سوشل میڈیا پر پابندی الٹی پڑ گئی، پرتشدد مظاہروں کے بعد نیپالی وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا

نیپال ایک طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہے

9 ستمبر 2025 کو نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو میں پرتشدد مظاہروں اور سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف عوامی غم و غصہ کے نتیجے میں وزیراعظم کے پی شرما اولی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ہزاروں مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج کیا، جس کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر پابندی، جو 26 بڑے پلیٹ فارمز، بشمول فیس بک، انسٹاگرام، اور یوٹیوب پر عائد کی گئی تھی، کو عوام نے آزادیٔ رائے پر حملہ قرار دیا۔ اگرچہ حکومت نے پابندی ہٹا دی، لیکن عوامی غصہ کم نہ ہوا، اور مظاہرین نے سیاستدانوں کے گھروں اور سرکاری املاک کو نشانہ بنایا۔

بحران کی ابتدا

نیپال کی حکومت نے گزشتہ ہفتے 26 بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کی تھی، جسے حکام نے جعلی خبروں، آن لائن دھوکہ دہی، اور نفرت انگیز مواد کو روکنے کی کوشش قرار دیا۔ اس فیصلے نے نیپال کے نوجوانوں، جو ملک کی آبادی کا تقریباً 43 فیصد ہیں، میں شدید غم و غصہ پیدا کیا۔ سوشل میڈیا نیپال کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جہاں وہ سیاسی بدعنوانی، کرپشن، اور حکومتی ناکامیوں کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ پابندی کو سول سوسائٹی اور حزب اختلاف نے آزادیٔ رائے کو دبانے کی کوشش قرار دیا، جس سے عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔

8 ستمبر کو کٹھمنڈو میں ہزاروں افراد، جن میں زیادہ تر جنرل زیڈ (18 سے 30 سال کے نوجوان) شامل تھے، نے سوشل میڈیا پابندی کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے نعرے لگائے کہ "کرپشن بند کرو، سوشل میڈیا پر پابندی ہٹاؤ۔” جب مظاہرین پارلیمنٹ کی عمارت کی طرف بڑھے تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں، اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ اس دوران پولیس کی فائرنگ سے کم از کم 19 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے، جس نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔

پرتشدد مظاہرے اور سیاسی ردعمل

9 ستمبر کو، کٹھمنڈو میں کرفیو کے باوجود مظاہرے جاری رہے۔ مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں اور سیاستدانوں کی املاک کو نشانہ بنایا۔ نیپالی کانگریس کے رہنما شیر بہادر دیوبا، صدر رام چندر پؤڈیل، وزیرداخلہ رمیش لیکھک، اور کمیونسٹ پارٹی کے رہنما پشپا کمل دہل کے گھروں کو آگ لگائی گئی۔ اس کے علاوہ، وزیر خارجہ ارزو دیوبا رانا کے زیر ملکیت ایک نجی اسکول کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ کچھ مظاہرین نے ٹائر جلائے اور پولیس پر پتھراؤ کیا، جبکہ کئی وزرا کو فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

حکومت نے فوری طور پر سوشل میڈیا پابندی ہٹانے کا اعلان کیا، اور وزیرداخلہ رمیش لیکھک نے پیر کی رات اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ دو دیگر وزرا نے بھی منگل کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا۔ وزیراعظم اولی نے ایک آل پارٹیز میٹنگ بلائی اور کہا کہ "تشدد نیپال کے مفاد میں نہیں ہے، ہمیں مسائل کا حل پرامن مذاکرات سے تلاش کرنا چاہیے۔” تاہم، عوامی غصہ کم نہ ہوا، اور چند گھنٹوں بعد اولی نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ ان کے معاون پرکاش سلول نے روئٹرز کو تصدیق کی کہ "وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیا ہے۔”

نیپال کا سیاسی اور معاشی پس منظر

نیپال ایک طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام اور معاشی چیلنجز سے دوچار ہے۔ 2008 میں بادشاہت کے خاتمے کے بعد سے ملک میں کئی حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں، اور سیاسی عدم استحکام نے معاشی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، نیپال کی فی کس آمدنی صرف 1,447 ڈالر ہے، جبکہ بے روزگاری کی شرح 10 فیصد کے قریب ہے۔ ملک کی 43 فیصد آبادی 15 سے 40 سال کی عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو معاشی مواقع کی کمی اور سیاسی بدعنوانی سے مایوس ہیں۔

سوشل میڈیا پابندی نے اس مایوسی کو ایک چنگاری دی، جس نے بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے اور سیاسی رہنماؤں کی پرتعیش زندگیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔ پابندی کو حکومتی کنٹرول کی کوشش سمجھا گیا، جس نے عوام کے غصے کو بھڑکایا۔

تاریخی سیاق و سباق

نیپال میں احتجاج اور سیاسی تبدیلیاں کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ 2006 میں عوامی تحریک نے بادشاہ گیانندر کو اقتدار سے ہٹایا تھا، اور 2008 میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ اس کے بعد سے، نیپال میں کئی وزرائے اعظم تبدیل ہو چکے ہیں، اور سیاسی عدم استحکام ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ کے پی شرما اولی، جو 2015، 2018، اور 2024 میں تین بار وزیراعظم بنے، کو ہمیشہ سیاسی تنازعات کا سامنا رہا ہے۔ حالیہ بحران نے ان کی قیادت پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے ہیں۔

نیپال کے حالیہ احتجاج 2015 کے زلزلے کے بعد سب سے سنگین ہیں، جس نے ہزاروں جانیں لیں اور ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا۔ موجودہ مظاہروں نے نہ صرف سیاسی عدم استحکام کو بڑھایا بلکہ معاشی بحالی کے امکانات کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کٹھمنڈو کا تریبھووان ایئرپورٹ بند ہونے سے سیاحت، جو نیپال کی معیشت کا اہم ستون ہے، متاثر ہوئی ہے۔

سماجی اور سیاسی مضمرات

یہ بحران نیپال کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ سوشل میڈیا پابندی نے جنرل زیڈ کے غم و غصے کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اور اس کی بحالی کے باوجود احتجاج جاری رہنا حکومتی ناکامیوں کے خلاف گہرے عدم اطمینان کو ظاہر کرتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج کرپشن، بے روزگاری، اور حکومتی بدانتظامی کے خلاف ایک بڑے عوامی ردعمل کا حصہ ہیں۔ نیپال کی مخلوط حکومت اب ٹوٹنے کے دہانے پر ہے، کیونکہ کئی سیاسی جماعتوں نے اتحاد سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔

نیپال کے سیاسی رہنماؤں کو اب ایک نئے لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اولی کے استعفے کے بعد، نیپالی کانگریس کے رہنما شیر بہادر دیوبا یا دیگر سینئر رہنماؤں کے وزیراعظم بننے کا امکان ہے، لیکن عوامی غصہ کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ کرپشن کے خلاف موثر اقدامات، معاشی اصلاحات، اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

نیپال میں سوشل میڈیا پابندی سے شروع ہونے والا یہ بحران ایک گہرے سماجی اور سیاسی عدم اطمینان کی عکاسی کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پابندی نے نوجوانوں کے غصے کو بھڑکایا، لیکن اصل مسئلہ کرپشن، بے روزگاری، اور حکومتی بدانتظامی ہے۔ اولی کا استعفیٰ ایک عارضی حل ہو سکتا ہے، لیکن جب تک بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے، نیپال میں سیاسی استحکام ممکن نہیں۔ پاکستان جیسے پڑوسی ممالک کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر ضروری پابندیاں عوامی ردعمل کو بھڑکا سکتی ہیں۔ نیپال کی حکومت کو چاہیے کہ وہ پرامن مذاکرات کے ذریعے عوام کے اعتماد کو بحال کرے اور کرپشن کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔ یہ بحران ایک موقع بھی ہے کہ نیپال اپنی سیاسی اور معاشی ترجیحات پر نظرثانی کرے اور ایک زیادہ شفاف اور عوام دوست نظام کی طرف بڑھے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین