10 ستمبر 2025 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیل کی جانب سے حماس کے رہنماؤں پر کیے گئے ایک غیر معمولی فضائی حملے نے عالمی سطح پر سفارتی تناؤ کو جنم دیا ہے۔ اس حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک واضح بیان میں اس کارروائی کی ذمہ داری اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر عائد کی، اور کہا کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں تھا۔ ٹرمپ نے قطر کو امریکا کا قریبی اتحادی قرار دیتے ہوئے اس حملے کی مذمت کی اور اسے اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ مقاصد کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ قطری حکام نے اس حملے کو "بزدلانہ” اور بین الاقوامی قوانین کی "صریح خلاف ورزی” قرار دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس اور قطر کے درمیان حملے سے قبل اطلاع دینے کے حوالے سے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
حملے کی تفصیلات
9 ستمبر 2025 کو دوحہ کے لیقطیفیہ علاقے میں اسرائیلی فضائیہ نے ایک "درست حملہ” کیا، جس کا ہدف حماس کے سینئر رہنماؤں، بشمول خلیل الحیا، زاہر جبارین، اور خالد مشال، کو نشانہ بنانا تھا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب حماس کے رہنما مبینہ طور پر امریکی حمایت یافتہ امن مذاکرات کے ایک تجویز پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ قطری وزارت داخلہ کے مطابق، اس حملے میں ایک قطری سیکیورٹی اہلکار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ حماس نے دعویٰ کیا کہ اس کی مذاکراتی ٹیم کے اہم ارکان محفوظ رہے۔ حملے میں خلیل الحیا کے بیٹے حمام الحیا اور ان کے دفتر کے ڈائریکٹر جہاد لباد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
یہ اسرائیل کا قطر پر پہلا براہ راست حملہ تھا، جو کہ ایک اہم غیر نیٹو اتحادی اور امریکی فوجی اڈے العدید کا میزبان ہے، جہاں 10,000 امریکی فوجی تعینات ہیں۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اس حملے کو "رہائشی عمارتوں پر بزدلانہ حملہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قطر کی خودمختاری اور سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قطر کو حملے سے قبل کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، بلکہ امریکی حکام کی کال انہیں دھماکوں کے بعد موصول ہوئی۔
ٹرمپ کا بیان اور امریکی موقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کے چند گھنٹوں بعد اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے اسرائیل کی جانب سے قطر پر حملے کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ "قطر، ایک خودمختار ملک اور امریکا کا قریبی اتحادی، امن کے لیے ہمارے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس طرح کی یکطرفہ بمباری اسرائیل یا امریکا کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتی۔” ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں تھا، بلکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے خود مختار طور پر کیا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ وہ قطر کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل دیں، تاکہ اس اہم اتحادی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کیا جا سکے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج نے حملے سے کچھ دیر پہلے وائٹ ہاؤس کو مطلع کیا تھا، اور ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکاف کو قطری حکام کو "آئندہ حملے” سے خبردار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم، لیویٹ نے بعد میں وضاحت کی کہ یہ کال حملے کے دوران یا اس کے بعد کی گئی۔
نیتن یاہو کا ردعمل اور اسرائیلی موقف
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے حملے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ "حماس کے اعلیٰ دہشت گرد رہنماؤں کے خلاف ایک مکمل طور پر خود مختار اسرائیلی آپریشن تھا۔” انہوں نے اسرائیلی چینل 12 کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ ٹرمپ نے اس حملے کی پیشگی منظوری دی تھی۔ نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ "اسرائیل نے اسے شروع کیا، اسرائیل نے اسے انجام دیا، اور اسرائیل اس کی مکمل ذمہ داری لیتا ہے۔” انہوں نے اس حملے کو یروشلم میں 8 ستمبر کو ہونے والے ایک دہشت گرد حملے اور غزہ میں چار اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے ردعمل میں "مکمل طور پر جائز” قرار دیا۔
نیتن یاہو نے ایک تقریب میں کہا کہ اگر حماس ٹرمپ کی تجویز کردہ جنگ بندی کی شرائط کو قبول کر لیتا ہے تو جنگ فوری طور پر ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل حماس کی مکمل تباہی کے اپنے ہدف پر قائم ہے۔
قطر کا ردعمل اور عالمی تنقید
قطر نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ ماجد الانصاری نے کہا کہ "یہ حملہ قطری شہریوں اور رہائشیوں کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔” انہوں نے وائٹ ہاؤس کے اس دعوے کی تردید کی کہ قطر کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی، اور کہا کہ امریکی حکام سے رابطہ دھماکوں کے بعد ہوا۔ قطر، جو 2012 سے امریکی درخواست پر حماس کے سیاسی دفتر کی میزبانی کر رہا ہے، نے اس حملے کو اپنی ثالثی کی کوششوں پر حملہ قرار دیا۔
سعودی عرب، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس، اور دیگر مشرقی وسطیٰ کے رہنماؤں نے بھی اس حملے کی مذمت کی، اسے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ گوٹیرس نے اسے "فضیحت انگیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتا ہے۔
تاریخی سیاق و سباق
یہ حملہ اسرائیل کی اس پالیسی کا حصہ ہے جس میں اس نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس کے حملوں کے بعد اس کے رہنماؤں کو عالمی سطح پر نشانہ بنانے کا عزم کیا تھا۔ اس سے قبل اسرائیل نے لبنان، ایران، اور یمن میں حماس، حزب اللہ، اور حوثی رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا۔ قطر میں حماس کا سیاسی دفتر 2012 سے قائم ہے، جب شام کی خانہ جنگی کے دوران اس کے رہنما، جیسے کہ خالد مشال، دوحہ منتقل ہوئے تھے۔ قطر نے اس دوران غزہ میں جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا تھا، خاص طور پر نومبر 2023 اور جنوری 2025 میں۔
تاہم، یہ حملہ قطر کی غیر جانبدار حیثیت اور اس کی ثالثی کی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ دوحہ میں امریکی سفیر کی رہائش گاہ حملے کے علاقے کے قریب ہے، اور العدید ایئر بیس کی موجودگی نے اس حملے کو اور بھی حساس بنا دیا ہے۔
سفارتی اور علاقائی مضمرات
اس حملے نے نہ صرف اسرائیل اور قطر کے تعلقات کو کشیدہ کیا بلکہ امریکا کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ قطر کی ثالثی کی کوششوں کو نقصان پہنچنے سے غزہ میں جنگ بندی کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ کی مذمت اور نیتن یاہو کی خود مختار کارروائی نے دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو عیاں کر دیا ہے۔
امریکا کے لیے، یہ حملہ ایک مشکل صورتحال ہے، کیونکہ وہ قطر کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، جبکہ اسرائیل اس کا ایک اہم اتحادی ہے۔ ٹرمپ کا قطر کے ساتھ دفاعی معاہدے کو مضبوط کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اس بحران سے قطر کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوحہ پر اسرائیلی حملہ نہ صرف ایک فوجی کارروائی ہے بلکہ ایک سفارتی بحران بھی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ٹرمپ کا نیتن یاہو پر ذمہ داری عائد کرنا اور قطر کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش ایک مثبت قدم ہے، لیکن وائٹ ہاؤس اور قطر کے درمیان متضاد بیانات نے صورتحال کو مبہم کر دیا ہے۔ نیتن یاہو کا حملے کی مکمل ذمہ داری لینا اور اسے جائز قرار دینا اسرائیل کی جارحانہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جو غزہ میں جنگ بندی کے امکانات کو کمزور کر رہی ہے۔
قطر کے لیے، یہ حملہ اس کی غیر جانبدار حیثیت اور ثالثی کے کردار کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو قطر کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں، کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر قطر کی حمایت کریں اور بین الاقوامی فورمز پر اس کی خودمختاری کی وکالت کریں۔ یہ بحران عالمی برادری کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کا احترام علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے اس حملے سے خود کو الگ کر لیا، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات اسرائیل-امریکا تعلقات اور غزہ مذاکرات پر گہرے ہوں گے۔





















