اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کے معروف پیر سوہاوہ مونال ریسٹورنٹ سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے ریسٹورنٹ کو گرانے کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی اپیلیں منظور کر لیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں اس معاملے پر جاری حکمِ امتناعی بھی ختم کر دیا اور قرار دیا کہ ملکیت سے متعلق تنازع کا فیصلہ متعلقہ ٹرائل عدالتیں شواہد اور قانون کے مطابق کریں گی، جبکہ ان پر کسی عدالتی آبزرویشن کا اثر نہیں ہونا چاہیے۔
آئینی عدالت نے ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ وہ زیر التوا مقدمات کا جلد از جلد فیصلہ کریں تاکہ اس معاملے کو قانونی طور پر منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ انتظامی نوعیت کے معاملات کا فیصلہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے قانون کے مطابق کریں گے۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریگولیٹری باڈیز تمام فریقین کو مکمل حقِ سماعت فراہم کرنے کے بعد ہی فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ فیصلے میں کئی اہم نکات کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ کسی درخواست یا نظرثانی اپیل دائر کرنے پر عدالت کو جذباتی انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہر معاملے کا فیصلہ صرف قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
دورانِ سماعت مونال ریسٹورنٹ کے وکیل احسن بھون نے عدالت سے کہا کہ بنچ نے کیس کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں، عدالت وہی فیصلہ دے گی جو قانون اور عدالتی کارروائی کے مطابق بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلوں میں غیر متعلقہ باتیں شامل نہیں ہونی چاہئیں اور عدالتی فیصلے صرف مقدمے کے حقائق اور قانونی نکات تک محدود رہنے چاہییں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق آئینی عدالت کا یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملکیت، انتظامی اختیارات اور ریگولیٹری معاملات کو الگ الگ قانونی دائرہ کار میں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے بقول حتمی قانونی حیثیت کا تعین اب ٹرائل کورٹ میں شواہد اور قانون کی روشنی میں ہوگا۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر فیصلے پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے اسے قانونی عمل کی کامیابی قرار دیا، جبکہ دیگر نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کے قدرتی ماحول اور تعمیراتی قوانین پر بھی سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق آئینی عدالت نے اس فیصلے میں بنیادی طور پر قانونی طریقۂ کار اور متعلقہ اداروں کے اختیارات کو واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق ملکیت اور دیگر متنازع معاملات کا حتمی فیصلہ اب ٹرائل کورٹ میں شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
عدالتی فیصلے قانون، شواہد اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر ہونے چاہییں۔ ایسے مقدمات میں تمام فریقوں کو مساوی حقِ سماعت دینا اور متعلقہ اداروں کو اپنے قانونی اختیارات استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا انصاف کے بنیادی تقاضوں میں شامل ہے۔
میری رائے میں اس فیصلے کا اہم پہلو یہ ہے کہ عدالت نے معاملے کو قانونی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھانے پر زور دیا ہے۔ اب اس تنازع کا مستقل حل ٹرائل کورٹ کے حتمی فیصلے اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی قانونی کارروائی پر منحصر ہوگا۔





















