کسی نے مس ایڈوینچر کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا:دفتر خارجہ

قطر پر اسرائیلی حملہ، عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، پاکستانی قوم برادر ملک قطر کے ساتھ کھڑی ہے

اسلام آباد:پاکستان کے دفتر خارجہ نے قطر پر اسرائیلی حملے کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ پاکستانی قوم برادر ملک قطر کے ساتھ کھڑی ہے اور اس حملے کی مذمت کرتی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے، اور پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اپنا واضح موقف پیش کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں غزہ میں اسرائیلی مظالم کی بھی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان تنازع فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف قطر کا ہنگامی دورہ کیا، جس سے پاکستان کی حمایت اور اظہار یکجہتی کا پیغام واضح ہوتا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور صومالیہ کی درخواست پر ہنگامی اجلاس بلایا گیا، جو اس معاملے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نے قطر پر اسرائیلی حملے سے متعلق پاکستان کا ردعمل واضح طور پر بیان کیا اور کہا کہ پاکستان حملے کی مذمت کرتا ہے اور قطر سے اظہار یکجہتی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، اگر کسی نے مس ایڈوینچر کرنے کی کوشش کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان پاکستان کی دفاعی تیاریوں اور بین الاقوامی امن کی حفاظت کے عزم کو اجاگر کرتا ہے۔

اس کے علاوہ، ترجمان نے قازقستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے پاکستان کے دورے کا بھی ذکر کیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ دورہ پاکستان کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ترجمان نے غیر قانونی افراد سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر ایک ملک اس حوالے سے پالیسی بناتا ہے، اور برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو کسی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان متعدد معاہدے ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

یہ پریس بریفنگ پاکستان کی سفارتی فعال اور ذمہ دارانہ کردار کو نمایاں کرتی ہے، جو نہ صرف مشرق وسطیٰ کے بحران میں برادر ملک قطر کی حمایت کر رہی ہے بلکہ عالمی قوانین کی پاسداری اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر زور دے کر امن کی طرف ایک مثبت قدم اٹھا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا ہنگامی دورہ قطر اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہونے میں کوئی تاخیر نہیں کرتا، جو اس کی سفارتی قوت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

اس طرح کی کوششیں نہ صرف پاکستان کی عالمی شبیہ کو بہتر بناتی ہیں بلکہ علاقائی استحکام کو فروغ دیتی ہیں، کیونکہ پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے پرامن حل کی وکالت کی ہے۔ قازقستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی اور برطانیہ کے ساتھ موجود معاہدوں کا ذکر پاکستان کی اقتصادی اور سیاسی توسیع کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری اور ثقافتی تبادلے کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ بیان پاکستان کی ایک متوازن اور مثبت خارجہ پالیسی کو ظاہر کرتا ہے، جو دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سفارتی حل کی ترجیح دیتا ہے، اور یہ عالمی برادری میں پاکستان کی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین