روس کے مشرقی علاقے کمچاتکا جزیرہ نما کے قریب ساحل پر ہفتے کے روز ایک طاقتور زلزلے نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا، جس نے نہ صرف مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلایا بلکہ بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں میں سونامی کے خطرے کی گھنٹی بھی بجا دی۔ جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنسز (GFZ) کے مطابق، اس زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.1 تھی، جبکہ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) نے اسے 7.4 شدت کا قرار دیا۔ یہ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10:37 بجے آیا اور اس کا مرکز سمندر کے نیچے تقریباً 10 سے 39.5 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ بحرالکاہل کے سونامی وارننگ سسٹم نے فوری طور پر سونامی کی ممکنہ لہروں کا انتباہ جاری کیا، تاہم جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے کوئی سونامی وارننگ جاری نہیں کی۔ یہ واقعہ کمچاتکا کے لیے ایک اور یاد دہانی ہے کہ یہ علاقہ زلزلوں اور سونامیوں کے لیے کتنا حساس ہے۔
زلزلے کی تفصیلات
زلزلے کا مرکز کمچاتکا کے مشرقی ساحل سے تقریباً 111.7 کلومیٹر (69.3 میل) دور بحرالکاہل میں واقع تھا، جو پیٹروپاولوسک-کمچاتسکی سے 70 میل مشرق میں ہے، جہاں کی آبادی تقریباً 165,000 ہے۔ GFZ کے مطابق، زلزلے کی گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی، جو اسے ایک سطحی زلزلہ بناتی ہے اور اس کے اثرات کو زیادہ شدید کرتی ہے۔ دوسری طرف، USGS نے زلزلے کی گہرائی 39.5 کلومیٹر بتائی، جس سے شدت اور گہرائی کے اعداد و شمار میں کچھ اختلاف سامنے آیا۔
زلزلے کے جھٹکوں نے پیٹروپاولوسک-کمچاتسکی کے رہائشیوں کو گھروں، دفتروں، اور شاپنگ سینٹرز سے باہر نکلنے پر مجبور کیا۔ مقامی خبر رساں ایجنسی RIA Novosti کے مطابق، شہریوں نے چند سیکنڈ تک جاری رہنے والے شدید جھٹکوں کی اطلاع دی۔ کمچاتکا کرائی کے گورنر ولادیمیر سولوڈوف نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا کہ سونامی کا خطرہ موجود ہے، اور ساحلی علاقوں میں رہنے والوں کو ساحل سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم، ابتدائی رپورٹس کے مطابق، فوری طور پر کوئی بڑا نقصان یا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
سونامی کا خدشہ
بحرالکاہل کے سونامی وارننگ سسٹم (PTWC) نے زلزلے کے فوراً بعد انتباہ جاری کیا کہ زلزلے کے مرکز سے 300 کلومیٹر (186 میل) کے دائرے میں واقع ساحلی علاقوں میں 0.3 سے 1 میٹر بلند سونامی لہریں ممکن ہیں۔ اس انتباہ نے کمچاتکا کے ساحلی شہروں اور گاؤں والوں میں تشویش پیدا کر دی۔ تاہم، جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے واضح کیا کہ جاپان کے مشرقی ساحلوں کے لیے فوری طور پر کوئی سونامی خطرہ نہیں ہے۔
نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق، ممکنہ سونامی لہریں کمچاتکا کے قریبی ساحلوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں، لیکن جاپان، ہوائی، اور دیگر بحرالکاہل جزائر کے لیے لہروں کی شدت 30 سینٹی میٹر سے کم رہنے کا امکان ہے۔ بعد میں جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق، سونامی کا خطرہ کم ہو گیا، اور کچھ علاقوں میں انتباہ واپس لے لیا گیا، لیکن ماہرین اب بھی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
کمچاتکا
کمچاتکا جزیرہ نما بحرالکاہل کے ’’رنگ آف فائر‘‘ کے شمالی سرے پر واقع ہے، جو دنیا کا سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقہ ہے۔ یہ خطہ ٹیکٹونک پلیٹس کی سرگرمیوں کی وجہ سے مسلسل زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کا شکار رہتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، کمچاتکا نے متعدد بڑے زلزلوں کا سامنا کیا ہے، جن میں جولائی 2025 کا 8.8 شدت کا زلزلہ بھی شامل ہے، جو 1952 کے بعد سب سے بڑا زلزلہ تھا۔ اس زلزلے نے 4 میٹر بلند سونامی لہریں پیدا کیں اور بحرالکاہل کے وسیع علاقوں، بشمول ہوائی اور جاپان، میں ہنگامی انخلا کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔
1952 میں کمچاتکا میں 9.0 شدت کے زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی اور ہوائی میں 9.1 میٹر بلند لہریں پیدا کی تھیں، لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح، اگست 2025 میں کمچاتکا کے کراشیننکوف آتش فشاں کے پھٹنے نے بھی علاقے کی سمندری سرگرمی کو بڑھاوا دیا تھا۔ یہ حالیہ زلزلہ اس خطے کی مسلسل سمندری عدم استحکام کی ایک اور مثال ہے۔
مقامی اور عالمی ردعمل
زلزلے کے بعد، کمچاتکا کے مقامی حکام نے فوری طور پر ہنگامی اقدامات شروع کیے۔ گورنر سولوڈوف نے کہا کہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، اور ساحلی علاقوں میں رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ روس کی ایمرجنسی منسٹری نے بھی تصدیق کی کہ فی الحال کوئی بڑی تباہی رپورٹ نہیں ہوئی، لیکن وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی سطح پر، سونامی وارننگ سسٹم نے بحرالکاہل کے دیگر ممالک، جیسے جاپان، ہوائی، میکسیکو، اور نیوزی لینڈ، کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے اپنے شہریوں کو یقین دلایا کہ فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن وہ صورتحال کی نگرانی جاری رکھے گی۔ ایکس پر صارفین نے اس زلزلے پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ کچھ نے کمچاتکا کے خوبصورت مناظر اور اس کی سمندری سرگرمیوں کے بارے میں تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’کمچاتکا کے زلزلے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ فطرت کتنی طاقتور ہے۔ دعا ہے کہ کوئی نقصان نہ ہو۔‘‘
کمچاتکا میں 7.1 (یا USGS کے مطابق 7.4) شدت کا زلزلہ ایک بار پھر اس خطے کی سمندری حساسیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ’’رنگ آف فائر‘‘ میں واقع ہونے کی وجہ سے، کمچاتکا مسلسل زلزلوں اور سونامیوں کے خطرے سے دوچار ہے۔ حالیہ زلزلہ، اگرچہ جولائی 2025 کے 8.8 شدت کے زلزلے سے کم شدید تھا، پھر بھی ایک سنگین یاد دہانی ہے کہ اس خطے کے رہائشیوں اور حکام کو ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔
سونامی کا خطرہ، جو ابتدائی طور پر PTWC نے رپورٹ کیا، خوش قسمتی سے کم ہو گیا، لیکن اس نے بحرالکاہل کے ساحلی ممالک کے لیے ایک اہم سبق دیا کہ وہ اپنے ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط رکھیں۔ جاپان، جو 2011 کے تباہ کن زلزلے اور سونامی سے سبق سیکھ چکا ہے، نے فوری طور پر اپنی نگرانی کو فعال کیا، جو ایک قابل تحسین عمل ہے۔
تاہم، اس زلزلے نے یہ بھی ظاہر کیا کہ سمندری سرگرمیوں کی درست پیش گوئی اور اعداد و شمار کی یکسانیت اب بھی ایک چیلنج ہے۔ GFZ اور USGS کے درمیان شدت اور گہرائی کے اعداد و شمار میں اختلاف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سمندری تحقیق میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔
پاکستان جیسے ممالک، جو خود زلزلہ خیز زون میں واقع ہیں، کے لیے کمچاتکا کا یہ واقعہ ایک سبق ہے کہ وہ اپنے زلزلہ اور سونامی سے بچاؤ کے نظام کو مضبوط کریں۔ کراچی اور گوادر جیسے ساحلی شہروں میں سونامی وارننگ سسٹم اور انخلا کے منصوبوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
ویب پر موجود معلومات سے یہ بات واضح ہے کہ کمچاتکا کا یہ زلزلہ، اگرچہ فوری طور پر بڑے نقصانات کا باعث نہیں بنا، لیکن اس نے عالمی سطح پر سمندری خطرات سے نمٹنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ حکومتیں اور سائنسی اداروں کو چاہیے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، جیسے زلزلہ پیما سینسرز اور سونامی وارننگ سسٹمز، میں سرمایہ کاری کریں تاکہ مستقبل میں ممکنہ تباہیوں سے بچا جا سکے۔ ویٹومیر کے 29 منٹ تک سانس روکنے کے ریکارڈ سے متاثر ہو کر، ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ فطرت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاری اور صبر دونوں ضروری ہیں۔





















