اچھی صحت کے لیے کچا دودھ زیادہ فائدہ مند ہے یا اُبالا ہوا؟

کچا دودھ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے

دودھ، جو صدیوں سے انسانی غذا کا اہم جزو رہا ہے، اپنی غذائیت کی بدولت صحت کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کچا دودھ زیادہ فائدہ مند ہے یا پکا (pasteurized) دودھ؟ یہ بحث نہ صرف پاکستانی گھرانوں بلکہ عالمی سطح پر بھی زیرِ گفتگو ہے۔ کچھ لوگ کچے دودھ کو قدرتی غذائیت کا خزانہ قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر ابلے ہوئے یا pasteurized دودھ کو زیادہ محفوظ مانتے ہیں۔ اس رپورٹ میں کچے اور پکے دودھ کے فوائد، خطرات، اور سائنسی حقائق کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ آپ باخبر فیصلہ کر سکیں۔

کچا دودھ

کچا دودھ، جو جانور سے براہ راست حاصل کیا جاتا ہے اور اسے کسی قسم کی پروسیسنگ یا حرارت سے نہیں گزرا ہوتا، اپنی قدرتی حالت کی وجہ سے کچھ افراد میں مقبول ہے۔ غذائی ماہرین کے مطابق، یہ دودھ وٹامنز، انزائمز، اور پروبایوٹکس (فائدہ مند بیکٹیریا) سے مالا مال ہوتا ہے۔ خاص طور پر وٹامن سی، بی کمپلیکس، اور انزائمز جیسے لیکٹیس اور لیپیس کچے دودھ میں اپنی اصل شکل میں موجود ہوتے ہیں، جو ہاضمے اور جسم کی عمومی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ کچا دودھ ہاضمے کو بہتر بناتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو لیکٹوز عدم برداشت (lactose intolerance) کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کچے دودھ میں موجود قدرتی انزائمز جسم کو لیکٹوز ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ دعویٰ ہر فرد کے لیے درست نہیں ہوتا، کیونکہ لیکٹوز عدم برداشت کی شدت ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے۔

کچے دودھ کے حامی یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کا ذائقہ زیادہ گاڑھا اور قدرتی ہوتا ہے، اور یہ جسم کی قوت مدافعت کو بڑھانے میں بھی مددگار ہو سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں، جہاں لوگ تازہ دودھ براہ راست جانوروں سے حاصل کرتے ہیں، اسے ایک غذائیت سے بھرپور مشروب سمجھا جاتا ہے۔

کچے دودھ کے خطرات

اگرچہ کچا دودھ اپنی غذائیت کے باعث مقبول ہے، لیکن اس کے ساتھ سنگین خطرات بھی منسلک ہیں۔ سائنسی مطالعات کے مطابق، کچے دودھ میں خطرناک بیکٹیریا جیسے ای کولی (E. coli)، سالمونیلا (Salmonella)، لسٹیریا (Listeria)، اور بروسیلا (Brucella) موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ جراثیم فوڈ پوائزننگ، شدید اسہال، گردوں کے انفیکشن، اور حتیٰ کہ حاملہ خواتین میں حمل کے ضیاع کا باعث بن سکتے ہیں۔

بچوں، حاملہ خواتین، بوڑھوں، اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے کچا دودھ خاص طور پر خطرناک ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (CDC) نے بارہا خبردار کیا ہے کہ کچے دودھ کے استعمال سے سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر اگر دودھ کے حصول، ذخیرہ کرنے، یا ہینڈلنگ کے دوران حفظان صحت کے معیارات پر عمل نہ کیا جائے۔

پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں دیہی علاقوں میں دودھ کی پروسیسنگ کے مناسب انتظامات کی کمی ہے، کچا دودھ بیماریوں کا باعث بن سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، بروسیلوسس، جو کچے دودھ سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے، جوڑوں کے درد، بخار، اور طویل مدتی صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

محفوظ انتخاب

پکا یا pasteurized دودھ وہ دودھ ہے جو ایک مخصوص درجہ حرارت پر گرم کیا جاتا ہے تاکہ اس میں موجود نقصان دہ جراثیم ختم ہو جائیں۔ یہ عمل، جو عام طور پر 72 ڈگری سینٹی گریڈ پر 15 سیکنڈ کے لیے کیا جاتا ہے، دودھ کو محفوظ بناتا ہے جبکہ اس کی غذائیت کو زیادہ تر برقرار رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، pasteurized دودھ میں کیلشیئم، پروٹین، اور فیٹس کی مقدار پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا، جو اسے ہر عمر کے افراد کے لیے ایک قابل اعتماد انتخاب بناتا ہے۔

عالمی سطح پر، pasteurized دودھ کو سب سے محفوظ مشروب سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس سے بیکٹیریل انفیکشن کا خطرہ تقریباً ختم ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی، بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اور اسلام آباد میں pasteurized دودھ کی مانگ بڑھ رہی ہے، کیونکہ لوگ صحت اور حفظان صحت کے بارے میں زیادہ آگاہ ہو رہے ہیں۔

پکے دودھ کی حدود

اگرچہ pasteurized دودھ محفوظ ہے، لیکن اس کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔ زیادہ درجہ حرارت یا طویل عرصے تک ابالنے سے دودھ میں موجود وٹامن سی اور بی گروپ کے وٹامنز کی کچھ مقدار ضائع ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ pasteurization سے دودھ کا قدرتی ذائقہ کچھ حد تک متاثر ہوتا ہے، اور یہ کچے دودھ کی طرح ’’تازہ‘‘ محسوس نہیں ہوتا۔ تاہم، جدید pasteurization تکنیکوں نے اس نقصان کو کافی حد تک کم کر دیا ہے، اور زیادہ تر لوگ اسے ایک قابل قبول سمجھوتہ سمجھتے ہیں۔

کون سا بہتر ہے؟

ماہرین کا اتفاق ہے کہ صحت اور حفاظت کے نقطہ نظر سے pasteurized یا پکا ہوا دودھ زیادہ بہتر ہے، خاص طور پر بچوں، حاملہ خواتین، اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد کے لیے۔ کچا دودھ صرف اس صورت میں محفوظ ہو سکتا ہے جب اسے صحت مند جانور سے حاصل کیا جائے، اسے فوری طور پر استعمال کیا جائے، اور اس کی ہینڈلنگ کے دوران مکمل حفظان صحت کا خیال رکھا جائے۔ لیکن ایسی مثالی صورتحال ہر جگہ ممکن نہیں ہوتی، خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں دودھ کی سپلائی چین پیچیدہ ہوتی ہے۔

ایک غذائی ماہر ڈاکٹر سارہ احمد کے مطابق، ’’کچا دودھ اپنی غذائیت کی وجہ سے پرکشش لگتا ہے، لیکن اس کے خطرات اس کے فوائد پر بھاری ہیں۔ pasteurized دودھ ایک متوازن اور محفوظ انتخاب ہے جو زیادہ تر لوگوں کے لیے موزوں ہے۔‘‘

سوشل میڈیا پر بحث

ایکس پر کچے اور پکے دودھ کی افادیت کے حوالے سے خاصی بحث دیکھی گئی۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کچا دودھ ہمارے دیہاتوں کی روایت ہے، لیکن شہروں میں اسے محفوظ رکھنا مشکل ہے۔ پکا دودھ زیادہ قابل اعتماد ہے۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’کچا دودھ پینے سے میرا ہاضمہ بہتر ہوا، لیکن ہر کسی کو اسے آزمانے سے پہلے جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔‘‘ یہ تبصرے اس موضوع پر لوگوں کے مختلف تجربات اور خیالات کو ظاہر کرتے ہیں۔

کچے اور پکے دودھ کے درمیان انتخاب ایک پیچیدہ فیصلہ ہے جو صحت، حفاظت، اور ذاتی ترجیحات پر منحصر ہے۔ کچا دودھ اپنی قدرتی غذائیت کی وجہ سے کچھ افراد کے لیے پرکشش ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ منسلک خطرات، خاص طور پر بیکٹیریل انفیکشن، اسے ایک غیر محفوظ انتخاب بناتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں دودھ کی پروسیسنگ اور ہینڈلنگ کے معیارات ہر جگہ یکساں نہیں ہیں، کچا دودھ سنگین صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔

دوسری طرف، pasteurized دودھ ایک سائنسی طور پر تسلیم شدہ اور محفوظ آپشن ہے جو ہر عمر کے افراد کے لیے موزوں ہے۔ اگرچہ اس میں کچھ وٹامنز کی معمولی کمی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے فوائد اس کے نقصانات پر غالب ہیں۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں، جہاں دودھ کی سپلائی چین طویل اور پیچیدہ ہوتی ہے، pasteurized دودھ کا استعمال زیادہ محفوظ اور قابل اعتماد ہے۔

تاہم، یہ بھی ضروری ہے کہ دیہی علاقوں میں دودھ کے حصول اور ہینڈلنگ کے معیارات کو بہتر بنایا جائے تاکہ کچا دودھ پینے والوں کے لیے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ دودھ کی پروسیسنگ کے لیے جدید سہولیات فراہم کرے اور عوام میں آگاہی پھیلائے کہ کچا دودھ صرف اسی صورت میں محفوظ ہو سکتا ہے جب اس کی پاکیزگی کی ضمانت ہو۔

اس کے علاوہ، یہ بحث پاکستانی معاشرے میں صحت اور غذائیت کے بارے میں بڑھتی ہوئی آگاہی کی عکاسی کرتی ہے۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی صحت کے مطابق فیصلہ کریں اور دودھ کا انتخاب کرتے وقت اپنے معالج سے مشورہ کریں، خاص طور پر اگر وہ لیکٹوز عدم برداشت یا دیگر صحت کے مسائل کا شکار ہیں۔ بالآخر، pasteurized دودھ زیادہ تر لوگوں کے لیے ایک محفوظ اور متوازن انتخاب ہے، جبکہ کچا دودھ صرف مخصوص حالات میں اور مکمل احتیاط کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین