ایشیا کپ 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 14 ستمبر کو دبئی میں ہونے والے ہائی وولٹیج کرکٹ مقابلے سے قبل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز کراچی کنگز نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم پنجاب کنگز کی ایک متنازع سوشل میڈیا پوسٹ کا شاندار اور معنی خیز جواب دیا ہے۔ پنجاب کنگز نے اپنی پوسٹ میں پاکستان کے لوگو اور نام کو جان بوجھ کر شامل نہ کر کے کرکٹ کے شائقین کی شدید تنقید کا سامنا کیا تھا۔ کراچی کنگز نے اس کا جواب ایک ایسی تخلیقی پوسٹ سے دیا جس نے نہ صرف شائقین کی توجہ حاصل کی بلکہ سیاسی اور تاریخی اشاروں کے ساتھ ایک گہرا پیغام بھی دیا۔
تنازع کی ابتدا
ایشیا کپ 2025 کے گروپ اے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ سے قبل، آئی پی ایل فرنچائز پنجاب کنگز، جو بالی ووڈ اداکارہ پریتی زنٹا کی شریک ملکیت ہے، نے 11 ستمبر کو ایک پروموشنل پوسٹ شیئر کی۔ اس پوسٹ میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو اور شبمن گل کی تصاویر کے ساتھ میچ کا شیڈول دکھایا گیا تھا، لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کا لوگو یا پاکستان کا نام کہیں شامل نہیں تھا۔ اس کے بجائے، مخالف ٹیم کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا گیا تھا، اور کیپشن میں لکھا گیا: ’’دفاعی چیمپئنز کے لیے دوسرا میچ۔ چلو جیتتے ہیں! #AsiaCup2025 #INDv‘‘۔
اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر فوری طور پر ہنگامہ برپا کر دیا۔ کرکٹ شائقین نے اسے کھیل کی روح کے منافی اور غیر پیشہ ورانہ حرکت قرار دیا۔ ایکس پر صارفین نے اسے ’’بچگانہ‘‘ اور ’’کھیل کے وقار کے خلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ شدید دباؤ کے تحت پنجاب کنگز نے اپنی پوسٹ پر کمنٹس سیکشن کو غیر فعال کر دیا، لیکن اس وقت تک یہ پوسٹ وائرل ہو چکی تھی، اور شائقین اسے کرکٹ کی روایتی اقدار کے خلاف ایک سیاسی عمل سمجھ رہے تھے۔
کراچی کنگز کا شاندار جواب
پنجاب کنگز کی اس حرکت کے جواب میں کراچی کنگز نے 12 ستمبر کو ایک طاقتور اور تخلیقی پوسٹ شیئر کی، جس نے نہ صرف شائقین کی واہ واہی حاصل کی بلکہ عالمی میڈیا کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کر لی۔ اس پوسٹ میں پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا کو شطرنج کے تختے پر ایک چال چلتے دکھایا گیا، جبکہ بھارتی کپتان کو ایک سیاہ سائے کی شکل میں پیش کیا گیا، جس سے ان کی شناخت کو چھپایا گیا۔ پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا ’’گرین شرٹس کے لیے دوسرا میچ۔ چلو جیتتے ہیں! #AsiaCup2025‘‘۔
اس پوسٹ کی سب سے دلچسپ خصوصیت ایک گھڑی تھی، جس کی سوئیاں 6:00 بجے کی طرف اشارہ کر رہی تھیں۔ مبصرین نے اسے ’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘ سے جوڑا، جو پاکستان کی جانب سے بھارت کے چھ لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کے ایک مبینہ واقعے سے منسوب ہے۔ یہ پوسٹ نہ صرف پنجاب کنگز کی پوسٹ کا براہ راست جواب تھی بلکہ ایک گہرے سیاسی اور تاریخی تناظر کو بھی اجاگر کرتی تھی۔ پاکستانی شائقین نے اسے ایک زبردست جوابی وار قرار دیا، جبکہ کچھ بھارتی شائقین نے اسے غیر ضروری سیاسی اشتعال انگیزی سمجھا۔
ایشیا کپ 2025 کا تناظر
ایشیا کپ 2025 کا پاک بھارت میچ، جو 14 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا، دونوں ٹیموں کے لیے ایک اہم مقابلہ ہے۔ یہ میچ اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ پھلگام دہشت گرد حملے اور آپریشن سندور کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ کا پہلا مقابلہ ہے۔ دونوں ٹیمیں شاندار فارم میں ہیں۔ بھارت نے اپنے ابتدائی میچ میں متحدہ عرب امارات کو محض 57 رنز پر آل آؤٹ کر کے ہدف کو 4.3 اوورز میں حاصل کر لیا تھا، جبکہ پاکستان نے عمان کے خلاف 160 رنز کا ہدف دیا اور اسے 17ویں اوور میں 67 رنز پر ڈھیر کر کے 93 رنز سے فتح حاصل کی۔
یہ میچ نہ صرف کرکٹ کے میدان میں بلکہ سیاسی اور جذباتی سطح پر بھی ایک بڑا ایونٹ ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان تاریخی دشمنی اس مقابلے کو ہمیشہ سے زیادہ دلچسپ بناتی ہے، لیکن اس بار فرنچائزز کی سوشل میڈیا سرگرمیوں نے اسے مزید گرم کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر اس تنازع نے شائقین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستانی شائقین نے کراچی کنگز کی پوسٹ کو ’’ذہین‘‘ اور ’’قومی فخر‘‘ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کراچی کنگز نے پنجاب کنگز کو آئینہ دکھا دیا۔ یہ ہے اصل کرکٹ جذبہ!‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’6:00 بجے کی گھڑی نے بھارت کو پوری کہانی سنا دی۔‘‘ دوسری طرف، کچھ بھارتی شائقین نے اس پوسٹ کو ’’غیر ضروری سیاسی اشتعال انگیزی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔
پنجاب کنگز کی پوسٹ پر تنقید عالمی سطح پر بھی دیکھی گئی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’پنجاب کنگز کا پاکستان کا نام چھپانا کھیل کی روح کے منافی ہے۔ کرکٹ اتحاد کا کھیل ہے، نہ کہ تقسیم کا۔‘‘ اس تنازع نے پنجاب کنگز کو شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا، اور ان کے کمنٹس سیکشن کو بند کرنے کے فیصلے نے شائقین کی ناراضی کو مزید بڑھاوا دیا۔
کرکٹ اور سیاست کا امتزاج
یہ تنازع پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کے مقابلوں کے سیاسی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی نے کرکٹ کے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔ پھلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت میں کچھ حلقوں کی جانب سے ایشیا کپ کے میچ کو منسوخ کرنے کے مطالبات بھی سامنے آئے تھے، لیکن بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے حکومتی ہدایت پر میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
پنجاب کنگز کی پوسٹ کو کچھ مبصرین نے اسی سیاسی تناؤ کا نتیجہ قرار دیا، جبکہ کراچی کنگز کی پوسٹ کو اس کا ایک ذہین جواب سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم، دونوں فرنچائزز کے اقدامات نے کرکٹ کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔
تجزیہ
کراچی کنگز اور پنجاب کنگز کے درمیان سوشل میڈیا پر چھڑی یہ جنگ ایشیا کپ 2025 کے پاک بھارت میچ کے تناظر میں ایک اہم واقعہ ہے۔ پنجاب کنگز کی پوسٹ، جس میں پاکستان کا لوگو اور نام شامل نہ کرنا ایک دانستہ عمل لگتا ہے، نے نہ صرف شائقین کی ناراضی کو دعوت دی بلکہ کرکٹ کے عالمی وقار کو بھی نقصان پہنچایا۔ کھیل کی روح کا تقاضا ہے کہ تمام ٹیموں کے ساتھ یکساں احترام کیا جائے، اور پنجاب کنگز کا یہ عمل اس اصول کی صریح خلاف ورزی تھا۔ کمنٹس سیکشن کو بند کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فرنچائز خود اپنے فیصلے کے نتائج سے آگاہ تھی۔
دوسری طرف، کراچی کنگز کی پوسٹ ایک تخلیقی اور طنزیہ جواب تھا، جو نہ صرف پنجاب کنگز کے عمل کی نقل کرتا تھا بلکہ ایک گہرے تاریخی اور سیاسی تناظر کو بھی اجاگر کرتا تھا۔ گھڑی کی سوئیوں کا 6:00 بجے کی طرف اشارہ نہ صرف ایک ذہین اشارہ تھا بلکہ پاکستانی شائقین کے قومی جذبے کو بھی جگاتا تھا۔ تاہم، اس پوسٹ نے سیاسی تناؤ کو مزید بڑھانے کا خطرہ بھی پیدا کیا، جو کرکٹ کے غیر جانبدار کردار کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
یہ تنازع اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچز محض کھیل نہیں بلکہ سیاسی اور جذباتی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ دونوں فرنچائزز کو چاہیے کہ وہ اپنی سوشل میڈیا حکمت عملیوں میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ کرکٹ کا تقدس برقرار رہے۔ ایشیا کپ جیسے ایونٹس کھیل کے ذریعے اتحاد اور مقابلے کے جذبے کو فروغ دینے کا موقع ہوتے ہیں، لیکن اس طرح کے متنازع اقدامات اس جذبے کو کمزور کرتے ہیں۔
حکومتوں، کرکٹ بورڈز، اور فرنچائزز کو چاہیے کہ وہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھیں اور شائقین کے جذبات کا احترام کریں۔ کراچی کنگز کی پوسٹ نے جہاں پاکستانی شائقین کے دل جیتے، وہیں اس نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ کرکٹ کو کس طرح غیر جانبدار رکھا جا سکتا ہے۔ 14 ستمبر کا میچ اب نہ صرف کھیل کے میدان میں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک دلچسپ مقابلہ بن چکا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ تنازع کرکٹ کے مستقبل پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے





















