی پر معطل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنائیں اور اپ لوڈ کیں، جس کے بعد ان کے خلاف تفتیش شروع کی گئی۔ ذرائع کے مطابق، درجنوں دیگر نچلے درجے کے اہلکاروں کو بھی تنبیہ کی گئی تھی اور انہیں مزید کارروائی سے بچنے کے لیے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹس ختم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
پنجاب پولیس کی سوشل میڈیا پالیسی
مارچ میں پنجاب پولیس نے اپنے اہلکاروں کو ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ریاست کے خلاف توہین آمیز خیالات کا اظہار کرنے سے روک دیا تھا۔ ستمبر 2024 میں اسلام آباد اور پنجاب پولیس نے سوشل میڈیا کے استعمال کے حوالے سے واضح پالیسیاں بنائیں، جن میں پولیس افسران اور اہلکاروں کو کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر رائے یا بیانات دینے سے منع کیا گیا۔
سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی
ان پالیسیوں کے تحت ہر ڈویژن، زون اور یونٹ میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کی ذمہ داری متعلقہ سربراہان پر ڈال دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ستمبر 2024 میں حکومت نے اپنے ملازمین کو ایک بار پھر ہدایت کی کہ وہ سیاسی یا مذہبی خیالات کے اظہار سے گریز کریں اور غیر مجاز طور پر سرکاری معلومات میڈیا یا دیگر افراد کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
خلاصہ
انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان نے پولیس اہلکاروں پر ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ نظم و ضبط اور فورس کا وقار برقرار رہے۔ اس حکم کی خلاف ورزی پر سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ اس سے قبل اسلام آباد اور پنجاب پولیس نے بھی سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تھی اور واضح پالیسیاں بنائی تھیں۔ حکومت نے تمام ملازمین کو سیاسی یا مذہبی بیانات اور غیر مجاز معلومات کے تبادلے سے منع کیا ہے۔ یہ اقدامات پولیس فورس کے پیشہ ورانہ معیار کو بلند رکھنے اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
تفصیلی تجزیہ
گلگت بلتستان پولیس کی جانب سے ٹک ٹاک پر پابندی کا فیصلہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے پیشہ ورانہ اداروں، خاص طور پر پولیس فورس، پر اثرات کے تناظر میں اہم ہے۔ یہ پابندی نظم و ضبط، یکسانیت اور ادارے کے وقار کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے، کیونکہ یونیفارم میں بنائی گئی ٹک ٹاک ویڈیوز سے پولیس کی سنجیدگی اور عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح طور پر خلاف ورزی کی صورت میں محکمانہ کارروائی کی دھمکی سے اس کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔
اسلام آباد اور پنجاب پولیس کی سابقہ کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ یہ مسئلہ صرف گلگت بلتستان تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پولیس فورسز کے لیے ایک چیلنج ہے۔ جولائی میں اسلام آباد کے دو کانسٹیبلوں کی معطلی اور دیگر اہلکاروں کو وارننگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال پولیس کے اندر ایک وسیع تر مسئلہ بن چکا ہے۔ پنجاب پولیس کی مارچ اور ستمبر 2024 کی پالیسیاں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ ادارے سوشل میڈیا کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
حکومتی سطح پر ملازمین کے لیے سیاسی اور مذہبی خیالات کے اظہار پر پابندی اور غیر مجاز معلومات کے تبادلے کی ممانعت سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اداروں کی ساکھ اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ نگرانی کی ذمہ داری سربراہان پر ڈالنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ادارے انفرادی سطح پر ذمہ داری کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔
تاہم، اس پابندی کے کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز پر مکمل پابندی سے اہلکاروں کی ذاتی آزادی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں، اور اس کی عملی طور پر عملداری مشکل ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے وسائل اور تربیت کی ضرورت ہے، جو کہ محدود وسائل والے علاقوں جیسے گلگت بلتستان میں چیلنج ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ فیصلہ پولیس فورس کی پیشہ ورانہ ساکھ کو برقرار رکھنے اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔





















