کروشیا کے تجربہ کار فری ڈائیور ویٹومیر نے انسانی صلاحیتوں کی حدود کو چیلنج کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے پانی کے اندر 29 منٹ اور 3 سیکنڈ تک سانس روک کر سٹیٹک ایپنیا (Static Apnea) کیٹیگری میں گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کیا۔ یہ پانی کے اندر بغیر سانس لیے سب سے طویل وقت کا عالمی ریکارڈ ہے، جو نہ صرف ویٹومیر کی غیر معمولی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے بلکہ فری ڈائیونگ کے کھیل کو ایک نئی بلندی پر لے جاتا ہے۔
ریکارڈ کی تفصیلات
ویٹومیر نے یہ غیر معمولی کارنامہ 11 ستمبر 2025 کو کروشیا کے ساحلی شہر زادار میں ایک خصوصی طور پر ترتیب دیے گئے ایونٹ کے دوران انجام دیا۔ سٹیٹک ایپنیا کیٹیگری میں، فری ڈائیور پانی کی سطح کے قریب لیٹ کر یا تیرتے ہوئے اپنی سانس روکتے ہیں، بغیر کسی حرکت کے، تاکہ جسم میں آکسیجن کی کھپت کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ویٹومیر نے اس چیلنج کے لیے پہلے سے خالص آکسیجن لی، جو اس کیٹیگری کے قوانین کے مطابق جائز ہے، کیونکہ یہ خون میں آکسیجن کی مقدار کو بڑھاتا ہے اور جسم کو طویل عرصے تک توانائی فراہم کرتا ہے۔
تقریب کے دوران، ویٹومیر نے اپنی سانس کو 29 منٹ اور 3 سیکنڈ تک روکے رکھا، جو کہ اس سے قبل کے ریکارڈ سے کئی سیکنڈ زیادہ ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز کے نمائندوں نے اس کارنامے کی نگرانی کی اور اسے باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا۔ ایونٹ کے دوران طبی ماہرین اور حفاظتی ٹیمیں بھی موجود تھیں تاکہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ ویٹومیر کی اس کامیابی نے فری ڈائیونگ کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔
ویٹومیر کی تیاری اور تکنیک
ویٹومیر، جو کئی سالوں سے فری ڈائیونگ میں سرگرم ہیں، نے اس ریکارڈ کے لیے برسوں کی محنت اور تربیت کی تھی۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ کارنامہ صرف جسمانی صلاحیت کا نتیجہ نہیں بلکہ ذہنی نظم و ضبط، مراقبے، اور سانس کنٹرول کی تکنیکوں کا مجموعہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنے جسم کو اس طرح تربیت دی کہ وہ کم سے کم آکسیجن پر زیادہ سے زیادہ وقت گزار سکے۔ خالص آکسیجن لینے سے خون میں آکسیجن کی سطح بڑھ جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ذہنی سکون اور صبر بھی اتنا ہی ضروری ہے۔‘‘
ویٹومیر نے اپنی تربیت کے دوران یوگا، مراقبہ، اور خصوصی سانس کی مشقیں کیں تاکہ وہ اپنے دل کی دھڑکن کو کم کر سکیں اور جسم کو آرام کی حالت میں رکھ سکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی غذا اور نیند کے نظام کو سختی سے کنٹرول کرتے ہیں تاکہ ان کی جسمانی صلاحیت عروج پر رہے۔ ان کی ٹیم میں شامل ماہرین نے ان کے جسم کی آکسیجن کھپت کی شرح اور میٹابولزم پر گہری تحقیق کی تاکہ اس ریکارڈ کے لیے بہترین حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
فری ڈائیونگ اور خطرات
سٹیٹک ایپنیا فری ڈائیونگ کی ایک انتہائی مشکل کیٹیگری ہے، جس میں ڈائیور کو نہ صرف اپنی سانس روکنی ہوتی ہے بلکہ وہ پانی کے اندر مکمل طور پر ساکن رہتا ہے۔ یہ ایک خطرناک کھیل ہے، کیونکہ طویل عرصے تک سانس روکنے سے ہائپوکسیا (آکسیجن کی کمی) یا حتیٰ کہ بلیک آؤٹ کا خطرہ ہوتا ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے کارنامے بغیر مناسب تربیت، طبی نگرانی، اور حفاظتی اقدامات کے جان لیوا ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر، خالص آکسیجن کا استعمال، جو سٹیٹک ایپنیا میں جائز ہے، مخصوص حالات میں نقصان دہ ہو سکتا ہے اگر اسے درست طریقے سے کنٹرول نہ کیا جائے۔
ویٹومیر نے خود اس بات پر زور دیا کہ یہ ریکارڈ کسی عام شخص کے لیے نقل کرنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ایک پیشہ ورانہ کھیل ہے جو برسوں کی تربیت، مناسب رہنمائی، اور حفاظتی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے۔ میں اپنے شائقین سے گزارش کروں گا کہ وہ اسے گھر پر آزمانے سے گریز کریں۔‘‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
ایکس پر ویٹومیر کے اس کارنامے نے دنیا بھر سے تعریفیں سمیٹیں۔ ایک صارف نے لکھا، ’’ویٹومیر نے انسانی صلاحیتوں کی نئی تعریف کی ہے۔ 29 منٹ تک سانس روکنا ناقابل یقین ہے!‘‘ ایک اور صارف نے تبصرہ کیا، ’’یہ صرف جسمانی طاقت نہیں، بلکہ ذہنی عزم کی فتح ہے۔ ویٹومیر ایک سچا چیمپئن ہے۔‘‘ پاکستانی شائقین نے بھی ان کی کامیابی کو سراہا، اور ایک صارف نے لکھا، ’’پاکستان میں بھی فری ڈائیونگ کو فروغ دینا چاہیے۔ یہ ایک شاندار کھیل ہے!‘‘
فری ڈائیونگ کی عالمی اہمیت
ویٹومیر کا یہ ریکارڈ فری ڈائیونگ کے کھیل کو عالمی سطح پر مزید مقبول بنانے کا باعث بنے گا۔ فری ڈائیونگ، جو پانی کے اندر سانس روک کر گہرائیوں تک جانے یا طویل وقت تک رہنے کا کھیل ہے، حالیہ برسوں میں تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف جسمانی فٹنس بلکہ ذہنی استحکام اور ماحولیاتی شعور کو بھی فروغ دیتا ہے، کیونکہ فری ڈائیورز اکثر سمندری ماحول کے تحفظ کی وکالت کرتے ہیں۔
ویٹومیر کی کامیابی نے کروشیا کو فری ڈائیونگ کی دنیا میں ایک نمایاں مقام دلا دیا ہے۔ ان کا ریکارڈ دیگر کھلاڑیوں کے لیے ایک نئی چیلنجنگ حد مقرر کرتا ہے، اور یہ فری ڈائیونگ کے شائقین کے لیے ایک تحریک کا باعث بنے گا۔
ویٹومیر کا 29 منٹ اور 3 سیکنڈ تک سانس روک کر عالمی ریکارڈ قائم کرنا ایک ایسی کامیابی ہے جو انسانی جسم اور دماغ کی غیر معمولی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ کارنامہ نہ صرف فری ڈائیونگ کے کھیل کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ برسوں کی محنت، نظم و ضبط، اور سائنسی تیاری کس طرح ناممکن دکھائی دینے والے مقاصد کو ممکن بنا سکتی ہے۔
تاہم، اس ریکارڈ کے ساتھ جڑے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سٹیٹک ایپنیا ایک انتہائی خطرناک کھیل ہے، اور ویٹومیر کی کامیابی کے پیچھے ان کی برسوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ ٹیم کا کردار اہم ہے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز اور ویٹومیر کی جانب سے عوام کو اسے نقل نہ کرنے کی ہدایت ایک ذمہ دارانہ پیغام ہے، کیونکہ بغیر تربیت کے اس طرح کے تجربات جان لیوا ہو سکتے ہیں۔
یہ ریکارڈ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے ایک سبق بھی ہے کہ فری ڈائیونگ جیسے غیر روایتی کھیلوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ساحلی شہروں، جیسے کراچی اور گوادر، میں فری ڈائیونگ کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں، لیکن اسے فروغ دینے کے لیے تربیتی مراکز، حفاظتی معیارات، اور حکومتی تعاون کی ضرورت ہے۔
ویٹومیر کی کامیابی ایک عالمی پیغام ہے کہ انسانی صلاحیتیں لامحدود ہیں، لیکن انہیں محفوظ اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کرنا ضروری ہے۔ ان کا یہ کارنامہ نہ صرف فری ڈائیونگ کی دنیا بلکہ ہر اس شخص کے لیے ایک تحریک ہے جو اپنی حدود کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ یہ ریکارڈ طویل عرصے تک فری ڈائیونگ کے شائقین کے لیے ایک معیار رہے گا، اور یہ امید کی جاتی ہے کہ ویٹومیر اپنی صلاحیتوں سے مستقبل میں بھی دنیا کو حیران کرتے رہیں گے۔





















