پشاور میں ڈی آر سیز کی حلف برداری تقریب، انصاف کی دہلیز پر ایک نیا قدم

سی سی پی او پشاور کی قیادت میں پولیس اصلاحات، میرٹ اور شفافیت کا عزم

خیبرپختونخوا کی صدیوں پرانی پختون روایات اور رسم و رواج کو زندہ رکھتے ہوئے، تنازعات کے حل کے لیے قائم ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیوں (ڈی آر سیز) کو مزید فعال بنانے کے لیے نئے ممبران کا انتخاب کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے پشاور کے ملک سعد شہید پولیس لائن میں ایک پروقار حلف برداری تقریب کا اہتمام کیا گیا، جہاں نو منتخب چیئرمین اور ممبران نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔

ڈی آر سیز کی شاندار کارکردگی، عوام کا اعتماد

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشاور میں ڈی آر سیز کی کارکردگی نہایت حوصلہ افزا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 11,977 تنازعات فریقین کی باہمی رضامندی سے خوش اسلوبی سے حل کیے جا چکے ہیں۔ عوام کا ڈی آر سیز کی طرف بڑھتا ہوا رجحان اور ان پر اعتماد ان کمیٹیوں کی اہمیت اور افادیت کا واضح ثبوت ہے۔

سستا اور فوری انصاف، ڈی آر سیز کی کامیابی

ڈاکٹر میاں سعید احمد نے کہا کہ ڈی آر سیز کے قیام سے مظلوم عوام کو ان کی دہلیز پر سستا، فوری اور باوقار انصاف میسر ہوا ہے، جو ایک عظیم کامیابی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فریقین کے درمیان باہمی رضامندی سے تنازعات کا حل ان کمیٹیوں کی کامیابی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

نئے ممبران پر اعتماد، انصاف کا نیا عہد

سی سی پی او نے نئے منتخب ممبران پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہریوں اور فریقین کے درمیان انصاف پر مبنی فیصلے کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئے ممبران عوام کے اعتماد پر پورا اتریں گے اور ڈی آر سیز کے کردار کو مزید مستحکم کریں گے۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے تقریب سے خطاب
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کا تقریب سے خطاب

تقریب میں شرکت، ایک متحدہ عزم

تقریب میں ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد، ڈویژنل ایس پیز، تمام ڈی آر سیز کے چیئرمین، پرانے اور نئے ممبران نے شرکت کی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پشاور میں تنازعات کے حل کے لیے ایک متحدہ عزم موجود ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی و تجزیہ کار محمد کاشف جان نے اس حوالے سے کہا کہ

ڈی آر سیز کا قیام خیبرپختونخوا میں تنازعات کے حل کے لیے ایک انقلابی اقدام ہے۔ یہ کمیٹیاں نہ صرف پختون روایات کے مطابق جرگہ سسٹم کی جدید شکل ہیں بلکہ انہوں نے انصاف کے حصول کو آسان، سستا اور تیز تر بنا دیا ہے۔ 11,977 تنازعات کا حل اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام کو عدالتی نظام کے طویل اور مہنگے عمل سے نجات مل رہی ہے۔ ڈی آر سیز کی کامیابی کا راز ان کا غیر جانبدارانہ اور باہمی رضامندی پر مبنی فیصلہ سازی کا عمل ہے، جو فریقین کے درمیان نہ صرف تنازعات کو حل کرتا ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

نئے ممبران کا انتخاب اور ان کی حلف برداری اس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ سی سی پی او کا خطاب نہ صرف ڈی آر سیز کی کارکردگی کی تعریف کرتا ہے بلکہ نئے ممبران کے لیے ایک واضح رہنما اصول بھی فراہم کرتا ہے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں۔ تاہم، ڈی آر سیز کے سامنے چیلنجز بھی موجود ہیں، جیسے کہ بڑھتی ہوئی تعداد میں تنازعات اور پیچیدہ سماجی مسائل۔ اس کے لیے نئے ممبران کو تربیت، وسائل اور مقامی سطح پر بھرپور تعاون کی ضرورت ہوگی۔

ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹیاں (ڈی آر سیز) خیبرپختونخوا میں پولیس اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر قائم کی گئیں تاکہ تنازعات کے حل کے لیے ایک متبادل نظام فراہم کیا جا سکے۔ یہ کمیٹیاں مقامی سطح پر تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کرنے کے لیے بنائی گئی ہیں، جو روایتی جرگہ نظام سے متاثر ہیں لیکن جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالے گئے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد عدالتی نظام پر بوجھ کو کم کرنا، عوام کو فوری انصاف فراہم کرنا، اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔ پشاور جیسے شہر میں، جہاں تنازعات کی تعداد زیادہ ہے، ڈی آر سیز نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور عوام کے اعتماد کو جیتنے میں کامیاب رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین